جنرل باجوہ کو اپوزیشن سے ملنا ہی نہیں چاہیے تھا: وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو اپوزیشن سے ملنا ہی نہیں چاہیے تھا، یہ جوزبان استعمال کررہے ہیں فوج کے خلاف ایسا تو دشمن بھی نہیں کرتا۔نجی ٹی وی کو انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ سابق صدر پرویز مشرف نے ان دونوں(ن لیگ اور پیپلزپارٹی) کو این آر او دیکر ملک کےساتھ ظلم کیا، کلثوم نواز احتجاج پرنکلیں تو مشرف نے دباؤ میں آکر این آراو دے دیا، ان دو این آر او نے ملک کا بیڑا غرق کیا۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن ان پر دباؤ نہیں ڈال رہی تو اب فوج اور عدلیہ پر دباؤ ڈال رہی ہے تاکہ وہ مجھے کہیں کہ ان کو این آر او دے دوں، اپوزیشن کے جلسوں سے کچھ نادان دوست بھی گھبرا گئے، لیکن میں نے کہا کہ جلسے کرنے دو ، کیا فرق پڑتا ہے؟
وزیراعظم نے کہا کہ اگر وہ اقتدار سے ہٹ بھی گئے تب بھی اپوزیشن واپس آئی تو وہ لوگوں کو ان کے خلاف سڑکوں پر نکالیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ انھیں اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقاتوں کے بارے میں بتاتے رہتے تھے، اب میرا خیال ہے کہ یہ ملاقاتیں کرنا غلطی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے جب ان کو این آر او دینا ہی نہیں تو مذاکرات کیسے؟ بھارتی میڈیا اتنا خوش ہورہاہے، تو سمجھ لیں کہ پاکستان کی بہتری کس میں ہے، اسرائیل تو 100 فیصد ان کےساتھ ہے، کسی کی جرأت نہیں ہوئی کہ مجھ سےکہے کہ ان کوچھوڑ دیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایجنسیوں کا کام وزیراعظم کی حفاظت کیلئےنگرانی کرنابھی ہوتاہے، پہلی دفعہ سول ملٹری تعلقات ایک پیج پر ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ چاہتے ہیں ملٹری پنجاب پولیس بن جائے، یا یہ جومرضی کریں کچھ نہ کہاجائے، اس سرکس کا کوئی مقصد ہی نہیں ہے، ان کامقصد ہےکہ عمران خان کوگراناہے، کیوں گرانا ہےکیونکہ ان کی باری آئیگی۔جزائر آرڈیننس کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ سندھ حکومت نے اجازت دی اور این او سی دیا، بنڈل آئی لینڈ کا فائدہ سندھ کے لوگوں کو ہوگا، آئی لینڈ کی وجہ سے 40 ارب ڈالر کا فارن ایکسچینج ملک میں آئے گا جس سے سارے پاکستان کا فائدہ ہے جب کہ راوی سٹی کا سب سے زیادہ فائدہ پنجاب کو ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ بنڈل آئی لینڈ اور راوی سٹی دو بہترین منصوبے ہیں، سندھ حکومت کو ہمارا شکریہ ادا کرنا چاہیے، بیرون ملک پاکستانی مجھ پر اعتماد رکھتے ہیں، سندھ حکومت نے بنڈل آئی لینڈ کبھی نہیں بنانا کیونکہ بیرون ملک پاکستانی ان پراعتماد نہیں کرتے۔سابق وزیراعظم نواز شریف سے متعلق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی واپسی کیلئے برطانوی حکومت سے بات کررہےہیں، ہم کہہ رہےہیں کہ برطانیہ سے نواز شریف کو ڈی پورٹ کیا جائے اور ہماری پوری کوشش ہےکہ نواز شریف کولندن سے ڈی پورٹ کرائیں کیوں کہ مجرمان کی حوالگی کے معاہدے میں تو بہت وقت لگ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو میں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے بھی بات کروں گا۔ان کا کہناتھا کہ نوا زشریف کی ساری زندگی جھوٹ پر ہے، انہوں نے جو کچھ بھی کیا بدقسمتی سے عدلیہ نے ان کا ساتھ دیا، یہ پراڈکٹ ہی اسٹیبلشمنٹ کا تھا اور بدقسمتی سے اسٹیبلشمنٹ نے اس کا ساتھ دیا، نواز شریف کو واپس لائیں گے اور جیل میں ڈالیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کے سارے کیسز ہماری حکومت سے پہلے کے ہیں، صرف شہبازشریف کیخلاف ٹی ٹی کیس ایسٹ ریکوری یونٹ لےکرآیا، جب کہ یہ مجھ پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ نیب کیسز ختم کردوں، نیب اور عدالتیں ہمارے ہاتھ میں نہیں ہیں۔
مہنگائی پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ چینی اور آٹا مہنگا ہونے سے مجھے بہت تکلیف ہوئی، دو باربارشوں کی وجہ سے گندم کی فصل متاثرہوئی، وہ ادارہ جس نے بتانا تھا کہ پیداوار کم ہوئی ہے، وہ کام ہی نہیں کررہاتھا لیکن قوم پر اس طرح کی مہنگائی دوبارہ نہیں آنے دیں گے، مہنگائی اب نیچے آنا شروع ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کی وجہ سے زراعت کا محکمہ صوبوں کے پاس چلاگیا لیکن زراعت کا محکمہ وفاق کے پاس ہوناچاہیے، کھانے پینےکی چیزوں سےمتعلق فیصلے مرکزی ہونے چاہئیں۔
اپوزیشن سے مذاکرات کی حامی بھرتی ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اپوزیشن سے ہر قسم کی بات کرنے کو تیار ہوں، سوائے این آر او کے، یہ سڑکوں پر نکل کر دباؤ ڈالیں گے لیکن میں تیار ہوں، یہ استعفے دیں گے تو بھی میں تیار ہوں۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پہلی بار ایک ہی حکومت دو بار منتخب ہوئی ہے اور اب بھی الیکشن ہوئے تو میں پھر اکثریت سے آؤں گا۔خیال رہے کہ اپوزیشن کی جانب سے حکومت مخالف تحریک جاری ہے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ تیزی آرہی ہے جب کہ حکومت کی جانب سے بھی اپوزیشن کے خلاف جارحانہ پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں