یہاں ووٹ بکے، اسمبلیاں بکیں، انتخابات میں اربوں، کھربوں کی لین دین ہوئی، محمود خان اچکزئی
کوئٹہ، اسلام آباد (آن لائن) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ تین سال پہلے میں کہتا رہاکہ خدا کیلئے پاکستان کا بحران بہت شدید ہورہا ہے اسٹیبلشمنٹ سمیت آئیں ہم سب مل بیٹھ کے گول میز کانفرنس بلائیں جس میں جرنلسٹ، جرنیل، دانشور ، دانش خور بھی ہوں اگر اسٹیبلشمنٹ سے ہم نے بات کرنی ہے یا کوئی کہتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنی چاہیے تو میری ایماندارانہ رائے یہ ہے کہ ہمیں ان سے بات اس بنیاد پر کرنی ہوگی کہ اُنہیں ہم باعزت طریقے سے سیاست سے نکلنے کا راستہ دکھائیں اس حد تک مذاکرات ہوسکتے ہیں۔ عمران خان کو پائلٹ ،محمود خان کو ٹینکوں کا کمانڈر ،حامد رضا کو فوجوں کا کمانڈر انچیف بنانا ہے تو یہ غلط ہوگا ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ملک کے ہر ادارے کا سرکاری ملازم اپنے آئینی ادارے کے اندر کام کرے ، ملک کے سیاسی فیصلے اسٹیبلشمنٹ کے بجائے سیاسی لوگوں کو کرنا ہونگے۔ اسٹیبلشمنٹ کے فیصلوں کا تجربہ سویت یونین میں ناکام ہوچکا ہے۔ اور ہم نے کم سے کم نکات پر اتحاد بنایا ہے اور اس میں جو پارٹیاں شامل ہیں یہ ان کے متفقہ نقاط ہیں ، ان نقاط پر پاکستان کے تمام لوگ متفق ہوسکتے ہیں اور یہی بہترین راستہ ہے ۔ ملک میں آئین سپریم ہوگااور آئینی ادارے میں اپنے دائرے کر اندر اختیارات کے استعمال کے پابند ہونگے۔ عوام کی منتخب حقیقی پارلیمنٹ با اختیار ہوگی ، ملک کی داخلہ وخارجہ پالیسیاں پارلیمنٹ تشکیل کرے گی ، ملک کی آئین میں تمام اداروں کے اختیارات کا تعین ہوچکا ہے۔ ان خیالات کا اظہار محمود خان اچکزئی نے ایک نجی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یہاں انتخابات میں ایک سیٹ کو بدلنے کیلئے 70کروڑ روپے لیے گئے ہیں، ستر کروڑ روپے سے ہمارے تین چار ضلعے تین چار مہینے چل سکتے ہیں اور غریبوں کو کھانا دے سکتے ہیں۔ بے انصافی کدورتوں اور نفرتوں کو جنم دیتی ہیں اور نفرتیں جنگوں کو جنم دیتی ہیں۔ لوگ نہیں سمجھتے میں کئی عرصے سے یہ راگ الاپ رہا ہوں لیکن کوئی سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کررہا ہے۔ 1945ءمیں دنیا کے نقشے پر آزاد ملکوں کی تعداد 70سے کم تھی اب وہ 194ہوگئے ہیں یہ آسمان سے نہیں گرے یہ ممالک۔ بے انصافیوں کی وجہ سے ممالک ٹوٹے ہیں لڑ لڑ کے ٹوٹے ہیں اور اسی میں ہمارا ملک بھی ٹوٹ چکا ہے۔ ہم نے انگریزوں کو کیوں بھگایا۔ انگریزوں نے ہمیں بہترین سڑکوں، ہسپتالوں، پولیس اور جوڈیشری کا نظام دیا جسے ہم جاری نہ رکھ سکے، انگریز سارے ہندوستان کو لوٹ بھی رہے تھے اور ہم نے اپنے حق حکمرانی کیلئے جدوجہد کی اور حق حکمرانی آگئی انگریز چلے گئے لیکن آپ نے قوموں اور عوام کی حق حکمرانی تسلیم نہیں کی۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ زرداری صاحب میرے دوست جو اس وقت صدر پاکستان ہیں وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کھپے۔ زرداری صاحب پڑھے لکھے آدمی ہیں۔ 75سال سے ہمارا سینٹ عزر لنگ ہے ان کے پاس اختیارات نہیں۔ زرداری صاحب مہربانی کریں لکھیں پارلیمنٹ کو کہ سینٹ کو وہ اختیارات دو جو قومی اسمبلی کے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی لکھ دو کہ اس ملک میں آباد تمام قومیتوں کے اپنے اپنے تاریخی وطنوں میں جو سائل اللہ تعالیٰ نے پیدا کیئے ہیں ان پر پہلا حق وہاں کے بچوں کا ہوگا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پشتون بلوچ سب ملا کر بلوچستان صوبے میں جس کا رقبہ بہت بڑا ہے لیکن پشتون بلوچ سب پنجاب کے ایک ضلع کے برابر آبادی ہے اور ہمارے وسائل اربوں ڈالر کے ہیں لیکن لوگ بھوکے مررہے ہیں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہر بربادی کا علاج آخر مذاکرات ہیں ہم نے یہ تجویز دی کہ یہ اتحاد ایک ڈوبتے جہاز سے ایک SOSمیسج ہے ہم نے ہی مل بیٹھ کر اس بحرانوں کو ختم کرنا ہے۔ عمران خان، نواز شریف کی پارٹی، پیپلز پارٹی، جمعیت علماءاسلام،دوسری پارٹیاں ان کے اکابرین مل بیٹھ کے سرجوڑ کے ایک دوسرے کیلئے جو خدشات، دوریاں اور بد اعتمادیاں ہیں ان کا حل نکالیں ایک بات طے ہے کہ مینڈیٹ واپس کرنا ہوگا۔ تحریک انصاف کا ورکر بڑے غصے، جوش میں ہیں۔ ایک یہ ہے کہ بنگلہ دیش کی طرح پارٹیوں سے کہا جائے اللہ اکبر لیکن اس ملک میں اس بات کی سکت نہیں۔ دوسرا حل یہی ہے کہ نئے الیکشن کرائے جائیں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اس گرمی میں آپ نے صوابی کا جلسہ نہیں دیکھا، عمران خان جیل میں ہے نیچے لوگوں میں کچھ وہ بھی ہے صوابی کے جلسے میں تمام عوام غریب، امیر، ایم پی ایز، ایم این ایز بڑے جوش وجذبے سے شامل ہوئے تھے۔ مرکزی حکومت عقل کے ناخن نہیں لینگے تو بالا آخر لوگ نکل آئینگے۔ جماعت اسلامی کے لوگ خوش قسمت ہیں ان کے پاس کوئی گیدڑ سنگی ہوگی وہ لوگ 4گھنٹے ٹی وی پر بولتے ہیں کوئی منع نہیں کرتا۔ عمران خان کی پارٹی،وحدت المسلمین اور ہمارے اتحادیوں کو تو پارلیمنٹ میں بھی بولنے نہیں دیا جاتا ان کی تقریروں کو سنسر کیا جاتا ہے۔ یہ بات آرمی چیف بھی جانتا ہے وہ حافظ القرآن ہے کہ یہ کس قسم کے الیکشن ہوئے تھے۔ ساری پارٹیاں کہتی ہیں ووٹ بکے ہیں، اسمبلیاں بکی ہیں،انتخابات میں اربوں،کھربوں کی لین دین ہوئی ہے اور یہ بات ترکی، سعودی، برطانیہ، یورپ، امریکہ بھی جانتا ہے۔ امریکہ کے سینٹ میں اس پر بات ہوئی ہے لیکن ایک ہم ہیں کے ڈٹے ہوئے ہیں اور یہ اس ملک کی بربادی ہے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اب جو الزامات ہیں پی ٹی آئی پر کہ وہ انتشار پھیلا رہی ہے تو اس انتشار پھیلانے والے کو آپ نے پہلے کیوں حکومت دی وہ تو شہرت کی اس بلندی پر نہیں تھا اس وقت آپ نے اس کو پاکستان کے سارے اختیارات کیوں حوالے کیئے اور جب وہ وزیر اعظم تھے تو کبھی آپ نے الزام نہیں لگایا کہ اس نے یہ کیا ہے وہ کیا ہے۔ اب وہ پاکستان کا سب سے پاپولر لیڈر ہے ایک بات جو میں بار بار اپنے انٹرویوز میں کہتا رہا کہ عمران خان کو اسمبلی لے آ¶ یہ اب پتہ چلا کہ وہ ممبر نہیں ہے۔ عمران خان جتنی سیٹوں پر کھڑا ہوا ساری جیت لیں۔ شیرپا¶ صاحب، مولانا صاحب والی ساری سیٹیں جیت لیں۔ دنیا میں لوگ اپنے اداروں کی آزادی کو سپورٹ کرتے ہیں ہم اداروں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑی کرنے کی فکر میں ہیں یہ قابل مذمت بات ہے۔ عدالت نے ایک فیصلہ کیا ہے یہاں اسمبلی میں اسپیکر 5لاکھ لوگوں کے نمائندے کو بولنے نہیں دیتا۔ ججوں نے لکھا کہ ہمیں دھمکایا جارہا ہے اس پر اگر کوئی اور پارلیمنٹ ہوتی دس دن بحث کرتی، اسپیکر آرام سے بیٹھا ہوتا ہے، کرم ایجنسی میں 35انسان مارے گئے نہ یہاں پارلیمنٹ میں اس پر کسی کو بولنے دیا گیا اور نہ وہاں آئی جی پولیس ایف سی یا کسی نے حرکت کی؟ ہم آخر اس پارلیمنٹ میں تنخواہیں لینے کیلئے آئے ہیں ایسے ایسے اجلاس ہوئے ہیں جو صرف ایک گھنٹے کیلئے چلے ہیں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہماری ایجنسیوں کو پہلی دفعہ پتہ نہیں کیوں میاں محمد نواز شریف صاحب یہ اجازت دیتے ہیں کہ لوگوں کے کال ٹیپ کرو۔ ایجنسیاں تو ویسے ہی ٹیب کرتی ہیں لیکن عدالتیں اجازت نہیں دیتی۔ اب ان کو ایک آفیشل بلینکٹ پاور دے دیا گیا اور پھر اس بات پر آپ کسی کو بولنے نہیں دیتے۔ آئینی طور پر یہ پارلیمنٹ کی تقریر پہ آ پ کو کوئی عدالت نہیں بلاسکتی کہ پارلیمنٹ میں جو بولنا ہے آپ بول سکتے ہیں لیکن وہاں جب آپ کو بولنے کی اجازت نہ ہو اور ان کے یار لوگوں کو ٹیلی ویژنوں پر گھنٹوں بولنے دیا جاتا ہو تو یہ ٹھیک نہیں۔ کسی چیز کو آپ تجدید میں نہیں لے سکتے۔ پاکستان ایک ملک ہے ہم اس دنیا میں رہتے ہیں جو بالکل ایک گوبل ویلج بن گئی ہے تمام دنیا میں اسٹیبشلمنٹ ہیں، بڑی بڑی خطرناک فوجیں ہیں،خطرناک ہتھیار ہیں، روس، چین، امریکہ کے اسلحہ خانوں میں آج بھی اتنے خطرناک بم پڑے ہوئے ہیں جو اس ویلج کو دو دفعہ جلاسکتے ہیں وہ اسٹیبلشمنٹ جس طرح اپنے ملکوں میں گزارہ کررہے ہیں ہماری اسٹیبلشمنٹ کو بھی وہ کرنا ہوگا ہماری اسٹیبلشمنٹ کتابیں پڑھتی ہیں، ہندوستان، فرانس اور کسی بھی ملک کی اسٹیبلشمنٹ اس قسم کی مداخلت نہیں کرتی۔ اسٹیبلشمنٹ کی ڈیوٹی ہوتی ہے کہ وہ اپنے اکابرین کو بتاتی ہیں کہ فلاں ملک سے یہ خطرہ ہے فلاں کے ساتھ ایسے تعلاقات ہونے چاہیں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وہ ملک چل ہی نہیں سکتا جس کے پاس فوج نہ ہو، جس کی ایجنسیاں کمزور ہوں، ایجنسیاں کسی ملک کی کان اور آنکھیں ہوتی ہیں، ہماری اسٹیبلشمنٹ گدلے پانی میں سوئی ڈھونڈ لیتی ہے اور جب نہیں کرنا چاہتی تو اُنہیں ہاتھی نظر نہیں آتا۔ ایسا نہیں چلے گا آپ نے ملک کو مقدم رکھنا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں محمود خان اچکزئی نے کہا کہ تمام عقل وشعور رکھنے والے انسان اس ملک کے بحرانوں کو ہمارے اندرونی بدکاریوں، بدکرداریوں کا نتیجہ سمجھتی ہے خوداحتسابی کا عمل پہلے دن سے ہونا چاہیے تھا جس معاشرے میں انصاف نہیں ہوتا جہاں عدل نہیں ہوتی وہ معاشرہ نہیں چل سکتا، بے انصافی سگے بھائیوں کو لڑا دیتی ہے بہت پیارے میاں بیوی کو لڑا دیتی ہے باپ بیٹوں کو لڑا دیا ہے۔ ہم نے نہ کبھی اکابرین کی بات سمجھی نہ سنی۔ محمد علی جناح نے بار بار کہا کہ میرے جیب میں سارے کھوٹے سکے ہیں۔او روہ یہ بھی کہتے تھے کہ مجھے کیرم خوردہ پاکستان دیا گیا ہے۔


