اگرسیزفائرنہ ہوتاتو ہم چندروزمیں کشمیر آزاد کرا لیتے،صدر علوی
مظفر آ باد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ بھارت آگ کے ساتھ کھیل رہا ہے، اس نے اپنی تباہی کے بٹن دبا دیے ہیں، کشمیری اپنے ساتھ ہونیوالے مظالم کبھی نہیں بھول سکتے، مقبوضہ وادی میں آبادی کا تناسب بدلنے کے بھارتی اقدامات خطرناک ہیں، مقبوضہ کشمیر کے عوام مسلسل قربانیاں دیرہے ہیں، پاکستان نے کشمیریوں کیساتھ بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کیلئے بھی آوازاٹھائی ہے،بھارت مقبوضہ کشمیرمیں انٹرنیٹ سمیت پابندیوں سے ظلم وستم کوچھپانہیں سکتا، بھارت کی تقسیم کے وقت کشمیرکے معاملے پرڈوگرا راج نے سازش کی، ریڈکلف ایوارڈپاکستان کیخلاف تھا، اگرسیزفائرنہ ہوتاتو ہم لوگ چندروزمیں کشمیر آزاد کرا لیتے، آزادی کی جدوجہد کرنیوالوں کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں، 2018کی اقوام متحدہ رپورٹ میں مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم کواجاگرکیاگیا، اقوام عالم مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم سے بخوبی آگاہ ہیں۔ جمعہ کو آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ آج پاکستان کی حکومت اور عوام مقبوضہ جموں و کشمیر کی مجبور عوام کے ساتھ یوم یکجہتی کشمیر منارہے ہیں، ہم ہرسال اس دن کو مناتے ہیں اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں ان لوگوں کو جو اس سلسلے میں مسلسل قربانیوں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی عوام 1947 سے بھارت کے غاصبانہ، جابرانہ قبضے میں ہے، اس سے قبل بھی برطانوی سامراج سے قبل ڈوگرا حکومت اور جس انداز سے کشمیر کو بیچا گیا یہ ایک مسلسل لمبی کہانی ہے۔ صدر مملکت کا کہنا تھا کہ جب یہاں آتا ہوں تو بہت سے لوگ ایسے ملتے ہیں جن کے آبا اجداد اس جدوجہد میں شامل تھے جن میں سے 13 افراد اس اسمبلی میں موجود ہیں جن کے والدین نے اس تاریخ میں بہت بڑا کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سردار ابراہیم نے 24 اکتوبر 1947 کو قرار داد پیش کی، بھارت کے قبضے کا سلسلہ وہاں سے بھی شروع ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے عزیز ہے کہ ان سارے معاملات میں پاکستان کے سیاستدانوں نے مسلسل یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور اگر کوئی کوتاہی ہوتی ہے تو دنیا کے پلیٹ فارم پر اس کے اثرات اچھے نہیں ہوتے۔ ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ ‘میری ذمہ داری ہے کہ اپنے خیالات اور منصوبہ بندی کے اعتبار سے ایک یکجہتی کی کیفیت ہو اور غیر قانونی طور پر قبضے کی جدوجہد کو اس کی تکمیل تک پہنچائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ یہاں دیا جانے والا پیغام دور دور تک جائے کیونکہ پاکستان کی ریاست کے ساتھ جو باتیں یہاں کی جائیں گی مقبوضہ کشمیر کی عوام اس سے امیدیں باندھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ‘بھارت آگ کے ساتھ کھیل رہا ہے، میں صرف جموں و کشمیر کی ریاست کی بات نہیں کر رہا، بھارت نے اپنے مسلمان آبادی کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا اس سے اس نے اپنی تباہی کے بٹن دبائے ہیں۔ صدر مملکت کا کہنا تھا کہ خوشوند سنگھ میں 2004 میں ایک کتاب لکھی جس میں انہوں نے کہا کہ بھارت کو تباہ ہونے کے لیے پاکستان کی ضرورت نہیں، وہ خود کو اپنی تباہی کے راستے پر ڈال رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے 30، 40 سالوں میں بہت کچھ سیکھا اور جن گڑھوں سے ہم مقابلہ کرکے نکلے ہیں بھارت خود کو اس میں ڈال رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان امہ اور بین الاقوامی برادری کشمیر کے معاملے پر اگر یہ اقوام متحدہ کی قراردادیں نہ ہوتیں اور سیز فائر نہیں ہوتا تو کشمیر کی عوام چند دنوں میں کشمیر کو آزاد کراچکے ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘اس وقت اقوام متحدہ کو بنے چند سال ہوے تھے اس سے کشمیری عوام، پاکستان کے لوگوں اور قائد اعظم کو بھی امیدیں تھیں کہ یہاں انصاف ہوجائے گا۔ ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ ریڈ کلف ایوارڈ مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف تھا جس کا ذکر چند کتابوں میں بھی موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان کی سمت ایک ہے، تفریق صرف طریقوں پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ڈیموگرافک تبدیلیوں کے حوالے سے اقدامات کا آغاز کیا ہے وہ نہایت پریشان کن اور تکلیف دہ ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کشمیریوں کا حق خود ارادیت کو بھارت نے خود تسلیم کیا تھا تاہم آہستہ آہستہ یہ پیچھے ہٹتا گیا، ہمیں قانونی، سفارتی سطح پر اپنی رفتار کو تیز کرنا چاہیے۔ صدر مملکت کا کہنا تھا کہ انسان کو انسان سے تکلیف ہوتی ہے، میرے رشتہ دار بھی بھارت میں ہیں اور مجھے ان کے حالات دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے ویسے ہی آزاد کشمیری کی عوام کو سری نگر کے حالات دیکھ کر تکلیف ہوتی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کا دور ہے دنیا پر سب سے زیادہ اثر تصاویر کو دیکھ کر ہوتا ہے تاہم بھارت نے مکاری سے وہاں انٹرنیٹ سروس معطل کی تاکہ وہاں سے تصویریں باہر نہ نکل سکیں۔


