پورٹ قاسم اور پورٹ کراچی کو ملانے کیلئے ریل لائن کی تعمیر، پپری ملٹی لاجسٹکس پارک پر کام تیز کردیا گیا، ٹاسٹک فورس بحری اصلاحات

اسلام آباد/کراچی (آن لائن) وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت ملک کے لاجسٹکس اور بندرگاہی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پپری ملٹی لاجسٹکس پارک کی تعمیر پر تیزی سے عمل جاری ہے۔ نیشنل لاجسٹک کارپوریشن (این ایل سی) اور ڈی پی ورلڈ کے اشتراک سے 2.46 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا یہ منصوبہ کارگو کی ترسیل کو زیادہ مو¿ثر، تیز اور کم لاگت بنانے کے ساتھ کراچی شہر میں بھاری ٹریفک کے دباو¿ میں نمایاں کمی لانے میں معاون ثابت ہوگا۔پروجیکٹ ڈائریکٹر نیشنل لاجسٹک کارپوریشن (این ایل سی) سندھ، انجینئر الطاف قادر باجوہ کے مطابق منصوبے کے تحت پورٹ قاسم اور کراچی پورٹ کو آپس میں ملانے کے لیے ڈیڑھ کلومیٹر طویل ریلوے لنک تعمیر کیا جا رہا ہے، جبکہ پپری میں جدید ریلوے فریٹ کنٹینر اور ملٹی لاجسٹکس پارک بھی قائم کیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ منصوبے میں جدید ویئر ہاو¿سز، کنٹینر اسٹوریج یارڈ، بھاری گاڑیوں کی پارکنگ، انتظامی بلاکس اور دیگر معاون سہولیات شامل ہیں تاکہ کارگو کی ہینڈلنگ اور ترسیل کا نظام بین الاقوامی معیار کے مطابق بنایا جا سکے۔انجینئر الطاف قادر باجوہ نے کہا کہ 37,700 مربع میٹر پر مشتمل ہارڈ اسٹینڈنگ ایریا میں بیک وقت 260 کنٹینرز اور ٹرکوں کو رکھنے کی گنجائش ہوگی، جس سے سامان کی منتقلی اور ذخیرہ کاری کا عمل مزید منظم اور مو¿ثر ہو جائے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ اپ کنٹری سے آنے والے ٹریلرز کو براہ راست کراچی میں داخل ہونے کے بجائے پپری لاجسٹکس پارک منتقل کیا جائے گا، جہاں سے کارگو کو ریل کے ذریعے کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم تک پہنچایا جائے گا۔ اس نظام سے روزانہ کراچی میں داخل ہونے والے تقریباً 250 سے 500 ٹریلرز کے دباو¿ میں کمی آئے گی، جس سے شہری ٹریفک کی روانی بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر کے مطابق پپری ملٹی لاجسٹکس پارک کی تکمیل سے کارگو کی ترسیل، بندرگاہوں کے باہمی رابطے اور ملک کے مجموعی لاجسٹکس نظام میں نمایاں بہتری آئے گی، جبکہ درآمدات و برآمدات کے عمل کو بھی زیادہ تیز، محفوظ اور مو¿ثر بنانے میں اہم کردار ادا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں