خانہ جنگی کی سازشوں سے عوام محتاط رہیں، نہ اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دیں نہ مسلح تنظیموں کا، مولانا محمد خان شیرانی
ماشکیل (آئی این پی)رہبر جمعیت مولانا محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ جاری حالات میں بہت سی قوتوں کی خواہش ہے کہ خانہ جنگی پیدا ہو لیکن ہماری عوام سے درخواست ہے کہ نہ تو اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دو، نہ ہی اس کے مقابلے میں آو¿، نہ مسلح تنظیموں کا ساتھ دو اور نہ ہی ان کے مقابلے میں آو¿ ،ہماری دعا ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے اس خونریزی کا تدارک فرمائے اور ہم میں ہوش سے کام لینے کی صلاحیت اور یہ احساس پیدا کرے کہ ہم جس صف میں بھی ہوں ہمیں ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے کے بجائے مل بیٹھ کر ایک دوسرے کو سمجھنے اور سمجھانے کی توفیق دے ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ دارلہدی ہارونجی ٹاون تحصیل نانا صاحب میں جے یو آئی پاکستان کے زیراہتمام منعقد ہونے والے تیسرے سالانہ صوبائی تربیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ قوم کو ہماری دعوت یہ ہے کہ نہ ووٹ لو نہ ووٹ دو، جب آپ کے ووٹ سے نہ نمائندگی کا فیصلہ ہوتا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی قدر و قیمت ہے تو ووٹ ڈالنے سے نہ دین کو فائدہ ہو گا نہ ہی قوم کے حق میں اس کا سوائے اس کے کوئی نتیجہ نکلے گا کہ گھر گھر میں لڑائی ہوگی اور دشمنیاں پیدا ہوں گی، میں سیاستدانوں کی خدمت میں بھی یہ گزارش کرتا آیا ہوں کہ حکومت کرنا چھوڑ دو، اگر اسٹیبلشمنٹ نے اچھی حکومت کی تو عوام کا بھلا ہوگا اور اگر بری حکومت کی تو وہ خود بے نقاب ہوجائیں گے کیا تم نے ٹھیکہ لیا ہوا ہے کہ کوَر تم فراہم کروگے، حکومت وہ کریں گے اور بدنامی تمہارے پلے پڑتی رہے اور اگر ان کے منشا کے مطابق نہیں چلتے تو اٹھا کر ننگے کردی¿ے جاو¿ ،اس ذلت میں جانے کی ضرورت کیا ہے انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدہ نہ امریکہ کے خلاف ہے اور نہ ہی اسرائیل کے خلاف ہے کیونکہ عربوں کو نہ تو امریکہ سے کوئی خطرہ لاحق ہے نہ ہی اسرائیل سے خطرہ ہے، اور نہ ہی معاہدے میں شامل پاکستان اور ترکی جیسے ممالک کا امریکہ سے کوئی پرخاش ہے بلکہ ترکی کے تو اسرائیل کے ساتھ بھی باقاعدہ سفارتی اور تجارتی روابط ہیں اس لیے محسوس یہ ہوتا ہے کہ امریکہ ایران حالیہ جنگ کے نتیجے میں امریکہ مشرق وسطیٰ اور خلیج سے بتدریج انخلاءکے فکر میں ہے، امریکہ کا سینٹرل کمان جس کی تشکیل ایران ہی کیلئے عمل میں لائی گئی تھی موجودہ جنگ میں سینٹ کام کی کارکردگی کو کمزور سمجھا جارہا ہے اور دوسری طرف جدہ میں مکہ معاہدے میں شامل ممالک کے نیٹو طرز کے ہیڈکوارٹر کی سربراہی سینٹ کام کے سربراہ کو تفویض کرنے کی خبریں چل رہی ہیں اس لیے ممکن ہے کہ مستقبل میں مکہ معاہدے کا ہدف ایران ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ اتحاد سنی اتحاد کا روپ دھار لے اور پھر سنی شیعہ نیا تنازعہ اور نیا فساد نمودار ہو ہمیں ان حالات پر نظر بھی رکھنا چاہیے اور فرقہ وارانہ تضادات و قومی تنازعات سے محتاط بھی رہنا چاہیے انہوں نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ شریعت، دین اور مذہب کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی حاکمیت کا جھگڑا ہے تاریخی لحاظ سے فلسط¸ن پر اسرائیل کا حق ہے نہ عربوں کا ہے نہ مسلمانوں کا ہے فلسط¸ن کے قضئے کے ایک فریق یعنی یہودیوں میں نسلی وحدت بھی ہے اور شرعی وحدت بھی ہے جبکہ فلسطینیوں میں عرب قومیت کے ناطے نسلی وحدت تو موجود ہے لیکن شرعی لحاظ سے ان میں مسلمان بھی ہیں اور مسیحی بھی ہیں لیکن مسلمانوں کو بے وقوف بنانے کیلئے "فلسطینی قوم "کا ذکر تو کیا جاتا ہے لیکن ان کے مذہبی تنوع کو چھپایا جاتا ہے تاکہ یہ سوال پیدا نہ ہو کہ مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان وہ مذہبی مشترکات کیا ہیں جو مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان موجود نہیں ہیں خدا پرستی اور ملت ابراہیمی دونوں میں مسیحیوں کے ساتھ یہود بھی ہمارے ساتھ شریک ہیں انہوں نے کہا کہ ابراہیمی معاہدہ دراصل مختلف مسلم ممالک کا اسرائیل کے ساتھ وقتا فوقتاً کئے جانے والے الگ الگ معاہدات کا مجموعہ ہے جس کا بنیاد یہ ہے کہ جو شرائع ملت ابراہیمی میں شمار ہوتے ہیں ان کے درمیان قربت اور مفاہمت ہونی چاہیے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ دعوت ان کی نہیں بلکہ بنیادی طور پر قرآن کی ہے جو تمام حاملینِ کتاب کو مشترکات پر جمع ہونے کا تصور پیش کرتا ہے لہٰذا اس دعوت کی ملکیت مسلمانوں کو لینی چاہیے اور جب جرمنی کے شہر میونخ میں استشراقی فکر کے محقق¸ن سالہا سال کے تحقیقی پروجیکٹ میں قرآن کے زمانہ نزول سے لے کر اب تک کے تمام نسخوں کے علمی اور فنی جائزے کے بعد اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ قرآن کریم اپنے آغاز سے لے کر اب تک غیر معمولی طور پر محفوظ چلا آرہا ہے تو اب تو ہمیں مطالبہ کرنا چاہیے کہ جب تم خود تصدیق کرتے ہو کہ قرآن محفوظ اور باقی سماوی کتب غیر محفوظ ہیں تو قرآن جوکہ سابقہ مجموعوں کی تصدیق بھی کرتا ہے اور ان کے تعلیمات کو اس نے اپنے اندر سمویا بھی ہے تو اب تمام اہل کتاب کو چاہیے کہ سیاسی مفاہمت کے ساتھ ساتھ مذہبی میدان میں ایک دوسرے کے قریب آنے کیلئے قرآن مجید کو تمام آسمانی کتابوں کیلیے بطور معیار تسلیم کریں انہوں نے کہا کہ دنیا میں مشہور تین بڑے فلسفہ ہائے معیشت میں سے اسلامی فلسفہ معیشت، قدیم ترین انسانی معاشی فلسفہ ہے جبکہ سرمایہ دارانہ فلسفہ معیشت اسلامی معیشت کی بگڑی ہوئی شکل اور اشتراکیت سرمایہ دارانہ نظام کے استحصالی ظلم و جبر کا ایک جزباتی ردعمل ہے اسلامی معیشت کی بنیاد خداپرستی کی فکر ہے سرمایہ دارانہ فلسفے کی بنیاد منافقت اور مال کی پرستش جبکہ اشتراکی فلسفے کی فکری بنیاد حیوانیت ہے سرمایہ داریت اور اشتراکیت انسانی معاشرے کو صارفین، محنت کشوں اور سرمایہ داروں کے تین طبقات میں تقسیم کرتے ہیں اس لئے ان کی اساس تقسیم، تفریق اور تقابل پر ہے مگر اسلام کی تعلیم توحید ہے جوکہ ہمیں بتاتا ہے کہ یہ تین مختلف اور متصادم طبقات نہیں بلکہ صارفیت، محنت کشی اور سرمایہ داری انسان کے ایک ہی وقت کے مختلف حالات ہیں، ہر شخص بہ یک وقت ایک حیثیت سے صارف ہوتا ہے دوسری حیثیت سے محنت کش ہوتا ہے اور تیسری حیثیت سے سرمایہ دار ہوتا ہے اس لیے اسلام ایک ہی فرد کو پیش آنے والے مختلف حالات کو تو تسلیم کرتا ہے لیکن ان کو باہم متحارب طبقات کے طور پر پیش کرنے کے تصور کو رد کرتا ہے، سرمایہ دارانہ معاشی فلسفے میں سرمائے اور سرمایہ داروں کو اہمیت حاصل ہوتی ہے، اشتراکیت محنت اور محنت کشوں کو اولیت دیتا ہے جبکہ اسلام کے نزدیک اصل اہمیت صارف کے ضرورت کی حل کو حاصل ہے تربیتی اجتماع سے جے یو آئی پاکستان کے صوبائی امیر مولانا عبدالمالک ارکان رابطہ کمیٹی مولانا عبدالغنی ساسولی ڈاکٹر اسماع¸ل بلیدی حاجی عبدالرزاق لانگو مولانا محمد اقبال عثمانی پروفیسر حسین احمد شیرانی حاجی امین اللہ امین حافظ ہمایوں چشتی ضلع شیرانی کے امیر مولانا شمس الرحمان حریفال ضلع ژوب کے امیر مولانا رفیع اللہ ضلع پشین کے امیر حافظ رفیع اللہ ضلع دکی کے امیر مولانا فیض محمد ترین٬ مرکزی صدر جے ٹی آئی محمد نواز آزاد صوبائی صدر سید ندا محمد شاہ مولانا عبدالبص¸ر ہارونجی مولانا حفیظ اللہ نوید، اسحاق عبداللہ، مفتی محمد اسلم اور حافظ داد محمد شیرانی نے خطاب کیا اجتماع کے اختتام پر خونریزی کے حالیہ واقعات میں جاں بحق ہونے والے تمام افراد اور پارٹی کے برشور کے رہنما مولانا لعل محمد کی اہلیہ کی مغفرت کیلئے دعا کی گئی –


