تماشہ لگانے سے گریز کیا جائے
سیانے کہہ گئے ہیں،وقت سب سے قیمتی دولت ہے۔جن اقوام نے اس نصیحت کو پلے باندھا اور ایک ایک سیکنڈ کی منصوبہ بندی کی،انہوں نے ہوشربا ترقی کی زمین سے اٹھیں اور دیکھتے ہی دیکھتے آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگیں۔ اس کے برعکس جن اقوام نے وقت کی قدر نہیں کی وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئیں نان شبینہ کوبھی محتاج ہو گئیں۔مسلمان وقت کی قدر کرنے کے سبب زندگی کے ہر شعبے میں بام عروج کو پہنچے،دنیا کی دو ایمپائرزکو شکست دی، اسپین پر 900سال حکومت تھی۔اس کے بعد زوال پذیر ہوئے،آج تک وقت کی ڈھلوان پر پستی کی طرف پھسلتے جا رہے ہیں۔چھوٹے سے رقبے پر آباد چھوٹی سی آبادی والے اسرائیل نے ایک ہی فضائی حملے میں وہ تاریخی شکست دی کہ آج تک اس سے خون رس رہا ہے۔سچ ہے وقت انتہائی قیمتی شے ہے، جو اس کی قدر نہیں کرتا۔ پاکستانی حکمرانوں نے وقت جیسی قیمتی شے کو بے دریغ ضائع کیا،گزشتہ چار دہائیاں اس کی تکلیف دہ مثال ہیں۔مستقبل کا مؤرخ اس نقصان کا درست تخمینہ لگائے گا اور اسباب و علل کا کھوج لگائے گا۔اس لئے کہ آج سب مصلحتوں کے خول میں بند ہیں، ذاتی اور گروہی مفادات اتنے غالب آگئے ہیں کہ اجتمائی مفادات کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی نہ فرصت رہی اور نہ ہی صلاحیت۔ 11سیاسی پارٹیاں ایک پلیٹ پر جمع ہونے کے باوجود منتشرالخیالی کا شکار ہیں، کوئی پارٹی دعویٰ کرتی ہے: جب چاہیں اس حکومت کو ایک لات مار کر گرادیں۔دوسری کہتی ہے: 8دسمبر کوآر ہوگا یا پاراور حکومت استعفی دے کرگھر چلی جائے گی، پھر گھرجانے کی تاریخ13دسمبر تک بڑھا دی گئی، یہ دن گزر گیاتو اعلان کیا: ہم اس حکومت کو مشورہ دیتے ہیں: 31جنوری تک استعفیٰ دے،ورنہ یکم فروری کو پی ڈی ایم کاسربراہی اجلاس ہوگااور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے،حکومت کو لگ پتہ جائے گاکہ لانگ مارچ کسے کہتے ہیں اور دھرنا کیاہوتاہے؟ دوسری جانب حکومتی ترجمان بھی اسی قسم کی نعرے بازی میں مصروف ہے۔حکومت کا مرکزی نعرہ ہے: ”این آر او نہیں دیں گے۔حکومت جاتی ہے، چلی جائے“۔عوام کی زندگی مہنگائی نے اجیرن کر دی ہے۔سبزی، آٹا،چینی اور دالیں ان کی دسترس سے باہر ہیں۔ادویات کی قیمتیں بار بار بڑھائی گئیں۔لیکن کوئی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر نہیں آئی کہ عام آدمی دیکھ سکے اس ظالمانہ اور بے رحمانہ فیصلے کے پیچھے کون تھا۔دیگر تحقیقاتی رپورٹس پر انکوائری کمیشن مزید تحقیق کر رہے ہیں کہ کس نے کتنا مال بٹورا؟وزیر اعظم کہتے ہیں اس ساری گڑ بڑ کی ذمہ دار ”سسلین مازیاز“ جن کی نشاندہی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے میں کی گئی ہے۔تاہم حکومت نے کسی چینی مافیا، کسی آٹا مافیا کو سزا نہیں دی۔عوام حیران ہیں اور اسی سوچ میں گم ہیں کہ ان کے دکھ کب دور ہوں گے۔ ان کے بچوں کو کب پیٹ بھر کر کھانا ملنا شروع ہوگا؟73سال اسی نعرے بازی میں بیت گئے۔مختصر وقفوں سے۔۔۔”آوے ای آوے اور جاوے ای جاوے“۔۔۔ کا شور شور سنائی دیا مگر عوام کے دکھ دور نہیں ہوئے۔ موجودہ حکومت کو نہ جانے کس نے یہ راز کی بات بتادی ہے کہ ملکی خرابی کی کی بنیادی وجہ وہ سویلین حکومتیں ہیں جوگزشتہ چار دہائیوں میں برسر اقتدارر ہیں اور حکومت نے ایک اچھے طالب علم کی طرح اس راز کو ذہن نشین کر لیا ہے،اور دن رات رٹا لگا رہی ہے کہ کہیں بھول نہ جائے۔اسے اقتدار سنبھالے 28مہینے ہو چکے ہیں،صبح شام قوم کو بتایا جاتا ہے جب تک چار دہائیوں میں تشکیل پانے والی حکومتوں (بالخصوص مسلم لیگ نون اور پی پی پی کی اعلیٰ قیادت کو) سزانہیں سنائی جاتی عوام کے دکھ دورنہیں ہوں گے۔اب جے یو آئی کی قیادت بھی اس فہرست میں شامل کر لی گئی ہے۔انہیں بھی نیب کے تیار کردہ سوال نامے بھیجے جانے لگے ہیں۔نہ حکومت کو احساس ہے کہ اس نعرے بازی میں ملک اور عوام کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے، اور نہ ہی اپوزیشن اس بھاری نقصان کو نقصان ماننے کے لئے تیار ہے۔ دونوں جانب سنجیدگی کا فقدان ہے۔ اپوزیشن کہتی ہے اسے دھاندلی کے ذریعے کسی غیر سیاسی قوت نے ہرایاہے، لہٰذاہم اس حکومت کے نہیں مانتے،اس لئے اس سے کسی قسم کے مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جو اس سلیکٹڈحکومت کو لائے ہیں، ان کے ساتھ مذاکرات ہوں گے۔ حکومت نے میڈیا کے ذریعے جواب دیا ہے کہ فوج کو حکومت گرانے کی دعوت دینے والوں کے خلاف آئین کے آرٹیکل6کے تحت غداری کامقدمہ چلے گا۔اس ضمن میں حکومت نے چیف سیکرٹری سمیت بعض بیوروکریٹس کواختیارات تفویض کرنے کا اشارہ بھی دیاہے۔شاید اپوزیشن اس اشاراتی زبان کو سمجھ لے۔بصورت دیگر مقدمات قائم ہوتے ہی بہت کچھ سمجھ میں آجائے گا۔اب گیند اپوزیشن کے کورٹ میں ہے۔راستے دوہیں،آئین کے آرٹیکل 6کے تحت مقدمات کا سامنا کرنا ہے یا دعوت دینے کاسلسلہ ترک کرناہے۔ ویسے بھی 16اکتوبر سے 13دسمبر تک جلسے جلسے کھیل کر دیکھ لیا ہے، آر یا پار تو نہیں ہوا۔ البتہ اپوزیشن پر نئے مقدمات کا بوجھ پہلے سے کچھ بڑھ گیا ہے۔اگر 15جنوری تک حکومت کا نیا دعویٰ:۔۔۔۔”نواز شریف لندن کی بجائے پاکستان کی جیل میں ہوں گے“،۔۔۔سچ ثابت ہوگیا تو یہ اپوزیشن کے لئے بہت بڑا سیاسی اور نفسیاتی دھچکا ہوگا۔”آر“ ہونے والا اپوزیشن کا نعرہ پوراہو جائے گا، ”پار“ ہونے والی بات مستقبل کے دھندلکوں میں چھپ جائے گی۔ سیاست امکانات کا نام ہے۔مبصرین میں سے بعض اس جانب توجہ دلانے کی کوشش کرتے رہے مگر اپوزیشن نے ادھر دھیان دینا مناسب نہیں سمجھا، یا جوش غالب آجانے کے باعث اپنے غیر حقیقت پسندانہ نعروں کوزمینی حقائق کے مطابق از سرِنو وضع کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ممکن ہے حکومت بھی کسی جذباتی کیفیت میں مبتلا ہوگئی ہو! لیکن دو تین روز قبل برطانوی ہائی کمشنر کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے ملاقات کو حکومتی خوش فہمی کی بنیاد مانا جائے تو ایک اور انہونی کے لئے سب کو ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیئے، حالانکہ سابق وزیر ریلوے شیخ رشید احمد وزیر داخلہ کا حلف اٹھانے کے بعد بھی اپنے ساتھی وزیر اطلاعات شبلی فراز کی اس پیشگوئی کو سچ ماننے کے لئے تیار نہیں، ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور اسحاق ڈار کو اللہ ہی پاکستان لائے تو آئیں گے ورنہ ایسا ہونا ممکن نہیں۔


