دالبندین میں بدامنی،بھتہ خوری اور اقرباء پروری کے خلاف عوامی جسلہ

عوامی فنڈز میں کرپشن۔بھتہ خوری۔بدامنی۔اقرباء پروری۔متعصبانہ سوچ۔ بڑھتی ہوئی بیروزگاری اور نااہل عوامی نمائندوں کے خلاف بابائے چاغی پینل اور بڑیچ پینل کی جانب سے دالبندین بازار میں واقع شہید حمید چوک پر ایک بڑا عوامی جلسہ عام منعقد کیا گیا جس سے بابائے چاغی پینل کے قائد و سابقہ صوبائی وزیر سخی امان اللہ نوتیزئی۔سابقہ ڈسٹرکٹ چئرمین میر داود خان نوتیزئی۔بڑیچ پینل کے قائد و سابقہ چئرمین نوکنڈی حاجی میر عرض محمد بڑیچ۔قبائلی شخصیات سردار اکبر جان محمد حسنی۔ملک رحمت اللہ نوتیزئی۔حاجی عبدالرحمان ریکی۔حافظ شبیر آحمد اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔سخی امان اللہ نوتیزئی نے کہا کہ چاغی ایک تاریخی اور پرامن ضلع ہے مگر اب کافی عرصے سے علاقے کی امن وامان کی صورتحال بگڑتی جارہی ہے جو کہ عوامی نمائندوں اور انتظامیہ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے انہوں نے کہا کہ قبائلی رہنماء میر عبدالمجید خان نوتیزئ کو ہمسایہ ملک ایران سے 25 گاڑیوں پر مشتمل مسلح افراد اغواء کرکے لے جاتے ہیں مگر ہمارے حکمرانوں اور اختیار داروں کو علم نہیں یہ سراسر دھوکہ دہی ہے انہوں نے کہا کہ ترقی کے نام پر عوام کو طفل تسلی دی جارہی ہے بھتہ خوری میں اضافہ ہورہا ہے علاقے میں غربت اور بیروزگاری سے لوگ تنگ آچکے ہیں فوٹو سیشن کی سیاست سے ہرگز عوام کی خدمت نہیں کی جاسکتی انہوں نے کہا کہ انھیں جلسے جلوس کرنے کا ہرگز شوق نہیں بلکہ عوام کی مجبوری نے انھیں سڑکوں پر جمع کردیا ہے علاقے کے عوام سے ظلم و ناانصافی ہرگز برداشت نہیں کریں گے انہوں نے کہا کہ وہ چاغی میں امن وامان برقرار رکھنے کے لیے ہرقسم کی قربانی دینے کو تیار ہیں چاغی میں قبائلی تنازعات کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے انہوں نے سابقہ سینیٹر سردار فتح محمد حسنی کے رہائش گاہ فائرنگ کے واقع کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ملزمان کی کھوج لگانے اور ہرقسم کے تعاون کا بھی یقین دلایا۔سابقہ ڈسٹرکٹ چئرمین میر داود خان نوتیزئی نے کہا کہ تبدیلی سرکار کی آمد کے ساتھ ہی چاغی کے عوام زندگی اجیرن بننے لگی رشوت خوری۔بھتہ خوری۔اقرباء پروری عام ہوچکی ہے انتظامیہ سلیکٹڈ ایم پی اے چاغی کے ہاتھوں یرغمال بن گیا ہے سیاسی مخالفین کے لیے انتظامیہ کے دروازے بند ہیں اگر کوئی آدمی محنت مزدوری کرنے کے لیے گھر سے نکلتا ہے تو لیویز اہلکار انھیں نوچ ڈالتے ہیں جبکہ علاقے کے عوامی نمائندے جو کہ خدا ترسی۔عبادت گزاری اور توبہ کا درس دیتے ہیں اتنے بڑے پیمانے پر بھتہ خوری پر کیوں اپنی آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں دوسروں پر الزام تراشی کرنے والے اب کیوں عوام کو جواب دینے سے کتراتے ہیں ہسپتالوں میں ادویات اور ڈاکٹرز نہیں مریض تڑپ تڑپ کر مر جاتے ہیں مگر ایم پی اے چاغی ترقی کا بے بنیاد شوشہ چھوڑ رہے ہیں امن وامان کی صورتحال مخدوش۔تعلیم صحت۔آبنوشی کی سہولیات کا فقدان ہے مگر ایم پی اے چاغی 9 ارب کے فنڈز کا دعوی کررہیہیں آخر یہ فنڈز کہاں گئے بلکہ ریسٹ ہاوسز اور دیگر چند عمارتوں کا رنگ و روغن کرکے اپنے بھائی اور عزیز و اقارب کو نوازہ گیا ہے اتنے بہت سارے فنڈز سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں مل رہا ہے ترقی و خوشحالی کا نعرہ جھوٹا ثابت ہونے لگا ایم پی اے چاغی کا بھائی جو کہ خود ٹھیکیدار ہے سرکاری آفیسران کے ساتھ اپنے کاموں کا معائنہ کرتے ہیں جو کہ انوکھا فعل ہے۔پرسنٹیج کا خاتمہ کرنے والے ٹینڈرز و ٹھیکے اپنے رشتہ داروں میں بانٹ رہے ہیں۔ دو سالوں سے ایک بے روزگار نوجوان کو روزگار نہیں مل سکا انتقامی کاروائیاں عروج پر ہیں لیویز سپائیوں کو بھی ضلع بدر کرکے سیاسی انتقام لیا جارہا ہے کسی دوسرے ضلع سے ایک آفیسر کو لاکر فوکل پرسن کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں ضلع چاغی کے اجتماعی مسائل پر ہرگز خاموش نہیں بیٹھیں گے سرکاری ملازمین کے ساتھ انتقامی کاروائی۔بھتہ خوری۔ بدامنی سیندھک پروجیکٹ کے ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک کے خلاف وہ قومی شاہراہ پر دھرنا دیں گے کیونکہ حکمران عوام سے ناانصافیاں کررہیہیں جو کہ انھیں ہرگز برداشت نہیں۔جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سابقہ چئیرمین نوکنڈی حاجی میر عرض محمد بڑیچ نے کہا کہ چاغی کے عوام کو سبز باغ دکھا کر اقتدار میں پہنچنے والوں نے مظالم کی انتہا کردی ہے آج کل ہر ایک پریشان ہے محنت مزدوری کرنے والوں کو بھتہ خور نہیں چھوڑتے تعصب کی سیاست اپنی عروج پر پہنچ چکی ہے۔سیاسی مخالفین کو تنگ کرنے کے نتائج خطرناک ہونگے انہوں نے کہا کہ اغواء کاروں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے بلکہ ان کی خوب اہ و بھگت کی جارہی ہے سیندھک پروجیکٹ کے فنڈز کو شیر مادر سمجھکر ہڑپ کر دیا جا رہا ہے نوکنڈی کے عوام آج بھی پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں چاغی میں عجیب قسم کی سیاست کو فروغ دیا جارہا ہے نااہل قیادت مسلط کر دی گئی ہے حکمران فرعون بنے بیٹھے ہیں چئیرمین سینٹ۔صوبائی وزیر۔ایم ڈی سیندھک سرکاری مشینری اور سیندھک پروجیکٹ کے فنڈز سے عوام کے ضمیر کو خریدنے کی کوشش کررہے ہیں سیندھک پروجیکٹ کو سیاسی مخالفین ملازمین کے لیے گوانتاناموبے جیل بنا دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ وہ ہر فورم پر حق اور سچ کی آواز بلند کریں گے اور کسی بھی قسم کے ہتھکنڈے سے ہرگز مرعوب نہیں ہوں گے نہ کسی کے دباؤ میں آکر اپنے موقف سے پیچھے ہٹیں گے جلسہ عام سے سردار اکبر جان محمد حسنی۔ملک رحمت اللہ نوتیزئی۔حاجی عبدالرحمان ریکی اور دیگر نے بھی خطاب کیا جلسہ عام کے دوران نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء و سینیٹر میر حاصل خان بزنجو۔چیف آف چاغی سردار تاج محمد خان سنجرانی مرحوم کی رحلت اور تربت میں نوجوان طالبعلم حیات بلوچ کی ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی قبل ازیں سخی امان اللہ نوتیزئ کی قیادت میں دالبندین بازار میں ایک احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی جس میں صوبائی حکومت۔ ایم پی اے چاغی کی پالیسیوں۔بدامنی اور بھتہ خوری کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں