عالمی معیشتوں کی نسبت ہماری اکانومی زیادہ متحرک ہے،سینیٹر شبلی فراز

اسلام:وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ اپوزیشن دشمن ملک کی پالیسوں پر گامزن ہے باہر بیٹھ کر دشمن ملک کی زبان بولنا اپنے ملک کو کمزور کرنے کے مترادف ہے وزیراعظم کا فوکس رہا ہے کہ ہماری اکانومی پاؤں پر کھڑی ہوعالمی معیشتوں کی نسبت ہماری اکانومی زیادہ متحرک ہے،سیمنٹ سریا اور تعمیرات کا شعبہ کافی متحرک ہے جو بہتر معیشت کا اشارہ دے رہے ہیں ہماری پیدوار بھی مثبت میں آگئی، ایکسپورٹ اور ٹیکسٹائل میں بھی بہت تیزی آگئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے کابینہ اجلاس کے بعد پی آئی ڈی میں اہم پریس کانفرنس میں کیا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ پیپلزپارٹی سندھ دشمن ہے وہ ایسے فیصلے کر رہی ہے جو عوام کش ہیں اٹھارویں ترامیم کر کے پیپلزپارٹی کو ایک گاؤں تک محدود کر دیا گیا آٹے اور چینی بحران میں پیپلز پارٹی کا کردار شرمناک ہے پیپلزپارٹی نے کورونا میں بھی سیاست کی آٹے اور چینی بحران پر بھی سیاست کی جس کی وجہ سے سندھی عوام کو مہنگا آٹا خریدنا پڑا انھوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کے تمام اقدامات معاشی ترقی کو بڑھانے کے لیے اور عوام کو روزگار فراہم کرنے کے لیے ہیں۔غریب آدمی گھر فراہم کرنے کے لیے بھی پیکج کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ پچھلے ایک مہینہ سے اپوزیشن نے ایک ایسے بیانیہ کو لے کر چلی رہی ہیجو ریاست کے مقام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے فیٹف میں اپوزیشن نے اپنا آخری پتہ کھیلا لیکن ناکام رہی ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دی گئی ان کے ادوار میں اقربا پروری کا ایسا کلچر تھاجس میں پاکستان کے بہترین ذہن بیرون ملک منتقل ہو گئے اب موجودہ حکومت کی پالیسوں کی وجہ سے ٹیکسٹائل انڈسٹری کے پاس اب ارڈرز لینے کا وقت نہیں ہے وزیراعظم چاہتے تھے اس تیزی کو مزید بڑھانے کے لیے مزید مدد فراہم کی جائے۔بجلی کی قیمتوں کو کم کر کے معیشت کو مزید فروغ دے سکتے ہیں ہماری ترجیح ہے امپورٹ کو کم کر کے قیمتی زرمبادلہ بچایا جائے اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔صنعتی شعبہ کو بجلی میں 25 فیصد رعایت دی جائے گی۔ بجلی کے پیک آوورز والا ٹیرف بھی ختم کر دیا گیا ہے،بجلی کے دو سلیب کو ختم کر دیا گیا تاکہ اکانومی کو مزید ترقی دی جائے یہ اپنی سہولت اور مرضی کے مطابق قوانین بناتے تھیاپوزیشن نے ہر ادارے کو تباہ کیا جس سے میرٹ بھی ختم ہو گیاشاہد خاقان عباسی اپنا الیکشن ہار گئے تھے پھر لاہور سے جاکر الیکشن لڑیلاہور سے جتیں تو الیکشن ٹھیک گھر سے ہارئیں تو غلط؟مولانا کا بھی یہی حال ہے بیٹا جیتا ٹھیک خور ہارے تو غلط ہو جاتا ہے جو بیانیہ یہ گجرانوالہ کراچی اور کوئٹہ میں سامنے ایا یہ منفی پراپیگنڈا ہے سندھ کا بھی یہی حال تھا اب وہ عوام کو بھڑکانے گلگت پہنچے ہوئے ہیں ساری بے چینی اس وجہ سے کہ اپس میں گٹھ جوڑ ختم ہو گیا کیونکہ اب ہماری صورت تیسری پارٹی آگئی ہے رانا ثناء اللہ ماڈل ٹاون میں اپنے شہریوں پر گولیاں چلانے کا حساب آپکو دینا ہو گا انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایاز صادق کہہ رہے ہیں پوسٹر لگ گئے ہم نے یہ بینرز بالکل نہیں لگائییہ عوام کا ردعمل ہے کیونکہ اپکو اپنی بات پر زرا برابر بھی ندامت نہیں اپکا لیڈر قانون سے فرار اختیار کر کے ایسا بیانیہ پروان چڑھا رہا ہے جس سے اسکو شاید کوئی نقصان نہیں کیونکہ انکے اپنے بچے اور سارا مال و دولت بیرون ملک ہے اپوزیشن کی یہ کوشش بری طرح ناکام ہو گئی ہے جتنے جلسے یہ کر رہے ہیں اتنے ہمارے صوبائی قیادت کر لیتی ہے لاکھ سیاسی مخالفتیں ہوں ریاست پاکستان پر کبھی ایسے حملے نہیں ہوئے یہ جو کاری ضربیں لگا رہے ہیں یہ عوام کو بھی منظور نہیں ہم پاکستان کو عراق لیبیا شام کبھی نہیں بننے دیں گیے اللہ تعالی کی مرضی سے یہ ملک بنا اسکو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتاملک کو کبھی ایسی صورت میں نہیں چھوڑیں گیے کہ نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کو کوئی خطرہ ہو۔اپوزیشن مخالفین کا ایسا بیانیہ لے کر چل رہی ہے جس سے ملک کو نقصان ہو گاکوئی ایسی تقریر بات برداشت نہیں کی جائے گئی جس میں کوئی نفرت یا ذاتی مفادات پر مبنی بیانیہ ہو پاکستان کے عوام میں بھی غم و غصہ پایا جارہا ے اپوزیشن کی پریس کانفرنس میں ایک ڈیمانڈ سامنے ائی کیسز ختم کیے جائیں نواز شریف شہباز شریف کے خاندان سمیت کیسز ختم ہونے چاہیے ایک فیملی کے لیے کیا پورے نظام کو داو پر لگانا چاہتے ہیں۔جو بھی اس قسم کا بیانیہ یا ماحول بنائے گا عوام بھی اسکی بھرپور مزاحمت کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں