وی سی یرغمال، جامعہ بلوچستان میں بلوچوں کو دیوارسے لگایا جارہا ہے، بی ایس او پجار

کوئٹہ:بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار کے مرکزی ترجمان کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان یونیورسٹی کو وائس چانسلر 1996 کے ایکٹ کے تحت چلانے کا مجاز ہے لیکن وائس چانسلر بااثر قوتوں کے ہاتھوں اس قدر یرغمال ہوچکے ہیں کے وہ ان غیر قانونی تعیناتیوں میں ناصرف شامل ہے بلکے تعصب کا رنگ دینے کی کوشش کررہا ہے اور نفرت پہلانے کی کوشش کررہا ہے بلوچ ٹیچنگ فیکلیٹی اور بلوچ آفیسرز کو مکمل نظرانداز کیا گیا ہے یہ ایک حقیقت ہے کے 42 بلوچ  پی ایچ ڈی ہولڈرز ہے لیکن ان کو مسلسل دیوار سے لگایا جارہا ہے ۔

ترجمان نے مذید کہا کہ ایکٹ میں رجسڑار کی تعیناتی کے حوالے سے واضح الفاظ میں لکھا گیا ہے کے اسے سینڈیکیٹ ہی تعینات کرسکتا ہے اس حقیقت سے روگردانی ممکن نہیں کے ایکٹ اور سینڈیکیٹ کو بائی پاس کرنے کی وجہ طاقتور قوتوں کی خوشنودی حاصل کرنا مقصود ہے ۔ تعینات رجسڑار بلوچستان یونیورسٹی کا ٹریک ریکارڈ دیکھنے قابل ہے جس میں کرپشن کے داستان شامل ہے  لیکن ایسے فرد کو رجسڑار تعینات کرنا وائس چانسلر کی مجبوری کیوں بنی اس پر ٹیچنگ فیکلیٹی، ایمپلائز ایسوسی ایشن اور آفیسرز ایسوسی ایشن بلوچستان یونیورسٹی کو بھی ان طاقتور قوتوں کو روکنے کے لئے جہد و جہد کا حصہ بننا ہوگی اور یونیورسٹی آف بلوچستان کو ان تعصب پرست اور نفرت پہلانے والے افراد کے چنگل سے آزاد کرانا ہوگا ۔.

اپنا تبصرہ بھیجیں