کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ہر قدم اٹھانا ہے، اسد عمر
اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے ترقی ومنصوبہ اسد عمر نے کہاہے کہ کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ہر قدم اٹھانا ہیے۔ منگل کو وزیر اعظم کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ گزشتہ چند ماہ میں بڑی تفصیل سے ایک مربوط اصلاحات کا پیکج بنایا گیا ہے کہ پاور سیکٹر میں کس طرح بہتری لائی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ میرے خیال سے پاکستان میں پہلی مرتبہ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اگلے 3 برسوں کے لیے صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمت کیا ہوگی اس کا اعلان کیا اور یہ قیمت بھی ایسی ہے جو 25 فیصد کم ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا وژن تھا کہ ہم نے کورونا وبا کے پھیلاؤ کو بھی روکنا ہے اور لوگوں کے روزگار کو بھی نقصان نہیں پہنچانا، اس سلسلے میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی اپنائی گئی اور ایک مربوط نظام بنایا گیا جس سے دنیا کے مقابلے میں معیشت جلدی بہتری آئی۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہم نے ہر ممکن کوشش کرنی ہے کہ اپنے عوام کے روزگار پر کوئی نقصان نہیں آئے کیونکہ ہم وبا کے پھیلاؤ کو دیکھ رہے ہیں لیکن ہم نے ہر قدم لینا ہے جس کی بنیاد پر ہم وبا کے پھیلاؤ کو روک سکیں اور خدانخواستہ کوئی ایسی صورتحال پیدا نہ ہو جس سے ہمیں کسی کے روزگار پر بندش لگانا پڑے۔وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ معیشت 24 گھنٹے چلے اور اس کے لیے ہم نے پیک اور آف پیک کا فرق بھی ختم کیا ہے اور امید ہے کہ کاروباری لوگ اس پیغام کو سنجیدگی سے لے گی اور عوام بھی مدد کرے گی۔وزیراعظم کے اعلان کردہ پیکج کے موقع پر ان کے ہمراہ موجود وزیر توانائی عمر ایوب نے بتایا کہ سابقہ حکومتوں نے جو زیر زمین بم لگائے تھے اور ہمیں مشکل کا سامنا کرنا پڑا تھا اس سے ہم نکل رہے ہیں، راستہ کٹھن ہے تاہم ہم بہتری کی جانب جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاور اور پیٹرولیم سیکٹر میں غلط معاہدے، ملک کو نقصان اور زیادہ قیمتوں والے معاہدے کیے گئے تھے جس کا نقصان پاکستان کے عام شہری کو ہورہا تھا۔عمر ایوب نے کہا کہ ہمارا المیہ یہ تھا کہ 70 فیصد بجلی درآمدی ایندھن پر بن رہی تھی جبکہ اس کے برعکس ہمارے پاس وہ سارے ذخائر تھے جن سے بجلی بنائی جاسکے تاہم سابقہ حکومتوں سے اپنی ذاتی لالچ کے لیے اسے ترک کیا اور جو معاہدے انہوں نے کیے تھے اس سے بجلی کا یونٹ 24 روپے فی یونٹ کیا تھا تاہم ہم نے وہی معاہدے ساڑھے 6 روپے فی یونٹ پر کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان دو برسوں میں ہم نے صحیح طریقوں سے فیصلے کیے اور متبادل قابل تجدید بجلی کے لیے ہم نے منصوبہ بنایا جس کے تحت 2025تک ہماری 25 فیصد بجلی کی پیداوار قابل تجدید توانائی سے ہوگی اور 2030 تک یہ 30 فیصد تک جائے گی اور ہم 18 ہزار میگاواٹ کو چھویں گے۔عمر ایوب نے کہا کہ اس کے علاوہ پن بجلی بھی 30 فیصد ہوگی جبکہ اس کے علاوہ تھرکول سے 8 سے 10 فیصد بجلی ہوگی جس کا مطلب ہے کہ 70 سے 80 فیصد ہمارا توانائی کا حصول قوم کے وسائل سے ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ملک میں کوئی بھی کارخانہ جو پاکستان میں بجلی پیدا کرتا ہے وہ ملک میں کہیں بھی اپنا گاہک ڈھونڈ کر براہ راست بجلی بیچ سکے گا، یہ وہ دورست ترامیم ہیں جو ہم کرنے جارہے ہیں اور اس سے بجلی کی قیمتوں میں استحکام آئے گا اور صنعت کا پہیہ تیزی سے چلے گا۔


