پولیو مہم میں غفلت کے مرتکب 534 ورکرز کا احتساب، 74 ملازمت سے فارغ
کوئٹہ (آن لائن)ایمرجنسی آپریشن سینٹر بلوچستان کے کوآرڈینیٹر انعام الحق نے کہا ہے کہ بلوچستان میں امسال پولیو کے 12 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے 3 بچوں کی ہلاکت ہوئی ہے بلوچستان کو پولیو فری صوبہ بنانے کے لئے قومی اور صوبائی سطح پر چیلنجز سے نمٹنے کےلئے نئی حکمت عملی اپنا رہے ہیں تاکہ پولیو سے بچاﺅ کے قطرے پلانے کے اہداف کو پورا کیا جاسکے فیک پولیو مہم کا حصہ بننے اور فرائض میں غفلت برتنے والے 4 ہزار ورکروں میں سے 534 کا احتساب کرکے 74 کو ملازمتوں سے برخاست کیا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو اپنے دفتر میں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ڈبلیو ایچ او کے ڈاکٹر جہانزیب ، شاہ پور سلیمان، یونیسیف کے ڈاکٹر آفتاب کاکڑ ، ڈاکٹر مجیب اللہ مروت سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ انعام الحق نے بتایا کہ بلوچستان 28 ماہ تک پولیو فری صوبہ رہا ہے جہاں پر کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا تھا اس وقت بلوچستان کے 8 ڈویژن ، 36 اضلاع اور تمام یونین کونسلز سمیت 2024ءمیں صوبے کے 20 اضلاع میں پولیو کے وائرس کی موجودگی پائی گئی ہے تمام علاقوں سے سیوریج کے پانی سے لئے گئے نمونوں میں گزشتہ سال ستمبر سے تقریباً 17 اضلاع میں پولیو وائرس ماحول میں موجود تھا اور امسال فروری میں بلوچستان سے پولیو وائرس کے کیسز رپورٹ ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت تک 15 پولیو کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے 12 کیسز بلوچستان سے رپورٹ ہوئے ہیں اور ان میں سے 3 بچے جو پولیو کا شکار تھے ان کی موت واقع ہوئی ہے جس میں ایک بچے کا تعلق قلعہ سیف اللہ، ایک کا تعلق کوئٹہ اور ایک کا تعلق خاران سے تھا خاران والا بچہ پولیو کا شکار تھا اور اس کی موت ڈائریا سے ہوئی ہے انہوں نے بتایا کہ پولیو جان لیوا مرض ہے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے بچوں کو عمر کے لئے اپاہج ہونے سے بچائیں اور انہیں پولیو کے قطرے ضرور پلائے انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں پولیو کے کیسز میں اضافے کی بڑی وجوہات لوگوں کی نقل مکانی ہے جس کی وجہ سے پولیو وائرس ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہورہا ہے اور دوسرا انکاری والدین ہیں جو اپنے بچوں کو پولیو سے بچاﺅ کے قطرے نہیں پلاتے اور بچوں میں غذائی قلت اور قوت مدافعت کی کمی کی وجہ سے ان پر پولیو وائرس حملہ کرتا ہے اور وہ پولیو کا شکار ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پولیو کیسز پھر سے بڑھنے کی چار وجوہات ہیں انسداد پولیو مہم کے دوران کوئٹہ بلاک کے کچھ علاقوں میں جعلی پولیو ویکسینشن کا انکشاف ہوا ہے بعض والدین پولیو ورکرز کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پلاتے پولیو ورکرز قطرے پلائے بغیر بچوں کی انگلیوں پر نشانات لگانے میں ملوث پائے گئے ہیں جعلی ویکسینشن پرکوئٹہ بلاک میں 534پولیو ورکرز کے خلاف محکمانہ کارروائی کی گئی ہے جعلی ویکسینشن ثابت ہونے پر 74 پولیو ورکرز کو ملازمت سے نکالا گیا ہے پولیو وائرس کے شکار بچوں کی موت بھی ہونے لگی ہے رواں سال پولیو کے شکار ہونے والے 12 میں سے 3 بچوں کی موت واقع ہوئی ہے خدشہ ہے کہ پولیو وائرس بھی ان کی وجہ موت ہوسکتی ہے حفاظتی ٹیکہ جات کی مکمل کوریج نہ ہونے، سرحدی علاقوں میں نقل و حمل بھی پولیو کے خاتمے میں رکاوٹ ہے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی بنائی ہے، میڈیا اور والدین تعاون کریںتاکہ اس بیماری سے بچوں کو بچایا جاسکے۔


