حب میں کسی بھی غیر مقامی کو ڈومیسائل جاری نہیں ہوا ، علی حسن زہری
حب (آن لائن) صوبائی وزیر برائے زراعت و کوآپریٹیوز بلوچستان اور رکن صوبائی اسمبلی میر علی حسن زہری نے نیشنل پارٹی کے سینئر نائب صدر رجب علی رند کے وضاحتی بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سابق وزیراعلی بلوچستان میرے بزرگ ہیں اور میں ان کی دل سے عزت کرتا ہوں۔ انہوں نے حب کے ڈومیسائل اور مقامی افراد کی اسناد کے حوالے سے جو بات کی تھی، اس پر میں نے گزارش کی تھی کہ اس معاملے کی تصدیق ان کے مقامی رہنما سے کر لی جائے۔ چنانچہ ڈاکٹر مالک بلوچ صاحب حب تشریف لائے جہاں رجب علی رند صاحب نے انہیں حقیقت سے آگاہ کیا جسے ڈاکٹر مالک بلوچ نے تسلیم کیا۔میر علی حسن زہری کی جانب سے سوشل میڈیا میں جاری کردہ بیاں میں کہا گیا ہے کہ یہ ا میرا یہی مقف ہے کہ کسی غیر مقامی کو ڈومیسائل جاری نہیں ہوا اور نہ ہی یہ کسی صورت برداشت کیا جائے گا جس بات کو ڈاکٹر مالک بلوچ صاحب نے تمام حقائق جان کر تسلیم کیا اور میرے موقف کی حمایت بھی کی ۔ البتہ گزشتہ 40 سے 50 سال سے حب میں آباد لوگوں کو ان کا حق مل رہا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر مالک بلوچ کا نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر وڈیرہ رجب علی رند صاحب کے ذریعے ترجمان نے پارٹی کا وضاحتی بیان کا خیر مقدم کیا اور رجب علی رند صاحب کا حقیقت واضح کرنے پر شکریہ بھی ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈومیسائل اور مقامی سرٹیفکیٹ بلوچستان میں رہنے والے ہر شہری کا حق ہے جو قواعد و ضوابط کے مطابق فراہم کیا جاتا ہے۔دوسری جانب نیشنل پارٹی ضلع حب کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ روز نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر و سابق وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی اسمبلی میں کی گئی تقریر کو بلاوجہ غلط رنگ دیا جارہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے صرف یہ نشاندہی کی تھی کہ ان کی معلومات کے مطابق حب میں غیر ملکیوں کو ڈومیسائل کا اجرا ہورہا ہے۔ترجمان نے کہا کہ نیشنل پارٹی نے ہمیشہ ضلع حب سمیت پورے بلوچستان کے ان مقامی باشندوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کی ہے جو صدیوں سے یہاں آباد ہیں۔ ہم نے کبھی بھی ان کے حقوق کی مخالفت نہیں کی بلکہ ہر فورم پر ان کے حق میں آواز بلند کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مقف واضح ہے کہ ضلع حب میں رہائش پذیر تمام افراد، جو قانونی تقاضوں اور قواعد و ضوابط پر پورا اترتے ہیں، ان کو بلا تفریق لوکل اور ڈومیسائل دیا جانا چاہیے۔ بدقسمتی سے لوکل کمیٹی میں نیشنل پارٹی کی نمائندگی شامل نہیں ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ نیشنل پارٹی کے پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ حب میں اچھے اور خوشگوار تعلقات ہیں۔ ہمارا یقین ہے کہ باہمی تعاون اور افہام و تفہیم کے ذریعے ہی عوامی مسائل کو بہتر انداز میں حل کیا جاسکتا ہے۔


