ریٹائرڈ اساتذہ اور ملازمین کے بقایا جات کی عدم ادائیگی کیخلاف جامعہ بلوچستان کے باہر احتجاجی کیمپ لگائیں گے، اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن
کوئٹہ (ویب ڈیسک) اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کی کابینہ کا ایک اہم اجلاس صدر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں جنرل سیکرٹری فرید خان اچکزئی، پریس سیکرٹری رحمت اللہ اچکزئی، میڈم فرحانہ عمر مگسی، ڈاکٹر محب کاکڑ اور مسعود مندوخیل سمیت دیگر اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس میں جامعہ بلوچستان کو درپیش سنگین مالی بحران، ریٹائرڈ اساتذہ اور ملازمین کے واجبات کی عدم ادائیگی، اساتذہ کی مراعات میں کٹوتیوں اور دیگر انتظامی مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ کابینہ نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ سال 2022ءسے ریٹائر ہونے والے متعدد اساتذہ اور ملازمین تاحال اپنی گریجویٹی، پنشن کنٹری بیوشن، جی پی فنڈ اور پچھلے سال بجٹ میں اضافہ شدہ واجبات سے تا حال محروم ہیں، جس کے باعث وہ شدید مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ ان مسائل کے حل کے لئے 4 جون بروزِ جمعرات جامعہ بلوچستان کے مین گیٹ کے سامنے احتجاجی کیمپ قائم کیا جائے گا۔ اس احتجاجی مہم کا مقصد ریٹائرڈ اساتذہ اور ملازمین کو ان کے جائز حقوق کی فراہمی اور جامعہ کو درپیش مالی بحران کے مستقل حل کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔ کابینہ نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ اساتذہ اور ملازمین کی امانت تصور کیے جانے والے جی پی فنڈ کی ادائیگی میں مسلسل تاخیر کی جا رہی ہے، جبکہ مختلف منظور شدہ الاو¿نسز میں کٹوتیاں بھی کی گئی اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ ان کٹوتیوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور یونیورسٹی کے اساتذہ و ملازمین کو وہی مراعات اور سہولیات فراہم کی جائیں جو صوبائی سیکرٹریٹ اور گورنر سیکرٹریٹ کے ملازمین کو حاصل ہیں۔ اجلاس کے شرکاءنے اساتذہ کی سینڈیکیٹ اور سینیٹ سے منظور شدہ اپ گریڈیشن پر فوری عملدرآمد، طویل عرصے سے خالی منظور شدہ اسامیوں کو پر کرنے اور دیگر انتظامی معاملات کو جلد از جلد حل کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ مزید برآں مینٹیننس الاﺅنس کے نام پر بنیادی تنخواہ سے پانچ فیصد کٹوتی کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس مد میں رقم وصول کیے جانے کے باوجود اساتذہ اور ملازمین کی رہائش گاہوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی جا رہی۔ اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کی کابینہ نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان یونیورسٹی کے لیے خصوصی مالی پیکیج کا اعلان کیا جائے اور سالانہ گرانٹس میں کم از کم 15 ارب روپے کا اضافہ کیا جائے، تاکہ پنشنرز کے واجبات، جی پی فنڈ کی ادائیگی، ملازمین کے حقوق اور جامعات کو درپیش مالی مسائل کا پائیدار حل ممکن بنایا جاسکے۔ اجلاس کے اختتام پر جامعہ بلوچستان کے تمام اساتذہ، ریٹائرڈ اساتذہ، افسران اور ملازمین سے اپیل کی گئی کہ وہ 4 جون بروزِ جمعرات شروع ہونے والے احتجاجی کیمپ میں بھرپور شرکت کرکے اپنے جائز حقوق کے حصول کی مشترکہ جدوجہد کو کامیاب بنائیں۔


