کالج اساتذہ تنظیمی انتخابات میں بھرپور حصہ لیں، بی پی ایل اے یکجہتی پینل
کوئٹہ ;بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچرر ایسوسی ایشن کے یکجہتی پینل کے کنوینرز نے اپنے اخباری بیان میں کہا ہے کہ بی پی ایل اے کے ہونے والے انتخابات میں پروفیسر برادری شرکت کرکے اپنا حق رائے دہی کا بھرپور استعمال کرکے ایک ایسی قیادت کو سامنے لائے کہ جس سے اس تعلیم یافتہ طبقہ کے مسائل قانونی و آئینی طریقے سے حل ہوں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پروفیسروں کے مسائل اور مشکلات کو حل کرکے ہی بہتر تعلیمی نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں کیونکہ ان کے اثرات معاشرے کے ہر شعبہ پر پڑنا شروع ہوں گے جن سے پیشرفت اور ترقی کے تمام دروازے کھلنا شروع ہوں گے۔ آج کے اس دور میں علم اور ٹیکنالوجی کے بغیر ترقی کا تصور کرنا ناممکن ہے کالج اساتذہ کی خدمات ہی وہ بنیادی زینہ ہے جہاں سے کوئی بھی معاشرہ عظمت اور کامیابیوں کی بلندیوں کو چھونا شروع کرتا ہے۔ اگر اس اہم شعبہ کی طرف ذرا بھی توجہ دی گئی تو کوئی وجہ نہیں کہ قلیل عرصے میں ملک کے ہر شعبہ میں مثبت تبدیلیوں کو محسوس کیا جائے گا۔ یکجہتی پینل کے کنوینرز نے اپنے اخباری بیان میں جمہوری اقدار کے فروغ میں اساتذہ کے کردار کو سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں تعلیمی پسماندگی کی اب تک کی بڑی وجہ کالجز اور کالج اساتذہ کے مسائل کو نظر انداز کیا جانا ہے ۔ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ بی پی ایل اے کا یکجہتی پینل کامیابی پر اپنے عظیم تر پلان پر سائنسی انداز میں کام کو آگے بڑھائے گا ، یکجہتی پینل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ برسوں سے چلی آرہی خرابیوں کو دور کرنے کی صلاحیت کے ساتھ ہی کامیاب نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ اخباری بیان میں یک جہتی پینل کے بلوچستان بھر کے پروفیسروں کے ساتھ حالیہ رابطوں اور مختلف وفود کے ساتھ ملاقاتوں کو خوش آئند قرار دیا گیا ہے اور جدید دور میں اساتذہ کی طرف سے بھرپور تعاون کی یقین دہانی پر شکریہ ادا کیا گیا ہے۔ یکجہتی پینل کے کنوینرز نے بی پی ایل اے کے تمام ممبران کی انتخابات میں یقینی شرکت پر زور دیا ہے اور انتخابی فہرست میں رہ جانے والے اساتذہ کی رجسٹریشن کے حوالے الیکشن کمیٹی کے معزز اراکین سے اس اہم ایشو پر بات کی جائے گی۔ یکجہتی پینل ڈویژن اور مرکز کی سطح پر اپنے امیدواروں پر مشاورت کا عمل مکمل کر چکا ہے آئندہ کچھ روز میں اساتذہ جرگے میں اس پر جمہوری روایات کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔


