پاکستان کی سمندری خوراک کی برآمدات ریکارڈ 568 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں،وفاقی وزیر خزانہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میںکہا ہے کہ پاکستان کی سمندری خوراک کی برآمدات ریکارڈ 568 ملین ڈالر کی سطح تک پہنچ چکی ہیں۔ بہتر معیار، نئی منڈیوں تک رسائی، زیادہ ویلیو ایڈیشن اور برآمدی منڈیوں میں تنوع سے بلیو اکانومی کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان کی سمندری خوراک کی برآمدات تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ پہلی مرتبہ سی فوڈ برآمدات 500 ملین ڈالر کی حد عبور کرتے ہوئے 568 ملین ڈالر ریکارڈ ہوئیں۔ مالی سال 2023-24 میں پاکستان کی سی فوڈ برآمدات 406 ملین ڈالر تھیں، جو مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 489 ملین ڈالر ہوگئیں۔ مالی سال 2025-26 میں برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا اور یہ 568 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اس طرح 2 سال میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہوا۔ گزشتہ مالی سال منجمد مچھلی کی برآمدات 105.1 ملین ڈالر، سکویڈ اور کٹل فش 103.7 ملین ڈالر، فش میل 83.1 ملین ڈالر، جھینگے 62.1 ملین ڈالر جبکہ کیکڑوں کی برآمدات 36.9 ملین ڈالر رہیں۔پاکستانی سی فوڈ چین، جنوب مشرقی ایشیا، خلیجی ممالک، جاپان، جنوبی کوریا اور امریکا سمیت مختلف بین الاقوامی منڈیوں میں برآمد کی جا رہی ہے۔ معیار میں بہتری اور نئی منڈیوں تک رسائی سے پاکستانی سی فوڈ کے لیے برآمدی مواقع بھی بڑھے ہیں۔روسی منڈی میں بھی پاکستانی سی فوڈ کی رسائی بڑھی ہے اور 16 پاکستانی سی فوڈ پروسیسنگ پلانٹس کو روسی مارکیٹ کے لیے منظور کیا جاچکا ہے۔ پاکستان کے لیے بلیو اکانومی میں برآمدات بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ اس صلاحیت سے بھرپور فائدے کے لیے جدید پروسیسنگ سہولیات، ویلیو ایڈیشن، ایکوا کلچر، کولڈ چین کے بنیادی ڈھانچے، عالمی معیار کے حفظانِ صحت کے تقاضوں کی تکمیل اور نئی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی پر مزید توجہ دینا ہوگی۔ سی فوڈ برآمدات میں مسلسل اضافہ پاکستان کے لیے قیمتی زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس شعبے میں سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور ساحلی معیشت کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا جاسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے