خطے کو درپیش مشکلا ت و چیلنجز کا واحد حل فلسفہ با چا خانی میں مضمر ہے، اصغرخان اچکزئی

کوئٹہ: عوامی نیشنل پا رٹی کے صو با ئی صدر اصغر خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ملک اورخطے کو درپیش مشکلا ت و چیلنجز کا واحد حل فلسفہ با چا خانی میں مضمر ہے،پاکستان تحریک انصاف قلعہ سیف اللہ کے سابق ضلعی صدر شمس الدین جلالزئی کی ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت پر دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں، عوام نیشنل پارٹی اس وقت ملک و صوبے کی سطح پر عوام کی توجہ کا مرکز بن چکی ہے، تنظیمی کوششیں اسی طرح جاری رہی تو جنوبی پشتونخوا میں ہر گلی اور کوچے میں اے این پی کے جھنڈے لہرائے جائیں گے، اے این پی جنوبی پشتونخوا میں اصولی اور باکردار سیاست کی بنا ایسے انداز میں پھر ابھرکر سامنے آئے گی کہ کسی دوسرے پارٹی کا نام لیوا تک نہیں ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پاکستان تحریک انصاف ضلع قلعہ سیف اللہ کے سابق ضلعی صدر شمس الدین جلالزئی کی ساتھیوں سمیت عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری صاحب جان کاکڑ، صوبائی جنرل سیکرٹری مابت کاکا، اے این پی کی خاتون رکن صوبائی اسمبلی شاہینہ مہترزئی،، صوبائی نائب صدر اصغر علی ترین، مرکزی جوائنٹ سیکرٹری رشید خان ناصر، ضلع قلعہ سیف اللہ کے صدر حاجی عبدالمالک کاکڑ، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری باری آغا، صوبائی جوائنٹ سیکرٹری ہدایت اللہ، کوئٹہ کے ضلعی صدر جمال الدین رشتیا، پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے چیئرمین عالمگیر خان مندوخیل و دیگر بھی موجود تھے۔ اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف ضلع قلعہ سیف اللہ کے سابق صدر شمس الدین جلالزئی نے ساتھیوں سمیت عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ 2سال تک پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے سیاسی طور پر جدوجہد کرتے رہے تاہم موجودہ وزیراعظم عمران خان نے اقتدار سے قبل خیبر پشتونخوا اور بلوچستان سے متعلق جو وعدے کئے تھے ان میں سے اب تک کوئی ایک بھی وعدہ وفا نہیں ہوسکا ہے، پشتونوں کو درپیش مسائل آج بھی جوں کے توں ہے، پی ٹی آئی میں فیصلے پارٹی منشور کے مطابق نہیں بلکہ جذباتی بنیادوں پر ہوتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ روز اول سے ہی اپنے وطن پر واک واختیار چاہتے تھے،عمران خان کے کردار و گفتار میں واضح تضاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نیشنل پارٹی کی قومی جدوجہد و قربانیوں سے متاثر ہو کر ساتھیوں سمیت عوامی نیشنل پارٹی شمولیت کا فیصلہ کیا، پشتونوں نے ایک ہی دن میں ساڑھے5سو افراد کی قربانی دی اسی طرح غلام احمد بلور کے خاندان اور میاں افتخار بیٹے کی قربانی دے کر بھی اے این پی کے اصولی سیاست سے دستبردار نہیں ہوئے انہی وجوہات کی بنا پر ہم نے قومی جدوجہد کے لئے اے این پی کی صفوں میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا اور مرتے دم تک اے این پی کی پلیٹ فارم سے پشتونوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کرتے رہیں گے۔ اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے شمس الدین جلالزئی کی ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت پر اے این پی کے مرکزی و صوبائی قیادت اور کارکنوں کی جانب سے خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دنوں لورالائی کے قبائلی شخصیت و سابق نگرانی صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عطا گل اور آج شمس الدین جلالزئی نے اے این پی میں شمولیت اختیار کرلی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ دیر آید درست آید اب لوگوں کو ادراک ہوچلا ہے کہ پشتونوں اور خطے کو درپیش مشکلات سے نجات کا واحد حل فکر چاخان میں مضمر ہے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کی وسیع النظر جماعت کو شمس الدین جلالزئی جیسے باہمت اور وطن کا احساس رکھنے والے نوجوانوں کی ضرورت ہے شمس الدین جلالزئی کے والد نصرالدین کاکڑ کی پشتون وطن کے لئے قربانیاں اور جدوجہد سب کے سامنے ہیں وہ نیپ کے دور میں وقت کے ظلم و جبر کی وجہ سے جلاوطنی برداشت کرنا پڑی۔ جنوبی پشتونخواکی عوام نے ہر طبقہ کی پارٹیوں کو آزمایا اور اکثر و بیشتر پارٹیوں کے برسراقتدار آنے کے بعد لوگ ان سے بیزار ہوئے اور ان پر بداعتمادی کا اظہار کیا مگر تنظیمی کوششوں کے نتیجے میں اس وقت ملک و صوبے کی سطح پر اے این پی عوام کی توجہ کا مرکز بن چکی ہے تنظیمی کوششیں اسی طرح جارہی ہے تو یقین ہے کہ جنوبی پشتونخوا میں کسی اور پارٹی کا نام لیوا تک نہیں ہوگا بلکہ ہر گلی اور کوچے میں اے این پی کے جھنڈے لہرائے جائیں گے۔پہلے ایک تاثر پایا جاتا ہے کہ جنوبی پشتونخوا میں اے این پی کی کوئی خاص حیثیت نہیں لیکن آج لوگوں کو ادراک ہوچکا ہے اسی لئے جوق درجوق اے این پی میں شامل ہورہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سینٹ کے لئے پچھلی بار ہونے والی انتخابات کے موقع پر بلوچستان عوامی پارٹی نے ہمارے ساتھ جو کمٹمنٹ کی ہے امید ہے کہ مارچ میں ہونے والے سینٹ الیکشن کے موقع پر اس پر عمل درآمد کیا جائے گا، حالیہ دنوں سینٹ کی خالی ہونے والی نشست کے لئے عوامی نیشنل پارٹی حکومتی امیدوار کی حمایت کرے گی۔ مرکز میں اے این پی کی دیگر پارٹیوں کے ساتھ بننے والی الائنس جو بھی فیصلہ کرے گی اے این پی بلوچستان اس پر عمل کرنے کی پابند ہے بلکہ ان کے ہر فیصلے پر من وعن عمل درآمد کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں