مولانا فضل الرحمٰن کے گرد گھیرا تنگ ہونے لگا
ہر چند کے جے یو آئی کے ترجمان اسلم غوری نے نیب کی جانب سے جاری کردہ کسی نوٹس یا سوالنامہ ملنے کی تردید کی ہے اور یہ بھی کہاہے کہ جے یو آئی کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں، نیب کسی اور کو دھمکیاں دے۔ لیکن نیب مصر ہے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کو 26سوالات پر مشتمل ایک سوالنامہ جاری کر دیا گیا ہے جس کا جواب دینے کے لئے 24تک کی مہلت ہے۔نیب نے پوچھاہے کہ والد کی طرف سے وراثت میں کتنی جائیداد ملی؟ تحائف کی مالیت اور تفصیل شواہد کے ساتھ فراہم کی جائے۔یاد رہے کہ جب نیب نے شریف فیملی سے ان کی آمدنی سے زائد اثاثہ جات کے بارے میں اسی قسم کے سوالات پوچھنا شروع کیاتو شریف فیملی کاردعمل بھی یہی تھا جو مولانااور ان کے ترجمان کی طرف سے سامنے آرہا ہے جبکہ آج شریف فیملی کے بیشتر افرادلندن میں مقیم ہیں یا جیل میں انہی سوالوں کاجواب دے رہے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ شریف فیملی اور جے یو آئی کے سربراہ ابھی تک 90کی دہائی میں جی رہے ہیں۔وہ یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ انہیں حکمرانی دلانے کے اہم کردار جنرل ضیاء الحق ایک فضائی حادثے کا شکار ہوکر اس جہان فانی سے جا چکے ہیں اور انہوں نے جنرل ضیاء الحق کے جانشینوں سے مسلسل لڑائی جاری رکھ کر اتنی رنجشیں بڑھا لی ہیں کہ میاں شہبازشریف کی مفاہمت کی کوششیں بھی ناکام نظرآتی ہیں۔وہ خود اور ان کا بیٹا جیل میں ہے۔ پاکستان نے لندن سے بھیجے گئے 42غیرقانونی تارکین وطن کوپاکستان کی زمین پر اترنے کی اجازت نہیں دی، پاکستان کا اعتراض یہ تھا ان افراد میں محمد نواز شریف شامل نہیں۔ خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے والے تسلیم کرلیں،یہ 90کی دہائی نہیں۔موجودہ آرمی چیف اورآئی ایس آئی کے سربراہ کے خلاف بیان بازی برداشت کرنے کاوقت ختم ہوچکا،خطے میں بھی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔عرب ممالک ایک ایک کرکے اسرائیل سے دوستی کے معاہدے کررہے ہیں۔ان کے دل میں بھارت کے لئے بھی نرم گوشہ ہے۔کل تک یہ خوبی سمجھی جاتی تھی، مگرآج کے پاکستان کے مالیاتی اور دفاعی تقاضے تبدیل ہو چکے ہیں۔مذکورہ تبدیلیوں کو نظر انداز کرنا غیر دانشمندانہ روش ہے۔اگلے روز وزیر اعظم عمران خان نجی ٹی وی کو انٹرویو کے دوران بتایا کہ پی ڈی ایم کی پارٹیوں میں استعفے دینے کے حوالے سے اتفاق نہیں ہے،جیسے ہی یہ مرحلہ آیا ٹوٹ پھوٹ کا عمل سامنے آجائے گا، انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد اگر انہوں نے ایک ہفتہ گزار لیا تو میں (وزیر اعظم) استعفے کے بارے سوچنا شروع کرددوں گا۔علاوہ ازیں وزیر اعظم نے یہ بھی کہا ہے کہ حکومت گرانے کے لئے فوج کو دعوت دینا آئین کے آرٹیکل 6کے تحت غداری ہے۔نواز شریف کے بیانوں پر فوج میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔اپوزیشن یہ بھی نہ بھولے کہ گزشتہ چار دہائیوں کی حکمرانی پر اٹھنے والے سوالوں کا جواب انہیں دینا ہوگا۔نیب کے بارے اصلاحات کی ضرورت موجودہ حکومت بھی محسوس کرتی ہے مگر اس کے اور اپوزیشن کے سوچنے کا انداز قطعی مختلف اور متضاد ہے۔پی پی پی نیب کے یک طرفہ پن دیکھ چکی تھی۔سیف الرحمٰن نے چیئر مین نیب کی حیثیت سے جو کچھ کیا تاریخ کا حصہ ہے۔محترمہ بینظر بھٹو شہید پر قائم کئے گئے مقدمات اور سزائیں دلانے میں نیب چیئرمین کی پھرتیاں عام آدمی کے حافظے میں محفوظ ہیں۔ پی پی پی کا مشورہ مان لیا جاتا تو آج یہ شکایات نہ ہوتیں۔اپوزیشن ٹھنڈے دل سے اپنا محاسبہ خود کرے،پی ڈی ایم نے پہلے مرحلے میں جو کچھ کیا اسے ’سب اچھا ہے‘ کہناآسان نہیں۔ذوالفقار علی بھٹو شہید نے وزیر خارجہ کی حیثیت سے جو فعال کردار ادا کیا تھا اسے پاکستانی عوام کے علاوہ دنیا بھر میں سراحا گیا۔اقوام متحدہ سے خطاب میں جس طرح عوامی جذبات کی ترجمانی کی اسے آج تک نہیں بلایا جاسکا۔ایسا کوئی اعزاز اپوزیشن کے سینے پر آویزاں نظر نہیں آتا، اپوزیشن اپنے چالیس سالہ دور میں ایسے خطاب کی ایک مثال پیش نہیں کر سکتی۔سیاست دان اگر یہ سمجھتے ہیں کہ جو کہیں گے عوام اسے سو فیصد سچ مان کر ان کے گرد جمع ہو جائیں گے تو وہ درست اندازہ نہیں لگا رہے۔پی ڈی ایم کی قیادت پہلے مرحلے کے ہر پہلو کا جائزہ لے، دیکھے کہ اس کی کامیابیوں کا گراف اوپر گیا ہے یا بعض مقامات پر اس کے برعکس بھی وقوع پذیر ہوا ہے؟24دسمبر تک جے یو آئی کے سربراہ کو جواب دے دینا چاہیئے بصورت دیگر قانون چپ کرکے نہیں بیٹھے گا۔شریف فیملی کے ساتھ جوکچھ ہو چکا ہے اور جو ہو رہا ہے،وہی کچھ ہوتا نظر آتا ہے۔بس ایک فرق یہ ہے کہ مولانا نے نیب کی طرف سے دی گئی معلومات کے مطابق مبینہ جائیداد کسی خاتون کے نام پر نہیں خریدی گئی۔نیب نے جتنے نوٹس جاری کئے ہیں ان میں مرد حضرات کو طلب کیا ہے۔یہ جے یوآئی کے لئے پلس پوائنٹ ہے۔ باقی گفتگو قانونی ماہرین اور عدالتوں کے درمیان ہوگی۔بہرحال اتنا ضرورکہا جا سکتا ہے کہ آج نیب (سابق) حکمرانوں کی دھمکی کو خاطر میں نہیں لاتا۔ موجودہ وزراء میں سے بھی بعض جیل جا چکے ہیں۔جہانگیر ترین وزیر اعظم کے ساتھ پرانی دوست، انتخابات اورحکومت سازی کے دوران اپنی قابل قدر خدمات کے باوجود چینی چوری اور گندم کے معاملات میں گھرے ہوئے ہیں۔ نیب نے کوئی مشکل سوال نہیں پوچھا۔والد سے وراثت میں جو کچھ ملا تمام بھائیوں کے علم میں ہے۔حال ہی جس زمین کی خرید و فروخت کے بارے پوچھا جا رہا ہے،وہ تو تازہ واقعہ ہے۔جائیداداسلام آباد اور ڈیرہ اسماعیل خان میں واقع ہے۔خریداری اور فروخت شفاف طریقے سے ہوئی ہے تو نیب کے سامنے دستاویزات پیش کردی جائیں، بلکہ نیب اور اس کی بیجا پشت پناپہی کرنے والوں پر ہتک عزت اور اربوں روپے ہرجانے کا مقدمہ بھی دائر کیا جا سکتا ہے۔حکومت کو شرمندہ کرنے کا عمدہ موقعہ ملا ہے،اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔دوسرا راستہ اپنایا گیا تو اچھے نتائج کی توقع نہیں کی جا سکتی۔شریف فیملی کی مثال موجود ہے۔


