کوئٹہ، ڈی جی لیویز آفس سے حساس سرکاری سامان کی مبینہ چوری کا انکشاف،اربوں روپے کے آلات غائب ہونے کا دعویٰ

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈائریکٹوریٹ جنرل لیویز کے دفتر سے قیمتی اور حساس نوعیت کا اسلحہ،سرکاری سامان،فرنیچر، مشینری اور حساس نوعیت کے آلات کی مبینہ چوری اور غائب ہونے کے حوالے سے سنجیدہ انکشافات سامنے آئے ہیں،جنہوں نے محکمہ لیویز کے ریکارڈ،مال خانہ اور سرکاری اثاثوں کی حفاظت پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مبینہ طور پر غائب یا غیرموجود سامان میں اسلحہ،کیس پراپرٹی آرمز،اینٹی رائٹ ایکوپمنٹ، بلٹ پروف جیکٹس،راکٹ لانچر، تھرمل سائٹس، گولیاں، گرنیڈز،مائن ڈیٹیکٹرز اور دیگر حساس آلات شامل ہیں۔ایف آئی اے،سی ٹی ڈی،چیف منسٹر انسپکشن ٹیم (CMIT)/سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ، (SCIW) اور اینٹی کرپشن پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو معاملہ محض محکمانہ بے ضابطگی نہیں بلکہ سرکاری اسلحہ اور حساس سیکیورٹی آلات کی حفاظت سے متعلق انتہائی سنگین نوعیت کا معاملہ بن سکتا ہے۔ مبینہ اسلحہ چوری کی تحقیقات کے دوران بعض شواہد ڈائریکٹوریٹ آف لیویز تک پہنچے۔ اس حوالے سے مال خانہ انچارج عبدالحکیم اور روشن خان نامی ایک شخص،جسے لیویز سپاہی بتایا جاتا ہے، کے کردار کا بھی ذکر سامنے آیا ہے جس میں ایک کو رنگے ہاتھوں اسلحہ سمیت گرفتار کیا گیا تھا ۔ مذکورہ معاملے سے منسلک شخص کو محکمہ ایکسائز نے مبینہ طور پر بھاری اسلحہ سمیت گرفتار کرکے سی ٹی ڈی کے حوالے کیا تھا،تاہم اس کیس پر مزید پیش رفت تیز نہ ہونے کے باعث کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں بھاری اور حساس نوعیت کا اسلحہ متعلقہ شخص تک کیسے پہنچا اور آیا اس کا کسی سرکاری اسلحہ کے مبینہ غائب ہونے سے کوئی تعلق ہے یا نہیں؟ بعض سرکاری سامان کو مبینہ طور پر جھل مگسی، منوحصار اور دیگر علاقوں میں منتقل یا چھپائے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جبکہ بعض سرکاری گاڑیوں کو اسلام آباد سمیت دیگر مقامات پر منتقل کیے جانے کا بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے۔اسی طرح بلٹ پروف جیکٹس میں استعمال ہونے والی حفاظتی پلیٹس کے حوالے سے بھی مبینہ ردوبدل اور بعض ایکسپائر پلیٹس کو تبدیل کرنے کی کوششوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ ان دعوو¿ں کی حقیقت جاننے کے لیے ریکارڈ، اسٹاک رجسٹر، خریداری کا ریکارڈ، مال خانہ، گاڑیوں کے لاگ بکس اور متعلقہ اہلکاروں کے بیانات کا فرانزک آڈٹ ضروری ہے۔اہم بات یہ ہے کہ معاملے کو صرف چند ماتحت اہلکاروں تک محدود کرکے ختم کرنے کے بجائے اس کے تمام ممکنہ پہلوو¿ں کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔ اگر سرکاری اسلحہ یا حساس آلات کی چوری، منتقلی یا فروخت ثابت ہوتی ہے تو اس میں ملوث ہر سطح کے ذمہ دار افراد کا تعین بھی ضروری ہوگا۔اس سلسلے میں ایف آئی اے،سی ٹی ڈی،چیف منسٹر انسپکشن ٹیم (CMIT)، سیریس کرائم/انویسٹی گیشن ونگ (SCIW) اور اینٹی کرپشن پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے،جو مبینہ طور پر غائب ہونے والے سامان کی مکمل فہرست، مال خانہ ریکارڈ، اسلحہ رجسٹر، گاڑیوں،حفاظتی آلات اور متعلقہ افسران و اہلکاروں کے کردار کی جامع تحقیقات کرے۔عوامی خزانے سے خریدے گئے اسلحہ اور حساس سیکیورٹی آلات کا معاملہ انتہائی اہم ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ الزامات کو محض افواہ سمجھ کر نظرانداز کرنے کے بجائے شفاف،آزادانہ اور قابلِ اعتماد تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے لائے جائیں،جب ایک شخص کو حساس اسلحہ اور گاڑی سمیت گرفتار کیا جاچکا ہے اگر کوئی سرکاری اثاثہ واقعی غائب یا غیرقانونی طور پر منتقل ہوا ہے تو ذمہ داران کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جا سکے ۔بلوچستان میں جہاں ایک طرف حالات اس قدر خراب ہوچکے ہیں وہاں نوجوان سیکیورٹی اہلکاروں کیلئے کوئی قیمتی اسلحہ و سازوں سامان آتا ہے تو مبینہ طور پر اداروں میں بیٹھے مجرمانہ ذہن کے ایسے لوگ ان قیمتی اور حساس چیزوں کو بھی کمائی کا ذریعہ سمجھتے ہیں،اس کیس میں شامل لوگوں کو انجام تک پہنچا کر مثال بنائی جائے تاکہ ریاست ہے ساتھ اور اداروں کے ساتھ ایسے کھلواڑ مزید کرنے کی کوئی ہمت نہ کرے اور اس سے زیادہ سنگین جرم کوئی ہو سکتا ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں