مغربی بلوچستان میں گزشتہ کچھ دنوں سے ایرانی فورسز کے ایک درجن سے زائد اہلکار ہلاک و زخمی ہوگئے ہیں، تنظیم حالوش
مغربی بلوچستان میں 24 گھنٹوں کے دوران ایرانی فورسز کے ایک درجن سے زائد اہلکار ہلاک و زخمی ہوگئے ۔ مغربی بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کرنے والی آزاد تنظیم حالوش (Haalvsh) نے بتایا کہ وہ ہلاک ہونے والے جن اہلکاروں کی شناخت کی تصدیق کرسکی ہے، ان میں محمد رضا اوکاتی، مہدی جمشیدی، وحید عنایت اور عباس آغائی شامل ہیں۔ ان میں سے دوسرا اہلکار کرمان کے علاقے فریاب، جبکہ آخری دو اہلکار زاہدان کے علاقے نصرت آباد میں مارے گئے۔تنظیم کے مطابق بدھ اور جمعرات کی شام کے درمیان صوبے کے مختلف علاقوں میں کم از کم چار مسلح حملے کیے گئے، جن میں علی نجفی، محمد رضا حسینی، مجتبیٰ میر، کیخا اور ایرانمیش نامی اہلکار زخمی ہوئے۔حالوش نے کم از کم مزید تین فوجی اہلکاروں کی ہلاکت اور دو کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع دی، تاہم تنظیم کے مطابق ان اہلکاروں کی مکمل تفصیلات اور شناخت کی آزادانہ طور پر تاحال تصدیق نہیں ہوسکی۔گزشتہ چند ہفتوں سے مغربی بلوچستان میں ایرانی سکیورٹی فورسز اور جیش العدل سمیت مسلح گروہوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔حقوق کی تنظیم کے مطابق بلوچ مسلح تنظیم پیپلز فائٹرز فرنٹ نے نیک شہر، نصرت آباد اور جالق میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تنظیم نے دعویٰ کیا کہ اس کے جنگجوو¿ں نے بارودی سرنگوں، آر پی جی راکٹوں اور مختلف ہتھیاروں کے ذریعے ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا، جس کے دوران چھ پولیس اہلکاروں کو ہدف بنایا گیا۔حالوش نے زمینی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق سرکاری ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں اور موقع پر موجود اس کے ذرائع سے ملنے والی معلومات میں فرق پایا جاتا ہے، جبکہ مزید تحقیقات اور تصدیق کا عمل جاری ہے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ نیک شہر کاو¿نٹی میں فوجی اہلکاروں کو لے جانے والی ایک منی بس مسلح حملے کی زد میں آگئی۔رپورٹ میں محمد رضا اوکاتی اور وحید عنایت کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا گیا کہ تین دیگر اہلکار زخمی ہوئے۔ ایجنسی کے مطابق مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
ایران کی حمایت یافتہ عراقی مسلح تنظیموں سے وابستہ ٹیلی گرام چینل صابرین نیوز نے انسانی حقوق کی تنظیم کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ ہلاک ہونے والا اہلکار مہدی جمشیدی جون 2026 میں صوبہ کرمان کے علاقے فریاب میں ایک گاو¿ں میں بلوچ خواتین کے احتجاج کے دوران جھڑپ میں ملوث تھا۔ صابرین نیوز نے الزام عائد کیا کہ حقوق کی تنظیم نے دو سال پرانے ایک ایسے واقعے کی ویڈیو استعمال کی، جسے اس نے اسمگلروں اور زمینوں پر قبضہ کرنے والوں کے درمیان تنازع قرار دیا۔مغربی بلوچستان میں حالیہ ہفتوں کے دوران ایرانی فورسز اور مسلح گروہوں کے درمیان وقفے وقفے سے ہونے والی جھڑپوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایران کے پسماندہ ترین اور غریب ترین علاقوں میں شمار ہونے والے اس صوبے میں حکومت مخالف جذبات اور وقتاً فوقتاً احتجاجی مظاہرے بھی دیکھنے میں آتے ہیں، جبکہ مقامی آبادی کے خلاف ریاستی اداروں کی سخت کارروائیوں کی اطلاعات بھی مسلسل سامنے آتی رہتی ہیں۔


