میرا بیان میڈیا تو نہیں دیکھا رہی تھی اے پی سی نے بھی روک دیا،مولانا فضل الرحمن
اسلام آباد : جمعیت علماء اسلام (ف )کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اے پی سی میں اسمبلیوں سے استعفے اور سندھ اسمبلی کو تحلیل کرنے کی تجویز د یتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں آج ہی فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اسمبلیوں سے مستعفی ہوں گے، وزیراعظم سمیت اسمبلیاں جعلی اور میرے نزدیک سینیٹ چیئرمین بھی جعلی ہے، ہم نے مظبوط موقف کی طرف جانا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے پی پی پی سے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ میرا بیان میڈیا تو نہیں دیکھا رہی تھی اے پی سی نے بھی روک دیا۔اتوار کو اسلام آباد میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کا کہناتھاکہ اج پارلیمینٹ میں قانون سازی ہو رہی ہے کیا یہ بندوق کے زور پر نہیں ہو رہی؟۔اگر اسلام بندوق کے زور پر ناروا ہے تو قانون بندوق کے زور پر کیسے روا؟ ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اب زبانی باتیں نہیں کرنی بلکہ ہمیں تحریری بات کرنی ہوگی۔میڈیا کو اتنا قید کردیا گیا ہے کہ وہ ہماری لاکھوں کے اجتماعات اور ہماری تقاریر نہیں دکھارہے انکو روکا جاتا ہے ۔ آج ہی فیصلہ کریں کہ ھم اسمبلیوں سے مستعفی ہوجائیں گے۔بنیادی بات یہ ہے کہ اب میں زبانی دعوؤں پر یقین نہیں رکھتا۔اب آپ بہت کہیں گے کہ ھم لڑیں گے لیکن آپ لوگ بہت پیچھے ہٹ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ جعلی نظام ہے ، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا فیصلہ آج ہی کیا جائے ، اور پیپلزپارٹی سندھ حکومت سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی اسمبلی کو تحلیل کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مضبوط موقف کی طرف جانا ہوگا ، ہمیں اب زبانی نہیں تحریری باتیں کرنا ہوں گی ، ہر طرح کی سرکاری تقریبات کا بائیکاٹ کیا جائے ، اسمبلی میں ہر قسم کی کارروائی کا بائیکاٹ کریں گے ، کیونکہ وزیراعظم سمیت اسمبلیاں جعلی اور میرے نزدیک چیئرمین سینیٹ بھی جعلی ہیں۔قبل ازیں جمعیت علما اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان آل پارٹیز کانفرنس کے منتظمین سے ہی شکوے کرنے لگے۔ مولانا فضل الرحمان نے پیپلزپارٹی سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرا بیان تو میڈیا بھی نہیں چلا رہا اب اے پی سی نے بھی روک دیا ، جس پر بلاول بھٹو زرداری نے وضاحت کیلئے شیری رحمان کو طلب کیا۔ شیری رحمان نے کہا کہ جے یو آئی کی درخواست پر ان کیمرہ اجلاس کیا گیا۔ اس پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم نے ان کیمرہ اجلاس کی درخواست نہیں کی تھی


