غزہ میں دس لاکھ بچے پانی اور خوراک کی شدید قلت کا شکار، ہسپتال تباہ، طبی سامان ناپید

غزہ (صباح نیوز)اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف)نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی انسانی صورتحال بدترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ تنظیم کے مطابق ایک ملین سے زائد فلسطینی بچے پانی اور خوراک کی شدید قلت میں مبتلا ہیں اور ہزاروں بچے ہر رات بھوکے سونے پر مجبور ہیں حالانکہ جنگ بندی کا معاہدہ نافذ ہے۔یونیسیف کی ترجمان ٹیس انگرام نے کہا کہ اگرچہ جنگ بندی ایک مثبت خبر ہے لیکن یہ بھوک کے خاتمے یا صاف پانی کی فراہمی کے لیے کافی نہیں، غزہ میں پانی اور صحت کی بنیادی تنصیبات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے اور فلسطینی خاندان روزانہ بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں کیونکہ اسپتال تباہ ہو چکے ہیں اور طبی سامان ناپید ہے۔یونیسیف نے کہا کہ غزہ میں انسانی امداد کے داخلے میں معمولی اضافہ ضرور ہوا ہے مگر یہ اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں انتہائی کم ہے اور عوام کی وسیع انسانی ضروریات پوری کرنے سے کوسوں دور ہے۔تنظیم کے مطابق غزہ کے ہزاروں بچے یا تو بھوکے سوتے ہیں یا اسپتالوں میں شدید تکلیف کے باوجود مناسب علاج سے محروم ہیں، کیونکہ ڈاکٹرز، ادویات اور طبی سامان کی شدید قلت ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی پناہ گزین (انروا)نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کے اندر پناہ گزین مراکز میں تعلیمی سرگرمیوں کے لیے عارضی تعلیمی مقامات کو وسعت دے رہا ہے، تاکہ جنگ کے بعد تدریجی طور پر تعلیمی عمل بحال کیا جا سکے۔انروا کے مطابق تقریباً 8 ہزار اساتذہ اور معلمات اگست 2024 سے ہی تدریسی عمل کی بحالی کی کوششوں میں مصروف ہیں، حالانکہ جنگ کے دوران سینکڑوں سکولوں اور تعلیمی ڈھانچوں کو تباہ کر دیا گیا۔اب تک انروا نے 67 پناہ گزین مراکز میں 485 عارضی تعلیمی جگہیں قائم کر لی ہیں اور ان میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ بے گھر بچوں کی تعلیم جاری رہ سکے۔ ساتھ ہی آن لائن تعلیم کے پروگرام بھی شروع کیے جا رہے ہیں جن کے ذریعے 3 لاکھ سے زائد طلبہ و طالبات تک رسائی ممکن بنائی جا رہی ہے۔انروا نے بتایا کہ وہ چند سکول جو ابھی قابلِ استعمال ہیں وہ بھی لاکھوں بے گھر فلسطینیوں کے رہنے کی جگہ بن چکے ہیں جس سے معمول کی کلاسوں کا انعقاد انتہائی مشکل ہو گیا ،تمام تر مشکلات اور تباہی کے باوجود فلسطینی عوام نے تعلیم کے تسلسل کے لیے خیموں پر مشتمل عارضی کلاسیں اور رضاکارانہ تعلیمی اقدامات شروع کر رکھے ہیں تاکہ ظلم و محاصرے کے باوجود علم کی شمع روشن رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں