کوئٹہ جرائم پیشہ عناصر و خواتین ڈکیتوں کی آماجگاہ بن گیا
کوئٹہ(نامہ نگار)شہر و گردونواح جرائم پیشہ عناصر و خواتین ڈکیتوں کی آماجگاہ بن گیا جرائم پیشہ عناصر سے نہ کوئٹہ کے شہری محفوظ نہ پردیسی محفوظ تحصیل بھاگ کے رہائشی چوروں ڈکیتوں کے خصوصی نشانے پر بدامنی اور گرمی کی ستائی ہوئی بھاگ کی عوام کوصوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بھی تحفظ نہ مل سکا ہے درپے وارداتوں میں تحصیل بھاگ و کوئٹہ کے رہائشی اپنی زندگی بھر کی پونجی سے محروم چابی چوروں نے قیدی کو علاج کے لیے لانے والے پولیس اہلکار کو نہ بخشا ہسپتال سے موٹر سائیکل لے اڑے چوری ڈکیتی سے متاثرہ افراد کے ساتھ ایس ایچ او نیو سریاب کسٹم تھانے کے ناروا رویے نے پوری کردی ایس ایچ او متاثرہ افراد سے ملنے کے لیے تیار نہیں سائلین انصاف کے لئے رل گئی
متاثرہ افراد کا اعلی حکام سے مسروقہ سامان کی برآمدگی اور ایس ایچ او کے ناروا رویے کا نوٹس لینے کا مطالبہ رپورٹ کے مطابق کوئٹہ شہر چوروں ڈکیتوں اور جرائم پیشہ افراد کی آماجگاہ بن گیا ،کچھی بھاگ سے گرمی اور چوروں ڈکیتوں کی ستائی ہوئی بھاگ کی عوام کو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بھی تحفظ نہ مل سکا کوئٹہ شہر و دیگر علاقوں کے پردیسی آئے روز چوروں ڈکیتوں کے نشانے پر ہے چند دن قبل برما ہوٹل کے ایریا میں خواتین ڈکیتوں کا گروہ گھر میں گھس کر بھاگ کی فیملی سے لاکھوں روپے لوٹ لئے قبل ازیں بھاگ کے سٹوڈنٹ سبحان اصغر مغیری سے سریاب ریلوے اسٹیشن کے سامنے دن دیہاڑے ڈاکوں نیو سی ڈی موٹر سائیکل اور بھاری مالیت کا موبائل چھین کر فرار ہوگئے جس کی ایف آئی آر بھی متعلقہ تھانے میں درج ہوچکی ہے ڈیڑھ ماہ سے زائد عرصہ گزر گیا لیکن پولیس ملوث ملزمان کو گرفتارکرنے میں تاحال ناکام ہے ستم ظریفی یہ کہ سریاب کسٹم تھانے کا ایس ایچ او دادرسی تو کجا متاثرین سے ملنا بھی گوارہ نہیں کرتے جس سے متاثرہ مغیری قبیلے میں سخت تشویش پائی جاتی ہے مغیری قبیلے نے میڈیا کے توسط سے ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ آئی جی بلوچستان سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ بصورت دیگر سخت احتجاج کیا جائے گا


