پی ڈی ایم بلوچستان کی تعمیرو ترقی کو روکنے و ملک دشمن ایجنڈے پر عمل پیراہے،منظور کاکڑ
کوئٹہ:بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل و سینیٹر منظوراحمد کاکڑ نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم بلوچستان کی تعمیرو ترقی کو روکنے اور جمہوری عمل کو سبوتاژ کرکے اپنی کرپشن کو بچانے کیلئے ملک دشمن ایجنڈے پر عمل پیراہے بلوچستان کے عوام انکی صوبے میں سیاسی سرگرمیوں کو مسترد کردیں گے ،کوئٹہ میں موجودہ حکومت 40ارب سڑکوں ،تعلیم ،صحت ،سپورٹس اوردیگرشعبوں پر خرچ کررہی ہے کیونکہ پاکستان کا مستقبل سی پیک اور بلوچستان سے وابستہ ہے۔ یہ بات انہوں نے ہفتہ کو بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات چوہدری شبیر احمد ،حافظ اسلم اوردیگر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اور اسمیں شامل جماعتوںکے رہنمااور سزا یافتہ مجرم نواز شریف لندن میں بیٹھ کر ملکی اداروں کے خلاف جو زبان استعمال کررہے ہیں وہ تمام غداری کے زمرے میں آتی ہے کیونکہ اس طرح کی زبان دشمن ملک ہمارے خلاف استعمال کررہا ہے اور یہی کام نا اہل سزا یافتہ مجرم اپنی کرپشن چھپانے، نیب اور منی لانڈرنگ سے بچنے کیلئے کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے ایف اے ٹی ایف کے بل پرحکومت کو بلیک میل کرکے اپنی مرضی کی ترمیم اورقانون سازی کرنا چاہتے تھے بلوچستان عوامی پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف اپنے اتحادیوں کے ساتھ ملکر مضبوط پاکستان اور روشن بلوچستان کیلئے عملی اقدامات اٹھارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سی پیک پاکستان کی ترقی کا ضامن ہے اور اپوزیشن جماعتوں نے بلوچستان کی ترقی کو سبوتاژ کرنے کیلئے پی ڈی ایم کا اتحاد بناکر صوبے کی تعمیرو ترقی کوروکنے کیلئے احتجاج کا راستہ اختیارکیا ہے لیکن ہماری اتحادی حکومت اپوزیشن کی بلیک میلنگ کی پالیسیوں اوراحتجاج کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیگی ۔سینیٹر منظورکاکڑنے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے کوئٹہ میںسڑکوں دو رویہ کرنے ،تعلیم صحت ،سپورٹس کے میدانوں کی تعمیر کیلئے 40 ارب روپے مختص کئے ہیںاوران ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے ۔انہوں نے کہا کہ جس طرح ہماری حکومت صوبے کی تعمیر و ترقی پر توجہ دے رہی ہے ماضی میں کسی بھی حکومت اس طرح کے اقدامات نہیں اٹھائے۔انہوں نے کہا کہ ملک دشمنوں نے بلوچستان میں دہشت گردی کا بازار گرم کر رکھا تھا بھارتی ایجنٹ کلھبوشن یاد کو بھی بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا جس نے صوبے کی تعمیر و ترقی کے منصوبوں اورسی پیک کو سبوتاژ کرنے کیلئے دہشت گردی کروائی تھی اسی طرح پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا ہوکر بلوچستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہیں انہیں عوام اوربلوچستان کی خوشحالی سے کوئی غرض نہیں وہ اپنی کرپشن بچانے کیلئے تحریک چلارہی ہیںصوبے کے عوام انکی پالیسیوں اوراقدامات سے بخوبی آگاہ ہیں اوروہ انکے ان جلسوں میں شرکت نہ کرکے انہیں مسترد کردیں گے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ملکی اداروں اورپاک فوج کے تعاون سے عوامی مسائل کے حل کیلئے اقدامات اٹھارہی ہے عوام میں پی ڈی ایم کو پذیرائی نہ ملنے کی وجہ سے وہ اپنے جلسوں کی متعدد بار تاریخیں تبدیل کررہے ہیںاپوزیشن جماعتوں میں پھوٹ پڑچکی ہے اورانہیں اپنی ناکامی واضح نظرآرہی ہے۔ایک سوال کے جواب میں سینیٹر منظوراحمد کاکڑ نے کہا کہ پی ڈی ایم میں پاکستان پیپلز پارٹی،مسلم لیگ(ن) اور جمعیت علماء اسلام دھرنوں کے ذریعے حکومت کی کامیاب پالیسیوں کو نقصان پہنچاناچاہتے ہیں وہ نہیں چاہتے کہ حکومت عوام کو بڑھتی ہوئی مہنگائی سے نجات اورانہیں ریلیف دے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جمہوری حکومت اپنے فیصلوں میں خود مختار ہے پاک فوج اورسیکورٹی فورسز ملک کی سرحدوں اور بدامنی کے خاتمے کیلئے کوشاں ہیںاور تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کررہے ہیں۔


