پولیس کے ہاتھوں نوجوان کے قتل کی تحقیقات کرکے ملوث اہلکاروں کو سزا، متاثرہ خاندان کو معاوضہ ادا کیا جائیگا، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی

کوئٹہ (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ بلوچستان نے کوئٹہ میں پولیس کے ہاتھوں نوجوانوں کے قتل کا نوٹس لے لیا۔اسمبلی اجلاس میں وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر صاحب، جس واقعے کا میرے دوست ذکر کر رہے ہیں وہ انتہائی افسوسناک ہے، اور اس کا نوٹس ہم پہلے ہی لے چکے ہیں۔ ہم اس کی باقاعدہ انکوائری کریں گے، اور جہاں ہم سے غلطی ہوئی ہوگی وہاں ہم اس پر کوئی پردہ ڈالنے کی ہرگز کوشش نہیں کریں گے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق یہ ایک بے گناہ شخص کی ہلاکت ہے، جس میں کوئی شک نہیں۔یہ جانچنا باقی ہے کہ واقعہ کس طرح پیش آیا، آیا اہلکاروں کی غلطی تھی یا متاثرہ شخص نے رکنے سے انکار کیا، اس کی مکمل تفصیلات چند دنوں میں سامنے آ جائیں گی، اور وہ رپورٹ اس ایوان کے ساتھ بھی شیئر کی جائے گی۔ میں اس معزز ایوان کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ایسے واقعات میں غلطی کے امکانات ہوتے ہیں، اور اس واقعے میں ایک بے گناہ انسان کی جان گئی ہے، جو کہ واپس نہیں آ سکتی۔ میں اس معزز فورم سے کہنا چاہتا ہوں کہ جیسے ہی انکوائری مکمل ہوگی، ہم متاثرہ خاندان کو معاوضہ بھی دیں گے، اس کے بچوں کی تعلیم کی ذمہ داری بھی لیں گے، اور اگر اس کا بھائی بے روزگار ہوا تو اسے روزگار بھی فراہم کریں گے۔ ہم اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے، مقامی بلوچی روایات کے مطابق بھی متاثرہ خاندان سے رجوع کریں گے۔ اس واقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف بھی انکوائری کی جائے گی تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ واقعہ کیسے پیش آیا۔ جہاں تک گزشتہ واقعہ پیش آیا اور مقتول کے ماضی کا تعلق ہے، اس کے خلاف پرانی ایف آئی آرز موجود تھیں، اس بنیاد پر اسے ملزم کہا جا سکتا تھا، لیکن عدالت کی طرف سے سزا نہ ہونے کی وجہ سے اسے مجرم نہیں کہا جاسکتا۔ میں نے زیر حراست تشدد کے حوالے سے بھی علیحدہ انکوائری کا حکم دیا ہے، کیونکہ کسی کو بھی تشدد یا کسٹڈی میں موت کا حق حاصل نہیں ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد تمام حقائق سامنے آ جائیں گے۔ یہ دو مختلف پہلو ہیں۔ جہاں اس واقعے میں غلطی ہوئی ہے، وہیں اگر ماضی دیکھا جائے تو ایگل اسکواڈ نے کئی مثبت اقدامات بھی کیے ہیں، جیسے اسٹریٹ کرائمز میں ملوث افراد کے خلاف کارروائیاں۔ لہٰذا جہاں اچھا کام ہو وہاں تعریف ہونی چاہیے، اور جہاں غلطی ہو وہاں سزا دی جانی چاہیے۔ جوڈیشل انکوائری کی روشنی میں ذمہ داروں کو سزا دی جائے گی۔ مقتول چونکہ بے گناہ تھا، اس کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی جائے گی، اور اس کے خاندان کی دیکھ بھال بھی ہماری ذمہ داری ہے، جسے ہم پورا کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں