چین نے میانمار کے جرائم پیشہ منگ فیملی گروہ کے 11 ارکان کو سزائے موت دیدی

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) چین نے میانمار میں اربوں ڈالر کا کرمنل نیٹ ورک چلانے والے بدنامِ زمانہ گینگ منگ فیملی کے 11 ارکان کو سزائے موت دے دی ہے، رپورٹس کے مطابق سزائے موت پانے والے افراد میانمار میں قائم ان سینکڑوں مراکز سے منسلک تھے جو انٹرنیٹ فراڈ، جسم فروشی اور منشیات کی تیاری جیسے سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ سی این این کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان گروہوں کے ارکان مقامی حکومت اور میانمار کی حکمران فوج سے منسلک ملیشیاﺅں میں بھی نمایاں عہدوں پر فائز تھے، چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق سزائے موت پانے والے 11 افراد کو گزشتہ برس ستمبر میں قتل، غیر قانونی حراست اور فراڈ سمیت متعدد جرائم میں قصوروار قرار دیا گیا تھا۔ ان میں سے دو ملزمان نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی جس کے بعد مقدمہ چین کی اعلیٰ ترین عدالت، سپریم پیپلز کورٹ میں لے جایا گیا تھا جہاں ابتدائی فیصلے کو ہی برقرار رکھا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ گینگ سربراہ منگ شوئے چانگ کی قیادت میں کام کرتا تھا اور طویل عرصے سے کوکانگ کے خودمختار علاقے میں واقع بدنام کمپاﺅنڈ کروچنگ ٹائیگر ولا سے منسلک تھا، جو میانمار اور چین کی سرحد پر واقع ہے۔ چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق اس گروہ میں تقریباً 10 ہزار افراد کام کر رہے تھے، جو دھوکہ دہی اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ میانمار کے علاقے کوکانگ کے دارالحکومت لاوکائنگ کو اربوں ڈالر کی فراڈ انڈسٹری کا مرکز سمجھا جاتا تھا، جو میانمار کے ان بےقانون علاقوں میں پروان چڑھا جہاں اسمگل کیے گئے کارکنوں کو جدید آن لائن طریقوں کے ذریعے اجنبی افراد کو دھوکہ دینے پر مجبور کیا جاتا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے