دوسرے ضلع کے زمیندار کو مارکیٹ کمیٹی کا چئیرمین بنایا گیا ہے، ملک نصیر شاہوانی
بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے ملک نصیراحمدشاہوانی نے توجہ دلائو نوٹس پیش کرتے ہوئے کہاکہ مارکیٹ کمیٹی کوئٹہ کاممبر /چیئرمین قوائد وضوابط کے تحت کوئٹہ کے مقامی زمیندار کوہی مقرر کیاجاتاہے جبکہ قوائد کے برخلاف کسی دوسرے ضلع کے زمیندار وممبر /چیئرمین منتخب کرنے کی کیاوجوہات ہے تفصیل دی جائے ۔صوبائی وزیر زراعت کی عدم موجودگی میں وزیرپی ایچ ای /واسا حاجی نورمحمد دمڑ نے توجہ دلائو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ کمیٹی کاچیئرمین یقینی طورپر مقامی زمیندار ہونا لازمی ہے انتخاب کے طریقہ کار یہ ہے کہ کمیٹی کے ارکان کے انتخاب سے قبل ان کی اراضی کی تصدیق ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی جانب سے کی جاتی ہے اوراس کے بعد کمیٹی کے ممبران اپنے چیئرمین کا انتخاب کرتے ہیں ،اس کیلئے ضروری ہے کہ ارکان کی کوئٹہ میں اراضی اور جائیداد ہونی چاہیے بی این پی کے ملک نصیرشاہوانی نے کہاکہ کمیٹی کے جو چیئرمین بنائے گئے ہیں ان کی شائد کاروباری حوالے سے کوئٹہ میں زمین ہو مگر ان کا کوئٹہ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ کوئٹہ کے مقامی زمیندار ہے ان کی تقرری سے کوئٹہ کے مقامی زمینداروں سے ناانصافی کی گئی ہے انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے جو بھی وزیر بنتاہے وہ اپنے حلقے کے لوگوں کو کوئٹہ کی آسامیوں پر ملازمتیں دے دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ دوسرے اضلاع کے لوگوں کی بڑی تعداد کوئٹہ میں ملازمت کررہی ہے یہی کچھ حال ہی میں واسا میں بھی کی گئی ہے جہاں ایک شہر سے بڑی تعداد میں لوگوں کو ملازمتیں دی گئی ہے جو موجودہ زرعی کمیٹی کے چیئرمین بنائے گئے ہیں ان کا تعلق ژوب سے ہے ان کاشناختی کارڈ تک کوئٹہ کا نہیں اگر ہم سے ناانصافیوں کا سلسلہ بند نہ ہوا تو ہم اپنی مارکیٹ کمیٹی بنائیںگے جس کے بعد حالات کی ذمہ داری حکومت پرعائد ہوگی اس سلسلے میں ہم مقامی قبائل کے اجلاس میں فیصلہ کرینگے ۔


