انتہا پسند ی کیخلاف جدوجہد جاری رہیگی،عبدالخالق ہزارہ
کوئٹہ:ہزارہ ڈیمو کریٹک پارٹی کے رہنماؤں نے شہید چیئر مین حسین علی یوسفی کے مدبرانہ،ثقافتی،سماجی،سیاسی اور ہنر مندی پر مبنی طرز زندگی کو کو ہزارہ قوم کے لئے بہترین اور روشن مثال قرار دیتے ہوئے وجوان اور نئی نسل کو شہید یوسفی کے نقش قدم پر چلنے، اجتماعی،قومی،ادبی وثقافتی امور،سیاسی وسماجی امور کے معاملات میں انہیں اپنا آئیڈیل بنانے پرزور دیا اور کہا کہ شہید یوسفی نے اپنی پوری زندگی قومی ومذہبی رواداری،برداشت اور بھائی چارے کا درس دیتے ہوئے گزاری اب ہماری نوجوان اور نئی نسل کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان کے اصولوں پر چلتے ہوئے ہزارہ قوم کو دنیا بھر میں ایک مہذب،ترقی پسند وروشن خیال قوم کی حیثیت سے اپنے معاشرتی وسماجی زندگی گزارنے کی ترغیب دیں ان خیالات کااظہار شہید رہنماء چیئر مین حسین علی یوسفی کے بارہویں برسی کے سلسلے میں جنرل محمد موسیٰ خان پوسٹ گریجویٹ کالج میں منعقدہ جلسے سے پارٹی چیئر مین وصوبائی مشیر عبدالخالق ہزارہ،جنرل سیکرٹری احمد علی کوہزاد،سیکرٹری اطلاعات ورکن صوبائی اسمبلی قادر علی نائل،رکن مرکزی کونسل محمد زمان دہقانزادہ،ایچ ایس ایف کے منظور حسین اور محترمہ فریدہ نے خطاب کرتے ہوئے کیا مقررین نے کہا کہ ہزارہ قوم کو امن،محبت اور بھائی چارے کے درس دیتے ہوئے ہر طرح کے انتہاء پسندی کے خلاف اپنی قومی،سیاسی واجتماعی جدوجہد کو جاری رکھے گی ہمارے لئے شہید رہنماء کی زندگی مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے جس سے رو گردانی وانحرات کا پارٹی قیادت وکارکنان سوچ بھی نہیں سکتے یہ ہماری قومی،سیاسی واخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اپنے شہید چیئر مین کے خوابوں اور ارمانوں کی تکمیل کیلئے پارٹی پلیٹ فارم اوور ذاتی زندگی میں ہمیشہ جدوجہد کا راستہ اختیار کرتے ہوئے قوم کے خلاف ہونے والی سازشوں اور سازشی کرداروں کے چہروں کو بے نقاب کریں ہزارہ قوم بخوبی جاتنی ہے کہ ان کے خلاف مذہب اور عقیدہ کو ہمیشہ سے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے انہیں معاشی،سیاسی اور اجتماعی طور پر نقصانات سے دو چار کیا ہے ہمارے عقائد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مذہبی، انتہائی پسندوں نے ہمیشہ جس پسماندگی،سیاسی،معاشی اور معاشرتی مسائل میں مبتلا کر رکھا ہے وہ واضح طور پر ہمارے سامنے زندہ مثال کے طور پر موجود ہے ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم بارہا ان کے فریب کا شکار ہونے،قومی شناخت اور بقاء کو نقصانات پہنچانے کے باوجود ہم ان کے خلاف آوازاٹھانے سے قاصر ہے آج ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کا سوال ہے ہمیں ان کے چنگل سے نکل کر اپنے لئے ترقی وخوشحالی کی دالیں تلاش کرنی ہوگی ہمیں عالم دین اور ملائے دین کے فرق کو سمجھنا ہوگا جو لوگ از خود،خود کو عالم دین کہتے ہیں و ملافی سبیل اللہ فساد پھیلانے والے لوگ ہیں انہوں نے شہید یوسفی کے خلاف فتوے دیئے قومی اور سیاسی جدوجہد کرنے والے وہ لوگ جو عوام کو ا ندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف چلنے کادرس دیتے رہے ہیں وہ لوگ ان کی نظر وں میں لا دین ٹھہرے بلکہ اب وہ آنکھیں بھی دکھانے لگ گئے ہیں عالم دین ہمیشہ لوگوں کے درمیان مذہب وعقائد کے ماننے والوں کے دلوں میں محبت کے شمع کا نور روشن کرتے ہیں ہم حقیقی عالم دن کا احترام کرتے ہیں مگر سیاسی موقع پرست ملاؤں کے خلاف اس سے پہلے بھی بولتے رہے ہیں اور اس کے بعد بھی ہماری جدوجہد ان کے خلاف ہوگی مقررین نے کہا کہ شہید یوسفی کی توقعات نوجوان نسل سے ہمیشہ سے وابستہ رہی وہ سمجھتے تھے کہ کسی بھی قوم ومعاشرے میں بری تبدیلی اسے نوجوان نسل کے ذریعے ممکن ہے مگر آج ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہماری نوجوان اور نئی نسل بے مقصدیت کا شکار ہے یہ نسل تعلیم وتعلیمی اداروں سے دوری اختیار کر کے آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لئے اندھیروں کا انتخاب کررہی ہے ہمارے نوجوانوں میں قابلیت وسلاحیت کی کمی نہیں انہیں اپنی زندگیوں میں مقصدیت لانے کی ضرورت ہے اور کوشش کرنی چاہتی ہے کہ وہ معاشرے کا ایک بہترین فرد بن کر اپنے خاندان،معاشرہ اور قوم کے لئے فخر کا باعث بنے شہید چیئر مین ہر نوجوان کو قوم کے مستقبل کے طور پر دیکھتے تھے ہمارے نوجوان پر فرض عائد ہوتا ہے کہ محنت،نیک نیتی،خلوص،سچائی اور مثبت طرز فکر کے ذریعے قوم،صوبہ،ملک اور خ طے کے تعمیر وترقی کے عمل میں ایک افتخار کا باعث بن کر قوم کو دنیا بھر میں سرخ رو کریں انہوں نے کہا کہ پارٹی نے اپنے قیام کے بعد سے مسلسل قتل عام ونسل کشی کے خلاف آواز بلند کی ہر طرح کے جمہوری سیاسی،راستہ اختار کرتے ہوئے پر امن احتجاج ومظاہروں کے ذریعے اپنے قوم کی مظلومیت کا آواز بلند کرتا رہاا س عمل میں پارٹی کے خواتین ونگ کا کردار بھی انتہائی اہم اور قابل ذکر رہا کہ انہوں نے ہمارے شانہ بشانہ دہشتگردی وقتل عام کے خلاف اپنی آواز بلند کرتی رہی مگر ہمارے احتجاج ومظاہروں اور مذہبی شدت پسندوں کے احتجاج کے درمیان ایک واضح فرق تھا اور اب بھی وہ فرق موجود ہے ہم نے اپنے شہید چیئر مین سمیت درجنوں کارکنوں کی میتوں کی تدفین کر کے اس کے بعد اپنے قوم کے بھروسے پر احتجاج کیا جبکہ یہ لاشوں کے سوداگر میتوں کو چوری چھپے اتھا کر انہیں سڑک پر رکھ کر احتجاج کرتے ہیں ہمیں اپنے قوم پر بھروسہ ہوتا ہے یہ عناصر جذبات کا فائدہ اٹھا کر اپنے مفادات کے حصول کیلئے سڑکیں بند کر تے ہیں ان کے کرتوتوں سے اب ہزارہ قوم قوم پوری طرح آگاہ ہوچکی ہے کہ یہ عناصر کن قوتوں کیلئے کام کرتے ہیں اور کن بیرونی عناصر کے اشاروں پر چلتے ہوئے دھرنا شروع اور انہی کے کہنے پر دھرنا ختم کرتے ہیں اب تو واضح ہوگا کہ ان کے پا س عوامی تائید وحمایت قطعاً موجود نہیں یہ لوگ اپنی کرپشن چھپانے کیلئے جس طرح کے حرکتوں کے مرتکب ہوئے ہیں مچھ کے شہاء کے لواحقین کے مطالبات کے آڑھ میں جس طرح کے خفیہ ملاقاتوں میں اپنے لئے معافیاں طلب اور کیسز ختم کرنے کی کوشش کی گئی وہ اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہی ہے نا اہل اور 2013میں مسلط شدہ شخص نے نمائندے کی حیثیت سے مساجد امام بارگاہوں،کھیل کے میدانوں،پائپ لائنوں،پانی کی ٹینکوں،سیوریج اور سڑکوں سمیت ہر شعبہ زندگی میں کرپشن کی مثالیں قائم کی اپنے عزیز واقارب کو اسکالر شپ صحت،فنڈز،اسپورٹس کے نام پر جتنے رقم دیئے گئے ا س کی تفصیل کسی سے پوشیدہ نہیں اس شخص اور اس کی مذہبی شدت پسند جماعت نے ہزارہ قوم اور کوئٹہ کے عوام کو لوٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ ایچ ڈی پی کے اراکین اسمبلی عوامی نمائندوں کے طور پر اسمبلی فلور کابینہ اجلاسوں سمیت زندگی کے ہر شعبہ میں فعال کردارادا کررہی ہے ہم نے ترقیاتی عمل میں شفافیت اور معیاری کام کی اعلیٰ مثالیں قائم کی ہے جس کا معترف دیگر سیاسی جماعتوں اور ان کے کارکنان بھی ہے ہم نے تمام اسکیمات پارٹی کارکنوں کی نگرانی مین شروع کر رکھی ہے اور یہ سلسلہ اس طرح چلتا رہے گا اس موقع پر خواتین کی ایک بڑی تعداد نے بھی جلسے میں شرکت کی مقررین نے شہید چیئرمین کے ادبی،سیاسی،ثقافتی،اجتماعی اور قومی جدوجہد کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے شہید چیئر مین کو سرخ سلام کی سلامی دی جلسہ عام کے بعد شرکاء نے جلوس کی شکل میں شہید چیئر مین کے مقبرے پر حاضری دی اور گل پاشی کرتے ہوئے ان کے مغفرت اور درجات کی بلندی کی دعا کی اور اس عزم کااعادہ کیا کہ شہید کے نقش قدم اور اصولوں پر چلا یا جائیگا۔


