این ایف سی ایوارڈ میں کٹوتی غیر آئینی ہے ، مولانا واسع

کوئٹہ (آن لائن) جمعیت علما اسلام صوبہ بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت نے بلوچستان کے عوام کے اجتماعی مفادات، آئینی حقوق اور مستقبل کے ساتھ سنگین کھلواڑ کیا ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبے کو حاصل مالی حقوق پر سمجھوتہ کرتے ہوئے اربوں روپے کے وسائل وفاق کے حوالے کرنا صوبائی خودمختاری اور بلوچستان کے مالی و آئینی حقوق کی نفی انہوں نے کہا کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کے حقوق کے تحفظ اور صوبے کے مالی حصے میں تاریخی اضافے کے لیے جمعیت علما اسلام نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ بلوچستان کی منفرد جغرافیائی حیثیت، پسماندگی اور معاشی محرومیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آبادی کے ساتھ ساتھ رقبہ، آبادی کی منتشر نوعیت (Inverse Population Density)، پسماندگی، ریونیو جنریشن اور دیگر اہم اشاریوں پر مشتمل ایک منصفانہ فارمولا تشکیل دیا گیا، جس کے نتیجے میں بلوچستان کا حصہ چند ارب روپے سے بڑھ کر کئی گنا اضافہ ہوا اور آج یہ رقم ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ بلوچستان کے عوام کے حقوق کے لیے جمعیت علما اسلام کی ایک تاریخی جدوجہد اور ناقابلِ فراموش کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی افسوس اور تشویش کا مقام ہے کہ موجودہ غیر عوامی نمائندوں نے اپنے اقتدار کے تحفظ اور وقتی سیاسی مفادات کے لیے اس تاریخی کامیابی پر بھی پانی پھیرنے کی کوشش کی ہے۔ جن مالی اور آئینی حقوق کے حصول کے لیے طویل جدوجہد، سیاسی بصیرت اور اصولی مقف اختیار کیا گیا، آج انہی حقوق کو وفاق کے سامنے قربان کرنا بلوچستان کے عوام کے اعتماد، آنے والی نسلوں کے مستقبل اور صوبائی خودمختاری سے کھلواڑ کے مترادف ہے۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 160 کی شق (3A) واضح طور پر ضمانت دیتی ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے میں کسی قسم کی کمی نہیں کی جا سکتی بلکہ اس میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ لہذا بلوچستان کے حصے میں کٹوتی یا اس کے حقوق سے دستبرداری آئین کی روح، وفاقی اکائیوں کے درمیان اعتماد اور قومی یکجہتی کے اصولوں کے خلاف اقدام ہے۔ بلوچستان کے عوام گواہ رہیں کہ آج صوبے کے حقوق کا سودا کرنے والے کل تاریخ کی عدالت میں جوابدہ ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علما اسلام جب حکومت کا حصہ رہی تو اس نے ہر سطح پر بلوچستان کے حقوق کی جنگ ببانگِ دہل لڑی، وفاقی بجٹ میں صوبے کے لیے اہم ترقیاتی منصوبے شامل کرائے اور محروم علاقوں کی ترقی کے لیے عملی اقدامات کیے۔ افسوس کہ جمعیت علما اسلام کے اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد آج تک بلوچستان کو کسی بڑے ترقیاتی منصوبے سے محروم رکھا گیا، جبکہ چند نمائشی اور کاغذی منصوبوں کو عوام کے سامنے ایسے پیش کیا جا رہا ہے جیسے صوبے کی تقدیر بدل دی گئی ہو، حالانکہ حقیقت میں ترقی کا پہیہ جام اور صوبہ مزید محرومیوں کی دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی بجٹ ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح کا منشور نہیں بلکہ بلوچستان کے نوجوانوں، طلبہ اور آنے والی نسلوں کے خوابوں اور مستقبل پر ضربِ کاری ہے۔ عوام کو روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے بجائے اشرافیہ اور مخصوص طبقات کے مفادات کو ترجیح دی گئی ہے۔ محض سات فیصد اضافہ حکومت کی معاشی ناکامی، ناقص منصوبہ بندی اور عوام دشمن پالیسیوں کا واضح اعتراف ہے، جس نے بلوچستان کے عوام کو ترقی کے سفر میں کئی دہائیاں پیچھے دھکیل دیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اپنی ناکامیوں اور عوامی ردِعمل سے خوفزدہ حکومت جمہوری آوازوں کو دبانے کے لیے گرفتاریوں، تشدد اور طاقت کے استعمال پر اتر آئی ہے۔ قابلِ احترام اساتذہ، سرکاری ملازمین اور اپنے جائز حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے شہریوں کو سڑکوں پر گھسیٹنا ایک جمہوری حکومت کے ماتھے پر بدنما داغ ہے۔ کیا اس ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی بھی جرم بن چکی ہے؟ کیا حکومتی نااہلی، غلط پالیسیوں اور عوام دشمن اقدامات پر احتجاج کرنا بھی قابلِ سزا جرم قرار دیا جائے گا؟انہوں نے کہا کہ گزشتہ ادوار میں بلوچستان کے وسائل اور ترقی کے ساتھ جو ناانصافیاں ہوتی رہیں، موجودہ حکومت نے ان تمام ریکارڈز کو توڑتے ہوئے عوامی استحصال، معاشی بدحالی اور صوبائی محرومیوں میں مزید اضافہ کیا ہے۔ جمعیت علما اسلام واضح کرتی ہے کہ بلوچستان کے عوام، نوجوانوں، ملازمین اور آنے والی نسلوں کے آئینی، معاشی اور سیاسی حقوق کے تحفظ کی جنگ ہر محاذ پر پوری قوت سے لڑی جائے گی۔ اگر حکومت نے اپنی غیر سنجیدہ، عوام دشمن اور صوبائی مفادات کے منافی پالیسیوں سے رجوع نہ کیا تو جمعیت علما اسلام ہر آئینی، جمہوری اور سیاسی فورم پر بھرپور مزاحمت کرے گی اور بلوچستان کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ یا سودے بازی ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں