بلوچستان حکومت ایک بچے پرماہانہ چار ہزار روپے خرچ کررہی ہے، سرداریار محمد رند
کوئٹہ؛صوبائی وزیر تعلیم سرداریارمحمدرند نے کہاہے کہ بلوچستان ملک کے 50 فیصد رقبے پر مشتمل ہے اس لیے تمام علاقوں تک رسائی مشکل ہے، مواصلاتی سہولیات بھی بہت کم ہیں۔ہر جگہ اساتذہ کو بھیجنا بہت مشکل ہورہا ہے بلوچستان حکومت اس وقت چار ہزار روپے ماہانہ ایک بچے پر خرچ کر رہی ہے۔ ہماری حکومت کی کوشش کررہی ہے کہ اخراجات کو کم کرکے اس رقم کو زیادہ سے زیادہ بچوں پر استعمال کریں تاکہ سکول سے باہر بچوں کو بھی تعلیم دی جاسکے بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی ثناء بلوچ نے کہاہے کہ پاکستان بالخصوص بلوچستان میں شروع سے ہی خواتین کے ساتھ صنفی امتیاز برتا جارہا ہے۔ بچیوں کے ساتھ سب سے بڑا امتیاز تب شروع ہوتا ہے جب ان کی عمر سکول جانے کی ہوجاتی ہے خواتین کو طاقتور اور بااختیار بنانے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں بولنے، سوچنے، پڑھنے اور سمجھنے کا ہتھیار یعنی تعلیم دی جائے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے عرب میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ وزیر تعلیم بلوچستان سردار یار محمد رند کا کہنا ہے کہ بلوچستان ملک کے 50 فیصد رقبے پر مشتمل ہے اس لیے تمام علاقوں تک رسائی مشکل ہے، مواصلاتی سہولیات بھی بہت کم ہیں۔ہر جگہ اساتذہ کو بھیجنا بہت مشکل ہورہا ہے۔ مرکزی حکومت کو بلوچستان میں مواصلاتی نظام اور انٹرنیٹ کی سہولت کے فروغ کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کے ذریعے تعلیم دی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت اس وقت چار ہزار روپے ماہانہ ایک بچے پر خرچ کر رہی ہے۔ ہماری حکومت کی کوشش کررہی ہے کہ اخراجات کو کم کرکے اس رقم کو زیادہ سے زیادہ بچوں پر استعمال کریں تاکہ سکول سے باہر بچوں کو بھی تعلیم دی جاسکے۔ثناء بلوچ کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی پسماندگی کی بڑی وجہ خواتین کی شرح خواندگی کی کمی بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو طاقتور اور بااختیار بنانے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں بولنے، سوچنے، پڑھنے اور سمجھنے کا ہتھیار یعنی تعلیم دی جائے۔


