ریاست کو بلوچستان میں انتظامی، نظریاتی اور مسلح جدوجہد کرنی پڑے گی، فواد چوہدری
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدر ی نے ایکس پر بیان میں کہا ہے کہ 1970 میں پاکستان کے 43% رقبے کو اکٹھا کر کے نیا صوبہ بنایا گیا جس کا نام بلوچستان رکھا گیا، یہ فیصلہ بذات خود احمقانہ تھا کہ اتنا بڑا علاقہ ایک صوبے میں ضم کر دیا جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس سے اس وقت USSR جو 1920-21 سے بلوچستان میں قدم جمانے کی کوشش کر رہا تھا اسے موقع ملا کہ صوبے کو غیر مستحکم کر سکے بعد میں بلوچستان میں امن وا مان کا مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب اختر مینگل اور خیر بخش مری جیسے کمیونسٹ سرداروں نے پنجابی اساتذہ اور سرکاری افسران کو بلوچستان بدری کے آرڈر کئے، لسبیلہ میں صوبائی FC بنا کر اپنے مخالفین پر چڑ دوڑے جس کے بعد بھٹو نے NAP کی حکومت برطرف کر دی، لیکن نقصان ہو چکا تھا غلام مصطفیٰ کھر نے پنجابی بیوروکریٹس کو بلوچستان چھوڑنے کا کہا اس سب کے بعد بلوچستان میں پورا نظام تباہ ہو گیا جب اساتذہ چکے گئے تو اسکولوں کے سکول بند ہو گئے اور آج تک بلوچستان اس نفرت انگیز فیصلے سے سنبھل نہیں سکا۔ انہوں مزید لکھا ہے کہ بلوچ سرداروں نے جہاں اپنے بچے لندن امریکہ بھیجے وہیں عام بلوچ کو بنیادی تعلیم سے بھی محروم کر دیا، ہسپتالوں میں ڈاکٹر نہیں اسکول میں استاد نہین تو صوبہ کیا رہ جانا تھا۔پرویز مشرف کے دور میں بلوچستان میں دوبارہ بڑا آپریشن ہوا لیکن آئیڈیا کی جنگ مشرف نہیں لڑے بعد میں آصف زرداری نے ایک بار پھر تمام دھشت گردوں کو رہا کر دیا اور اس کے بعد سے اب تک امن بحال نہیں ہو رہا ریاست کو انتظامی، نظریاتی اور مسلح جدوجہد کرنی پڑے گی تا کہ ان علاقوں کا امن واپس لایا جا سکے ، ایسی جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں، سب سے سے پہلے بلوچستان کو انتظامی اصلاحات چاہئیں بہے صوبے چاہئیں نیا بندوبست چاھیے، پھر بھارت کی مداخلت بند کرنا ہو گی۔


