کوئٹہ،سی ٹی ایس پی شارٹ لسٹڈ اساتذہ نے احتجاجی کیمپ قائم کردیا

کوئٹہ: آل بلوچستان شارٹ لسٹڈ ٹیچرز فورم نے رواں سال فروری میں حتمی لسٹ آویزاں ہونے کے بعد اب تک آرڈرز جاری نہ ہونے کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگادیا ۔ تفصیلات کے مطابق اتوار کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے آل بلوچستان شارٹ لسٹڈ ٹیچرز فورم کے رہنمائوں کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی کیمپ لگایا گیا جس میں آل بلوچستان شارٹ لسٹڈ ٹیچرز فورم کے صوبائی صدر رحمت اللہ یاسین زئی ، جنرل سیکرٹری مقبول احمد راہیجہ ، صوبائی نائب صدر مفتی شفیق اللہ سعدی ، زقوم خان کاکڑ سمیت شارٹ لسٹڈ امیدواروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ احتجاجی کیمپ کے شرکاء نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ سال مئی کے مہینے میں محکمہ تعلیم کی جانب سے اساتذہ بھرتی لئے اشتہار مشتہر کیا گیا اور نومبر 2019کو سی ٹی ایس پی کے زریعے ٹیسٹ منعقد کرائے گئے جن کے نتائج کا اعلان رواں سال جنوری کے مہینے میں کیا گیا بعد ازاں فروری میں حتمی لسٹ آویزاں کی گئی اور ساتھ ہی تمام اضلاع کو شارٹ لسٹڈ امیدواروں کی لسٹیں متعلقہ اضلاع میں ڈی آر سی کو بھجوائیں مگر ڈی آر سی کے کام کے دوران ویٹنگ لسٹ پر موجود امیدواروں کی جانب سے عدالت عالیہ میں کیس دائر کیا گیا جسے عدالت نے جولائی میں مسترد کرتے ہوئے فیصلہ سنادیا اور ڈی آر سی کو 7یوم کے اندر مکمل کرکے منظوری کے لئے ڈائریکٹر آف ایجوکیشن بھیجنے کے احکامات صادر کئے مگر اکثر اضلاع کے لسٹ ڈائریکٹریٹ میں اعتراض لگا کر واپس کردی گئی جبکہ ڈائریکٹر ایجوکیشن نے موقف اختیارکیا کہ تمام اضلاع کی لسٹیں موصول ہونے کے بعد سی آر سی ہوگی اور اس کے بعد منظوری کا کام ہوگا جسے ہم پالیسی اور عدالتی فیصلے کے منافی سمجھتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ضمن میں انہوں نے بارہاں حکام بالا سے رجوع کیا مگر طفل تسلیوں کے سوا ابھی تک ان کے آرڈرز جاری نہیں ہوسکے ہیں جس کی وجہ سے ساڑھے 5ہزار امیدواروں میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ انہوں نے صوبائی وزیر تعلیم اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ فوری طورپر شارٹ لسٹڈ امیدواروں کے آرڈرز جاری کئے جائیں تاکہ وہ سکھ کا سانس لے سکیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں