حکومت کی کھوکھلی یقین دہانی ہمارے کسی کام کے نہیں ، بلوچ طلبا

بلوچ طلبا کااحتجاجی کیمپ پینتس دنوں سےجاری ہے جس کا مقصد یونیورسٹی کی طرف سے فیس وصولی کی پالیسی کو روکنا ہے اورڈیرہ غازی خان اورراجن پورکے طلبا کےلیے کوٹے پرسکالرشپ کےساتھ ان کےلیے ہرشعبے میں کوٹے کا حصول بھی شامل ہے،احتجاجی کیمپ میں موجود طلبا کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے کھوکھلی یقین دہانی کی جارہی ہے جوہمارے کسی کام کا نہیں ہے ،حکومت کوچاہیے وہ ہمارے مسئلے کو جلدازجلد ہنگامی بنیادوں پرحل کرے
واضح رہے بلوچ طلبا کااحتجاج بہاوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کی طرف سے فیس وصول کرنے کے خلاف پینتس دنوں سے جاری ہے مگرابھی تک کسی قسم کی شنوائی نہ ہونا طلبا کےلیے باعث تشویش ہے کیونکہ داخلوں کا خاتمہ ہونے والا ہے اور یونیورسٹی بھی اس مسئلے سے لاتعلق ہوچکی ہے جس کاخمیازہ بلوچستان اورفاٹا کےطلبا کو حکومت کی عدم سرپرستی کی وجہ سےبھگتنا پڑےگا،
واضح رہے اس سے بلوچستان کے تعلیمی پس منظر پر برے اثرات مرتب ہونے کے خطرات منڈلا رہے ہیں
ادھر دوسری جانب پنجاب یونیورسٹی میں بھی بلوچ طلبا کا سکالرشپ کی بحالی کےلیے بھی احتجاج مسلسل نویں دن سے جاری ہے
ان کا مطالبہ ہےکہ ان کےخلاف کاٹے گئےایف آئی آر واپس کیے جائیں اوران کےسکالرشپ بحال کیےجائی

اپنا تبصرہ بھیجیں