وفاقی بجٹ میں بلوچستان کیلئے 769.7 ارب روپے مختص، پسماندہ علاقوں کی ترقی بجٹ کا محور ہوگی، سرفراز بگٹی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت بجٹ کی تشکیل سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس۔ اجلاس میں بجٹ کی تیاری پر اتحادی جماعتوں سے تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، عوامی نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی اور بی اے پی کے پارلیمانی لیڈرز شریک تھے۔ اجلاس میں ارکان اسمبلی کی تجاویز کو بجٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بجٹ عوامی ضروریات اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر بنایا جا رہا ہے۔ عوامی فلاح اور پسماندہ علاقوں کی ترقی بجٹ کا محور ہوگی۔ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائیں گے۔ بجٹ میں تعلیم، صحت، روزگار اور امن و امان کو ترجیح دی جائے گی۔ علاوہ ازیں حکومت پاکستان نے مالی سال 26-2025 کے وفاقی بجٹ میں بلوچستان کے لیے مجموعی طور پر 769.7ارب روپے مختص کر دیے ہیں۔ اس رقم میں نیشنل فنانس کمیشن:این ایف سی: ایوارڈ کے تحت حصہ اور وفاقی ترقیاتی منصوبوں کے لیے علیحدہ فنڈز شامل ہیں۔سرکاری دستاویزات کے مطابق بلوچستان کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت ملک بھر کے صوبوں کے لیے مختص 57.5 فیصد حصے میں سے 9.09 فیصد دیا گیا ہے، جو قریبا 743 ارب روپے بنتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 26.73 ارب روپے کا علیحدہ بجٹ بھی رکھا ہے۔ترقیاتی فنڈز میں بنیادی ڈھانچے، صحت، تعلیم اور توانائی کے شعبوں میں اہم منصوبے شامل ہیں، جن کا مقصد بلوچستان میں ترقی کے عمل کو تیز کرنا اور عوامی فلاح کو یقینی بنانا ہے۔


