ہمارے نوجوان ڈپریشن کاشکار، ہم جب بھی پارلیمنٹ میں جاتے ہیں تو واپس پٹ کر آتے ہیں،ڈاکٹرمالک بلوچ
اسلام آباد/کوئٹہ:نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر وسابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے کہاہے کہ سول سپریمیسی تک ہمیں قومی ،طبقاتی حقوق نہیں ملیںگے ،ووٹ کو عزت اور جمہوریت کی بالادستی کے نعرے پر ہم روزانہ پیشیاں بھگت رہے ہیں اور وکلاء ہماری ضمانتیں کروا کروا کر تھگ گئے ہیں ،بڑی جماعتیں روز روز نئی پارٹیاں بنانے والوں کو روک سکتی ہیں ،نیشنل پارٹی میں گڑبڑھ کرنے پر ایک کونکال دیا گیا ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے پاکستان بار کونسل کے زیراہتمام آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے کہاکہ سوال یہ ہے کہ کیا اس ملک میں سول سپریمیسی کو مانا جائے گالیکن اب تک کے حالات ایسے ہیں کہ اس کو تسلیم نہیں کیاگیاہے جب تک سیاسی جماعتیں بار اور بینچ کی جانب سے مشرف کے ساتھ اپنائی گئی اسٹریٹجی نہیں اپنائے گی توجس طرح پٹ رہے ہیں مزید پٹتے جائیںگے ،انہوں نے کہاکہ رضا ربانی ودیگر کو پتہ ہے کہ بندوق کے زور پر19ویں ترمیم کی گئی ،انسانی حقوق کی بات کی جائے تواس کی وضاحت ضروری ہے کسی کو اٹھا کر لاش پھینک دیاجائے بلوچستان ،سندھ اور خیبرپشتونخوا میں یہ عام بات ہے ،موجودہ حالات سے ہمارے نوجوان بہت زیادہ ڈپریشن اور ایکسٹریمزم کے شکار ہوچکے ہیں ،تربت میںحیات بلوچ کو شہید کرنے کا واقعہ سب کے سامنے ہے یہاں اکائونٹیبلٹی نہیں ،کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ ہماری ضمانتیں کرواتے کرواتے تھگ گیاہے ،ایک دن ایک جج نے کہاکہ خدا کیلئے سب جائو پی ٹی آئی میں ،روزانہ پیشیاں مانگ رہاہے ،میڈیا ہمیں کوریج نہیں دے رہا کہ ہم کیا بھگت رہے ہیں ،ہم روزانہ لائن میں لگے پیش ہوتے ہیں صرف اس بنیاد پر کہ ہم نے کہاکہ ووٹ کو عزت دو ،پارلیمنٹ کی بالادستی ہو حالانکہ یہ ہمارے بڑوں کا نعرہ تھا ہم سمجھتے ہیں کہ ملک میں جمہوریت کی بالادستی ہو ،جب تک ملک میں سول بالادستی نہیں ہوگی اس وقت تک قومی حقوق ،طبقاتی حقوق ملیںگے اورنہ ہی جوڈیشری سے انصاف ملے گی ،میڈیا کی صورتحال سب کے سامنے ہے ،وطن اور انسان دوست لوگوں کو سائیڈ لائن کیاجارہاہے ،بلوچستان میں بے شمار میڈیا سے وابستہ صحافی مارے گئے ہیں ،ہم چھوٹی جماعتیں نہیں بلکہ اکائیوں کی نمائندگی پیش کررہے ہیں یہ الگ بات ہے کہ قومی اسمبلی میں بلوچستان کی سیٹیں کم ہے ،بڑی جماعتوں سے گزارش ہے کہ یہ کون لوگ ہیں جو روز پارٹیاں بنارہے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو کبھی پیپلزپارٹی تو کبھی مسلم لیگ (ن) میں ہوتی ہے اور پھر کہیں اور چلے جاتے ہیں ،کم از کم ان لوگوں کو روکا جاسکتاہے ،ان کو بڑی جماعتیں اپنے پاس ٹرانسفر نہ کروائیں ۔انہوں نے کہاکہ ہم سب کو مل کر ایک اسٹریٹجی بنانے کی ضرورت ہے ہم جب بھی پارلیمنٹ میں جاتے ہیں لیکن واپس پٹ کر آتے ہیں ،نیشنل پارٹی میں ایک بندے نے گڑبڑھ کی ہم نے انہیں پارٹی سے نکال دیا اگر دو سے تین لوگوں کو فارغ کیاجائے تو آگے کچھ بن سکتاہے ۔


