پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز کا ڈی سی ویسٹ کوئٹہ کے سردیوں کے فیسوں کے حوالے سے بیان پر تحفظات
کوئٹہ (آن لائن) بلوچستان پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز الائنس کے صدر ملک عبدالرشید کاکڑ نے ڈپٹی کمشنر ویسٹ کوئٹہ کی جانب سے نجی تعلیمی اداروں کی فیسوں کے حوالے سے دیے گئے بیان پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی سرکاری عہدیدار کو چاہیے کہ وہ عوامی سطح پر بیان دینے سے قبل متعلقہ قانون، قواعد و ضوابط اور زمینی حقائق کا مکمل جائزہ لے۔اگر نجی اسکولوں کی جانب سے فیسوں کی وصولی کسی قانون یا حکومتی ضابطے کی خلاف ورزی ہے تو متعلقہ حکام واضح قانونی شق کی نشاندہی کرتے ہوئے قانون کے مطابق کارروائی کریں۔ لیکن اگر ایسی کوئی واضح قانونی پابندی موجود نہیں تو نجی تعلیمی اداروں کے خلاف عمومی اور غیر محتاط بیانات دینے سے گریز کیا جائے۔نجی تعلیمی ادارے بلوچستان میں تعلیم کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہمارے موقف کے مطابق، صوبے میں لاکھوں بچے پہلے ہی اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ 9 لاکھ سے زائد طلبہ نجی تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم ہیں۔ ایسے حالات میں تعلیمی شعبے سے متعلق غیر محتاط بیانات والدین، اسکول انتظامیہ اور تعلیمی اداروں کے درمیان غیر ضروری تشویش پیدا کر سکتے ہیں۔یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ تعلیمی اداروں کے اخراجات صرف 10ماہ تک محدود نہیں ہوتے۔ اسکول مالکان کو سال کے بارہ مہینوں کے کرائیے، یوٹیلیٹی بلز، اساتذہ اور دیگر ملازمین کی تنخواہوں سمیت مستقل اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ تعلیمی کیلنڈر میں تعطیلات ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اداروں کے اخراجات بھی بند ہو جاتے ہیں۔اگر حکومت سمجھتی ہے کہ نجی اسکولوں کی فیسوں کا تعین کسی مخصوص طریقہ کار کے تحت ہونا چاہیے تو اس مقصد کے لیے واضح پالیسی، شفاف قواعد اور باقاعدہ قانون سازی کی جائے۔اس عمل میں نجی اسکولوں کی نمائندہ تنظیموں، والدین اور متعلقہ ماہرین کو بھی اعتماد میں لیا جائے، تاکہ ایسا قابلِ عمل نظام تشکیل دیا جا سکے جو والدین کے مفادات اور تعلیمی اداروں کے جائز اخراجات، دونوں کا تحفظ کرے۔ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ نجی تعلیمی ادارے قانون سے بالاتر نہیں، لیکن ان کے خلاف کسی بھی الزام یا اعتراض کی بنیاد بھی متعلقہ قانون اور مستند حقائق ہونے چاہئیں۔ اگر کسی ادارے نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے؛ تاہم تمام نجی اداروں کو ایک ہی نظر سے دیکھنا اور ان کے مالی معاملات پر عمومی حکم لگانا مناسب طرزِ عمل نہیں۔ہر سال تعلیمی فیسوں کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازعات کا مستقل حل بیانات یا الزام تراشی میں نہیں، بلکہ واضح قانون سازی، مشاورت اور یکساں اصولوں کے نفاذ میں ہے۔ہمارا دوٹوک مطالبہ ہے کہ نجی اسکولوں کی فیسوں سے متعلق متعلقہ قانونی شقوں اور حکومتی قواعد کی وضاحت کی جائے۔ اگر موجودہ قانون میں کوئی ابہام ہے تو حکومت فوری طور پر واضح پالیسی اور ضابطہ مرتب کرے۔نجی تعلیمی اداروں کی نمائندہ تنظیموں کو پالیسی سازی میں شامل کیا جائے۔کسی بھی سرکاری بیان سے پہلے تمام متعلقہ حقائق اور قانونی پہلو¶ں کا جائزہ لیا جائے۔والدین کے مفادات، اساتذہ کے روزگار اور بچوں کے تعلیمی مستقبل کو یکساں اہمیت دی جائے۔بلوچستان پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز الائنس واضح کرتا ہے کہ ہم قانون کی حکمرانی، والدین کے جائز حقوق اور معیاری تعلیم کے فروغ کے حامی ہیں۔ ہمارا مطالبہ کسی غیر قانونی عمل کا تحفظ نہیں، بلکہ ایک واضح، منصفانہ اور قابلِ عمل قانونی نظام کا قیام ہے۔حکومت اور متعلقہ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ نجی تعلیمی شعبے کو غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار کرنے کے بجائے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بیٹھ کر مستقل حل تلاش کریں۔ کیونکہ اس تنازعے کا سب سے زیادہ نقصان بالآخر ہمارے بچوں اور بلوچستان کے تعلیمی مستقبل کو پہنچ سکتا ہے۔


