بے نظیر بھٹو قتل کیس : تینوں اپیلوںکی سماعت ، بری ہونے والے دو ملزمان کے پیش نہ ہونے پروارنٹ گرفتاری جاری
راولپنڈی :عدالت عالیہ راولپنڈی بنچ کے جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس صادق محمود خرم پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو قتل کیس میں انسداد دہشت گردی راولپنڈی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر تینوں اپیلوںکی سماعت کے دوران بری ہونے والے دو ملزمان کے پیش نہ ہونے پروارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ہیں جبکہ ضمانتی مچلکوں پر رہاہونے والے ملزمان کوعدالت میں پیش نہ کرنے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے سٹی پولیس افسر راولپنڈی کونوٹس جاری کر کے طلب کرلیاہے اور ہدایت کی ہے کہ آئندہ تاریخ پر ملزمان کو گرفتار کر کے پیش کیا جائیسابق صدر پرویز مشرف کے حوالے سے عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اس نکتے پر آئندہ تاریخ پر آپ کو سنیں گے عدالت نے سماعت19اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر پانچوں ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم جاری کردیاہے گزشتہ روز سماعت کے موقع پرعدالت نے کیس میں سزا پانے والے دونوں پولیس افسران اور بری ہونے والے پانچوں ملزمان کے خلاف3الگ الگ اپیلوں کی سماعت کے موقع پر بری ہونے والے دونوںملزمان شیر زمان اور اعتزاز شاہ کی عدم حاضری پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور آئندہ سماعت پر ان دونوںملزمان سمیت رہائی پانے والے دیگر 3ملزمان کی پیشی کے ساتھ سی پی او اور آر پی اوراولپنڈی کو آئندہ تاریخ پر جواب دینے کی ہدایت کی ہے اس موقع پر پیپلز پارٹی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ ،سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف ،نیئر حسین بخاری ،فرحت اللہ بابراورعامر فدا پراچہ بھی موجود تھے مقدمے میں پیپلز پارٹی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے عدالت سے استدعا کی کہ بی بی قتل کیس کے نامزد مفرور ملزم سابق صدر پرویز مشرف کوبھی واپس لایا جائے اور موت کی سزا دی جائے جس پر عدالت نے قرار دیا کہ ابھی ملزمان کی حاضری کاعمل چل رہا ہے آئندہ تاریخ پر اس پر آپ کو سنیں گے یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بے نظیر قتل کیس میں خصوصی عدالت سے بری ہونیوالے دونوں ملزمان کو ضمانتی مچلکوں پر رہائی ملی تھی جن کی عدالت میں حاضری ضروری تھی تاہم وہ پیش نہیں ہوئے جبکہ اسی کیس میں دیگر بری ہونیوالے دیگر 3 ملزمان رفاقت حسین ، حسنین گل اور عبد الرشیدتاحال ضمانتی مچلکے نہ ہونے پر رہائی حاصل نہ کرسکے اس موقع پر سزا یافتہ پولیس افسران کی اپیلوں کی سماعت بھی آئندہ تاریخ تک ملتوی کردی گئی یہ اپیلیں پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف زرداری نے دائر کی تھیںیاد رہے کہ عدالت عالیہ راولپنڈی بنچ میں سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر قتل کیس کے متعلق 3الگ الگ اپیلیں زیر سماعت ہیں ایک اپیل میںوفاقی حکومت نے بے نظیر بھٹو قتل کیس سے انسداد دہشت گردی راولپنڈی کی خصوصی عدالت کے فیصلے کوچیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ عدالت نے مقدمہ میں گرفتارپانچوں ملزمان محمد رفاقت،حسنین گل،شیر زمان،رشید احمد اور اعتزاز شاہ کے خلاف ٹھوس شواہدہونے کے باوجودبری کر دیا جو انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے لہٰذا ماتحت عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے پیپلز پارٹی کے راہنما سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب سے دائر اپیل میںموقف اختیار کیا گیا تھاکہ پولیس افسران کو صرف 2الزامات میں سزا دی گئی جبکہ ٹرائل کورٹ میں سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل میں ملوث افراد کے خلاف مجموعی طور پر 11الزامات عائد کئے گئے تھے اپیل میں کہا گیا ہے کہ مقامی پولیس بے نظیر بھٹو قتل کی سازش میں ملوث تھی صرف 2 پولیس افسران کو سزا دی گئی، فیصلے میں 302 کا ذکر تک نہیںکیا گیاجبکہ وفاقی حکومت نے بھی پولیس افسران کی سزائوں میں اضافے کے لئے اپیل دائر کر رکھی ہے اپیلوں میںموقف اختیار کیا گیا کہ ماتحت عدالت کی طرف سے عجلت میں جاری کیا گیا فیصلہ حقائق اور ریکارڈ کے برعکس ہے عدالت پراسیکیوشن کی جانب سے پیش کردہ شواہد اور مقدمہ کے حقائق کا تجزیہ کرنے میں ناکام رہی ہے ٹرائل کے دوران قانونی نکات کو مدنظر نہیں رکھا گیا جس ملزم کو کم عمر ہونے کی بنا پر بری کیا گیا اس کی حد تک بھی قانونی نکات کو مدنظر نہیں رکھاگیاواضح رہے کہ انسداد دہشت گردی راولپنڈی کی خصوصی عدالت نمبر1کے جج محمد اصغر خان نے 31اگست2017کو بے نظیر قتل کیس کا ٹرائل مکمل ہونے پر مقدمہ میں نامزد پہلے سے گرفتار 5ملزمان محمد رفاقت،حسنین گل،شیر زمان،رشید احمد اور اعتزاز شاہ کو عدم ثبوت کی بنا پر مقدمہ سے بری کر نے کے ساتھ سی پی او راولپنڈی سعود عزیز اور سابق ایس پی راول ڈویژن خرم شہزاد کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 119اور201کے تحت جرم ثابت ہونے پر مجموعی طور پر 17،17سال قیداور 10 لاکھ روپے فی کس جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ سابق صدر پرویز مشرف کو عدالت سے روپوشی اور دانستہ عدم حاضری پر اشتہاری قرار دیتے ہوئے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیدا ضبط کرنے کا بھی حکم دیا تھا جبکہ مقدمہ میں نامزدتحریک طالبان پاکستان کے رہنمابیت اللہ محسود،عباد الرحمان عرف نعمان عرف عثمان،عبداللہ عرف صدام،فیض محمد، اکرام اللہ،نصراللہ،نادر عرف قاری اسماعیل پر مشتمل7ملزمان کو مسلسل عدم حاضری پر عدالت نے پہلے ہی اشتہاری قرار دے رکھا تھایاد رہے کہ سانحہ لیاقت باغ میں سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اورپیپلز پارٹی کے23کارکنان کی المناک موت کے بعد تھانہ سٹی پولیس کے ایس ایچ او کاشف ریاض کی مدعیت میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7اے ٹی اے اورایکسپلوزو ایکٹ کی دفعہ4/5کے علاوہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 302،324،435،436،120B ،119، 201 ،109 اور 34 کے تحت درج مقدمہ نمبر 471درج کیا گیا تھا نامعلوم ملزمان کے خلاف درج ابتدائی ایف آئی آر میں سعود عزیز اور خرم شہزاد دونوں ملزم نہیں تھے بعد ازاں انہیں شامل تفتیش کرنے کے بعد ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 119اور201کا اضافہ کیا گیا تھا۔#/s#


