نوکنڈی میں شدید گرمی، درجہ حرارت 41 سینٹی گریڈ ریکارڈ، مچھروں کی بہتات سے عوام پریشان، بیماریاں پھیلنے کا خطرہ

نوکنڈی(نامہ نگار) بلوچستان کا علاقہ نوکنڈی شدید گرمی کی لپیٹ میں رہا جہاں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 41 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ گرمی کی شدت کے باعث معمولات زندگی متاثر ہوئے اور شہریوں کو سخت موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ دوپہر کے اوقات میں سورج کی تپش میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے باعث بازاروں اور سڑکوں پر لوگوں کی آمد و رفت کم رہی۔ شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں اور پانی کا زیادہ استعمال کریں تاکہ ہیٹ اسٹروک اور دیگر گرمی سے متعلق بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند دنوں کے دوران بھی نوکنڈی اور گردونواح میں درجہ حرارت بلند رہنے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں نوکنڈی شہر میں ان دنوں مچھروں کی بہت زیادہ تعداد نے شہریوں کو شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔رات کے اوقات کار میں بجلی کی عدم فراہمی سے لوگ گھروں کے اندر نہیں سوسکتے اور مجبوراً باہر آسمان تلے سوتے ہیں، جہاں مچھر انہیں تنگ کرتے ہیں اور بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ نوکنڈی کے مختلف محلوں اور کلیوں میں سرے سے مچھر مار اسپرے نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے مچھروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گرمی کے موسم میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہو گیا ہے اور لوگوں کو خاص طور پر رات کے وقت سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔علاقہ مکینوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ملیریا اور دیگر بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ موجود ہے، جس سے بچوں اور بزرگوں کی صحت زیادہ متاثر ہو سکتی ہے۔شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ نوکنڈی میں فوری طور پر مچھر مار اسپرے کیا جائے اور لوگوں میں مچھر دانیاں تقسیم کی جائیں تاکہ اس مسئلے پر قابو پایا جا سکے اور شہری سکون کا سانس لے سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں