ہم نے کبھی علیحدگی کی بات نہیں کی،زیادتیوں کا ازالہ نہ ہوا تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں،اختر مینگل
کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی)کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ ہمارے وسائل سے لوٹ مارکرکے بلوچستان کا ستیاناس کر دیا گیا بلوچستان کو ایک برابر کے صوبے کی حیثیت سے تسلیم کیا جائے ہم نے ہمیشہ پرامن جدوجہد کی ہے کبھی علیحدگی کی بات نہیں کی ہے بلوچستان کے وسائل پر صوبے کے عوام کو اختیار دیا جائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان کے وسائل کو بے دردی سے لوٹ کر صوبے کا ستیاناس کر دیا گیا ہے۔ اگر سیاسی جماعتوں کا مقصد صرف اقتدار کا حصول نہ ہوتا تو حالات بہتری کی طرف جا سکتے تھے بدقسمتی سے ہم نے نہ صرف سیاسی جماعتوں کو آزمایا بلکہ ریاست اور ریاستی اداروں کو بھی سمجھانے کی کوشش کی کہ بلوچستان کو ایک برابر کے صوبے کی حیثیت سے تسلیم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بلوچستان کے لوگوں کو عزت دی جاتی اور ان کے وسائل پر خود ان کا اختیار ہوتا تو آج حالات مختلف ہوتے۔اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ پرامن جدوجہد کی ہے اور کچھ بھی غیر آئینی نہیں مانگا، لیکن ہماری آواز کو ہمیشہ دبایا گیا۔ "میں نے سپریم کورٹ میں اپنے مطالبات پیش کیے، چھ نکات رکھے، لیکن کوئی بھی نکتہ آئین سے ہٹ کر نہیں تھا۔ ہم نے کبھی علیحدگی کی بات نہیں کی، ہم نے صرف بلوچستان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے ازالے کا مطالبہ کیا اور ان زیادتیوں کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا کہا۔”بی این پی سربراہ نے مزید کہا کہ ہماری بات سننے کے بجائے ہمیں سیاسی میدان سے ہی باہر کر دیا گیا۔ "ہماری آواز کو برداشت نہیں کیا گیا اور ہمیں اسمبلی سے باہر کر دیا گیا، اب اختیارات ان لوگوں کے پاس ہیں جو فارم 47 کے ذریعے اقتدار میں لائے گئے۔ ہم بے بس ہو چکے ہیں، ہم نے تو ہاتھ اٹھا لیے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے وسائل پر صوبے کے عوام کو اختیار دیا جائے اور ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ کیا جائے، ورنہ حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔


