70کی دہائی تک آزادی کی کوئی تحریک نہیں تھی، بلوچ قوم پرست ضیا کے دوست اور مشرف کے دشمن تھے ،انوارکاکڑ
کوئٹہ(یو این اے )سابق نگران وزیر اعظم سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچ قوم پرست جنرل ضیا ءکے دوست اور جنرل مشرف کے دشمن تھے بلوچستان کی آزادی کی کوئی تحریک نہیں تھی 70کی دہائی میں صرف مری قبائل نے جنگ لڑی ہے برٹش بلوچستان قرارداد میں مرحوم نواب اکبر بگٹی نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا تھا ان خیالات کا اظہار انہوں نے( نجی ٹی وی)چینل سے خصوصی اینٹرویو میں کیا سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں پانچ خطے تھے ریاست قلات ریاست خاران ریاست بیلا ریاست مکران اور برٹش بلوچستان میں پشتون بیلٹ کوہلو ڈیرہ بگٹی اور تفتان شامل تھا بلوچستان میں سب سے پہلے نواب آف خاران عبدالرحمان نوشیروانی جام غلام قادر بیلا بھائی خان گچکی مکران نے دستاویزات پر دستخط کرکے انہوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا جو برٹش بلوچستان کا حصہ تھا انہو ں نے قرارداد پاس کی مرحوم نواب اکبر بگٹی نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا تھا جب قلات نیشنل پارٹی بنی تو انہوں نے ایک ریزولیشن پاس کی کہ ریاست قلات کو پاکستان میں شامل نہیں ہونا چاہیے تھا اس وقت غوث بخش بزنجو فاونڈر تھے وہ متحدہ ہندوستان کے ساتھ رہنے والے لوگوں میں سے تھے بلوچ قوم پرست جنرل ضیا کے دوست اور جنرل مشرف کے دشمن تھے تاریخ میں بلوچستان کی آزادی کی کوئی تحریک نہیں تھی 70کی دہائی میں صرف مری قبائل نے جنگ لڑی ہے انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس مرتبہ ہم نے جنگ پاکستان کی ریاست کے خلاف شروع کریں گے اور یہ مکران گوادر بیلا تک جہاں جہاں بلوچ قبائل موجود ہے وہاں اس جنگ کو پھیلا دیا جائے گا میں سمجھتا ہوں کہ وہ کامیاب ہوئے ہیں


