اسلام آباد میں احتجاج کی دھمکی، وزیراعظم کا مولانا فضل الرحمٰن سے رابطہ، مدارس بل پر تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی
اسلا م آباد(مانیٹر نگ ڈیسک)جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے دینی مدارس سے متعلق بل منظور نہ کیے جانے کی صورت میں احتجاج کےلیے اسلام آباد کا رخ کرنے کی دھمکی سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمٰن سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور انہیں پارٹی کے تمام تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔جے یو آئی (ف) کے مرکزی ترجمان اسلم غوری کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف اور جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانافضل الرحمٰن کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے، اس دوران مولانا فضل الرحمٰن نے وزیر اعظم کو مدارس رجسٹریشن بل پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔بیان میں کہا گیا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت متفقہ بل کو متنازع بنانے سے گریز کرے، ہم اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور مدارس کی آزادی اور حریت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔ترجمان جے یو آئی (ف) اسلم غوری کے مطابق وزیر اعظم نے پارٹی سربراہ کو بل پر تمام تحفظات کو دور کرنے کی یقین دہانی کروائی۔
یاد رہے کہ کچھ دیر قبل جمعیت علمائے اسلام (ف) نے دینی مدارس سے متعلق بل کی منظوری کے لیے وفاقی حکومت کو 8 دسمبر تک کی ڈیڈ لائن دی تھی، مولانا عبد الغفور حیدری کا نے متنبہ کیا ہے کہ 8 دسمبر تک بل منظور نہ کیا گیا تو اسلام آباد کا رخ کریں گے۔جمعیت علمائے اسلام کے سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ حکومت کو دینی مدارس کا بل ہر صورت میں منظور کرنا ہو گا،8 دسمبر تک بل منظور نہ کیا گیا تو اسلام آباد کا رخ کریں گے۔


