بلوچستان میں گورننس اور عوامی خدمات کی بہتری کے لیے تمام سرکاری محکموں کی تنظیم نو اور اصلاحات کا فیصلہ کیا گیا ہے ، وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی
کوئٹہ(این این آئی) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں گورننس کے نظام کو موثر بنانے، سرکاری وسائل کے بہتر استعمال اور عوام کو معیاری خدمات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام سرکاری محکموں کی تنظیم نو اور اصلاحات ناگزیر ہیں۔حکومت سرکاری اخراجات میں غیر ضروری اضافے کو روکنے اور انتظامی ڈھانچے کو عوامی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو سیکرٹریز کمیٹی کے جائزہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا اجلاس میں متعدد محکموں کی کارکردگی رپورٹس پیش کی گئیں جبکہ سرکاری محکموں کے انتظامی ڈھانچے، افرادی قوت، غیر ترقیاتی اخراجات اور عوامی خدمات کی فراہمی کا جائزہ لیا گیا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مختلف محکموں میں غیر ضروری بھرتیوں اور غیر ترقیاتی اخراجات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے ٹیکس سے حاصل ہونے والے وسائل کی ایک ایک پائی قومی امانت ہے اور ان وسائل کا ضیاع کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا یہ وسائل اس عام غریب بلوچستانی کی امانت ہیں جو سردی میں ٹھٹھرتا اور گرمی میں جھلستا ہے سرکاری محکموں کے اخراجات کا بنیادی مقصد عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی ہے انہوں نے کہا کہ صوبے کے دستیاب وسائل کا بڑا حصہ غیر ترقیاتی اخراجات کی نذر ہو رہا ہے اس کے باوجود عوام کو مطلوبہ معیار کی خدمات فراہم نہیں کی جا رہیں سرکاری محکموں کو بھرتیوں کی فیکٹریاں بنانے کے بجائے اپنی ذمہ داریاں مو¿ثر انداز میں ادا کرنے والے اداروں میں تبدیل کرنا ہوگا حکومت کی ذمہ داری مختلف شعبوں اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق حسب الطلب روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے، نہ کہ سرکاری محکموں میں غیر ضروری اور بے تحاشا بھرتیوں کے ذریعے مالی بوجھ میں اضافہ کرنا ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ غیر ترقیاتی اخراجات کے بڑھتے ہوئے بوجھ تلے دبے محکمے عوامی خدمات کی فراہمی پر مطلوبہ توجہ نہیں دے پا رہے جو ایک افسوسناک صورتحال ہے انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری محکموں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے انتظامی اصلاحات، وسائل کی مو¿ثر تقسیم اور جوابدہی کے نظام کو مضبوط بنانا ہوگا وزیر اعلیٰ نے گورننس کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں انتظامی کمزوریوں اور خراب طرز حکمرانی کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کے بجائے اپنی کوتاہیوں کا جائزہ لینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی نظام کی تباہی لاہور سے آئے کسی پنجابی نے نہیں کی بلکہ اپنوں کی مرہون منت ہے کسی دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے ہمیں اپنے نظام اور اپنی ذمہ داریوں پر توجہ دینی چاہیے بلوچستان میں گورننس کی بہتری کے لیے داخلی کمزوریوں کی نشاندہی اور ان کے تدارک کے لیے سنجیدہ اقدامات ضروری ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی بہتری اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے سخت مگر درست فیصلے کرنا ہوں گے اصلاحات کے عمل میں مشکل فیصلوں سے گریز نہیں کیا جائے گا کیونکہ صوبے کے وسائل کا درست استعمال اور سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بہتری وقت کی اہم ضرورت ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے تمام محکموں کے سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے محکموں کے انتظامی ڈھانچے، افرادی قوت، اخراجات اور کارکردگی کا جامع جائزہ لے کر اصلاحات سے متعلق قابلِ عمل سفارشات مرتب کریں وزیر اعلیٰ نے یکساں نوعیت کے فرائض انجام دینے والے محکموں کے ممکنہ انضمام اور غیر ضروری افرادی قوت میں کمی کے حوالے سے بھی تجاویز طلب کیں تاکہ دستیاب وسائل کو بہتر انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے عوامی خدمات کی فراہمی کا معیار بلند کیا جا سکے انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اصلاحات کے ذریعے سرکاری محکموں کی استعداد کار بہتر بنانے، اخراجات میں نظم و ضبط لانے اور عوامی مفاد کو حکومتی اقدامات کا محور بنانے کے لیے عملی پیش رفت کی جائے گی قبل ازیں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے مختلف محکموں کی جائزہ رپورٹ پیش کی ۔


