حکومت سرکاری ملازمین کے مسائل کے فوری اور پائیدار حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے، مولانا واسع

کوئٹہ(این این آئی)امیر جمعیت علماءاسلام بلوچستان سینیٹر مولانا عبدالواسع اور جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ صوبے میں سرکاری ملازمین کے جائز مطالبات کے حل کے لیے سنجیدہ، بامقصد اور دوراندیش اقدامات وقت کی اہم ضرورت بن چکے ہیں، تاکہ سرکاری امور خوش اسلوبی کے ساتھ انجام پاسکیں اور عوام کو بلاوجہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبے کے مختلف سرکاری دفاتر میں کام تعطل کا شکار ہے اور ملازمین اپنے مسائل کے حل کے لیے پرامن احتجاج پر مجبور ہیں، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان کے مطالبات کو مطلوبہ توجہ اور سنجیدگی حاصل نہیں ہو رہی محدود آمدن اور مہنگائی کے موجودہ حالات میں سرکاری ملازمین شدید معاشی دباو¿ اور ذہنی کرب سے دوچار ہیں، جس کا ادراک کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔قائدین جے یو آئی نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایک طرف ملازمین اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوں اور دوسری جانب عام شہری سرکاری امور کی معطلی کے باعث اذیت اور پریشانی کا شکار ہوں، یہ صورتِ حال کسی بھی طور مناسب نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے مسائل کا حل تصادم نہیں بلکہ بامعنی مکالمہ، باہمی احترام اور سنجیدہ مشاورت میں مضمر ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ جمعیت علماءاسلام بلوچستان ہمیشہ ملازمین اور محنت کش طبقے کے جائز حقوق کی حامی رہی ہے اور موجودہ حالات میں بھی ان کے ساتھ بھرپور اخلاقی، آئینی اور جمہوری حمایت جاری رکھے گی۔ جماعت ملازمین کے مطالبات کو ہر مناسب اور متعلقہ فورم پر نہایت وقار اور استقامت کے ساتھ اجاگر کرتی رہے گی۔آخر میں انہوں نے صوبائی حکومت سے پرزور مگر شائستہ اپیل کی کہ وہ معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ملازمین کے مسائل کے فوری اور پائیدار حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے، تاکہ سرکاری نظام بحال ہو، عوام کو ریلیف ملے اور صوبے میں ہم آہنگی اور اعتماد کی فضا قائم ہو سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں