کابل یونیورسٹی پر حملہ قابل مذمت ہے،افغان طالبان
اسلام آباد +کوئٹہ(این این آئی)افغان طالبان نے کابل یونیورسٹی حملے کو وحشت ناک قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ہے افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ یہ حملے ان شر پسند عناصر کی جانب سے کئے جاتے ہیں، جنہیں ننگرہار اور جوزجان میں شکست دیے جانے کے بعد کابل انتظامیہ نے پناہ دی ہے،انہیں مہمان خانوں میں ٹہرائے جاتے ہیں ان عناصر کو اس طرح کے حملوں کے لیے بھرتی کیا جاتا ہے۔ان کی حمایت اور رہنمائی کرتے ہوئے ان کے لیے منصوبہ بندی کررہے ہیں۔اس طرح کے حملے صرف دہشت دکھانے، خوف پھیلانے اور پیگنڈہ کرنے کی غرض سے کیے جاتے ہیں۔ کابل انتظامیہ کے اعلی حکام شرمندگی کا احساس کرنے کی بجائے اس کی ذمہ داری امارت اسلامیہ کی جانب منسوب کررہا ہے اس سے ظاہر ہورہا ہے کہ اس نوعیت کے حملے اس طرح کے پروپیگنڈے کو مواد مہیا کرنے کے لیے مشترکہ طور پر انجام دیے جاتے ہیں۔ ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ کچھ عرصہ قبل تخار میں مسجد پر فضائی حملے میں متعدد معصوم طالبعلموں کے جانی نقصان کا سبب بنا۔انہوں نے کہا کہ چند روز پہلے کابل میں کوثر نامی تعلیمی مرکز پر وحشت ناک حملوں کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کر تے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ افغان مسلمان قوم امارت اسلامیہ کو قریب اور اچھی طرح جانتی ہے اور سمجھتے ہیں کہ ہمارے مجاہدین کبھی بھی تعلیمی مرکز، عوامی مقامات اور ایسے مقام و جگہ پر حملہ نہیں کرتے جہاں کوئی فوجی ہدف نہ ہو۔ ذبیح اللہ مجاہد نے کابل یونیورسٹی سمیت حالیہ سانحات میں جاں بحق ہونے والے افراد و طلباو طالبات کے خاندانوں کے ساتھ تعزیت کرتے ہوئے مغفرت دعا ہے.اور کہا ہے کہ اللہ زخمیوں کو شفا عطا فرمائے


