کمیٹی برائے کھیل کا غیر متعلقہ مقاصد کی سرگرمیوں کے لیے اسپورٹس کمپلیکس کے استعمال پر تشویش کا اظہار

کوئٹہ(یو این اے )چیئرمین رحمت صالح بلوچ کی سربراہی میں کمیٹی برائے کھیل نے بلوچستان میں کھیل سے متعلق مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے اجلاس منعقد کیااجلاس میں ڈاکٹر محمد نواز کبزئی، سنجے کمار، اور صفیہ بی بی، سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ اسپیشل سیکرٹری عبدالرحمن ڈی جی اسپورٹس یاسربازئی نے شرکت کی ڈائریکٹر جنرل کھیل نے کمیٹی کو محکمے کی ذمہ داریوں، کاموں، اور چیلنجوں کے بارے میں بریفنگ دی کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ 2024-25 میں کھیل کے شعبے میں 37 نئی اسکیمز جاری ہیں، جن کی مجموعی لاگت 1385.560 ملین روپے ہے۔ مزید برآں، 95 جاری اسکیموں کی مجموعی لاگت 17611.832 ملین روپے ہے اسوقت محکمہ 25 کھیل کے کمپلیکس اسکیموں پر بھی کام کر رہا ہے محکمے نے اپنے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اسوقت محکمے کو انکریچمنٹ، ناکافی بجٹ، اور ایوب اسپورٹس کمپلیکس میں پولیس میںنان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو تحویل میں لے کر اسپورٹس کمپلیکس میں کھڑی کی ہوئی ہے جس سے اسپورٹس محکموں کو مسائل کا سامنا درپیش ہے محکمے نے مطالبہ کیا کہ کھیل کے محکمے کو منصوبوں کو مثر طریقے سے سر انجام دینے کے لیے انجینئرنگ ونگ جن کا اسپورٹس میں Expertise ہو، کی اشد ضرورت ہے چیئرمین رحمت صالح بلوچ نے محکمہ کو یقین دلایا کہ کمیٹی انجینئرنگ ونگ کے قیام میں مدد کرے گی کمیٹی نے گرانٹ ان ایڈ کو 300 ملین سے 500 ملین رکھنے کی سفارش کی تاکہ محکمہ اپنے مالی چیلنجوں سے آسانی سے نمٹ سکے کمیٹی نے بین الاقوامی سطح پر ملک کی نمائندگی کرنے والے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا کمیٹی نے ضلع ، ڈویژنل ، صوبائی اور قومی سطح پر نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے کھیلوں کے بجٹ میں اضافے کی بھی سفارش کی کمیٹی نے متفقہ فیصلہ کیا کہ آج کی اجلاس کی تمام سفارشات کو ایوان میں پیش کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں