شعلے ہی شعلے

تحریر: انور ساجدی
ہمارے خطے پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں بلکہ شعلے بلند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں داخلی طورپر بھی امن و آشتی ناپید ہے۔دو صوبوں میں ایک بڑا انسانی المیہ جنم لے چکا ہے جبکہ سندھ پر بھی ہاتھ ڈالنے کی تیاری ہو رہی ہے۔صدر ٹرمپ ایران پر حملے کےلئے خلیج میں طاقت جمع کر رہے ہیں جونہی15 دن کا الٹی میٹم ختم ہو جائے گا امریکہ سربیا کے درالحکومت بلغراد کی طرح تہران پر تابڑ توڑ بمباری کرسکتا ہے ٹرمپ پہلے اقدام کے طور پر ان مقامات پر بمباری کرے گا جہاں سید علی خامنائی اور دیگر ایرانی قیادت موجود ہو امریکہ مکمل جنگ کے بجائے ایرانی قیادت کو مارنے کی کوشش کرے گا پاکستان چونکہ ایران کا ہمسایہ ہے اس لئے پاکستانی عوام دعا کریں کہ ان کے پڑوس میں کوئی بڑی جنگ شروع نہ ہو جائے ورنہ یہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہوگا۔جہاں تک بلوچستان کا تعلق ہے تو جنگ کی صورت میں اس کے دونوں حصے شدید طورپر متاثر ہوں گے۔یہ خطہ چونکہ پہلے ہی تباہی کا شکار ہے جنگ کی صورت میں اس کے انسان مزید مصائب اور مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔ادھر شمال مغربی سرحدوں کی صورتحال بھی انتہائی گمبھیر ہے۔پاکستان نے پکتیکا اور ننگرہار کے متعدد مقامات کو بمباری کا نشانہ بنایا ہے جو افغانستان کے خلاف ایک تادیبی کارروائی ہے۔ظاہر ہے کہ افغانستان ان حملوں کا فوری جواب نہیں دے سکتا کیونکہ اس کے پاس فوجی سازوسامان یا حملہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے تاہم وہ اپنے طریقے سے جواب دے سکتا ہے اور طویل گوریلا کارروائیاں کرسکتا ہے۔ جو اس کی تاریخی روایت ہے اگر گفت و شنید سے کام لے کر کوئی پرامن راستہ اختیار کیا جاتا تو بہت اچھا تھا لیکن حالات ایسے ہیں کہ نوبت جنگ و جدل تک پہنچ گئی ہے اگر طالبان نے گوریلا کارروائیاں تیز کرلیں تو اس کے ہمسایہ میں واقع دو صوبے مزید عدم استحکام اوربدحالی کا شکار ہو جائیں گے اور طویل جنگ اور خانہ جنگی میں گھر جائیں گے۔ اتنے سنگین حالات کے باوجود حکمران صوبائی وحدتوں کو چھیڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، ذاتی طور پر میرا خیال تھا کہ سندھ کی تقسیم یا نئے صوبوں کی تحریک محض ایک سیاسی شوشہ ہے لیکن اصل میں ایسا نہیں ہے کوئی دو روز قبل صدر آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی کے ایک اندرونی اجلاس کو بتایا کہ نئے صوبوں کا قیام اب محض نعرہ نہیں رہا اس کے لئے سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سندھ کے گورنر کامران ٹیسوری پر سخت غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کا گورنر ہاﺅس سازشوں کا گڑھ بن چکا ہے اور یہ ہاﺅس سندھ کا نہیں بلکہ ایک جماعت کا سٹی آفس بن چکا ہے انہوں نے گورنر کی تبدیلی کا مطالبہ بھی کیا۔ اسی روز سندھ اسمبلی نے صوبے کی تقسیم کے خلاف ایک قرارداد منظور کرلی یہ قرارداد یقینی طورپر زرداری کی منظوری کے بعد ہی پیش ہوئی ہوگی اجلاس کے دوران ایم کیو ایم کے اراکین نے بہت شور مچایا اور بہت ہی سخت لہجہ میں دھمکی دی کہ سندھ تقسیم ہو کر رہے گا۔ ایم کیو ایم کا یہ طرز عمل ظاہر کرتا ہے کہ اس کی پشت پر کوئی بڑی قوت موجود ہے ورنہ یہ حالات کے مطابق چلتی اور مصلحت کا رویہ اختیار کرتی ہے۔ دریں اثناءسندھ قوم پرستوں میں بڑی کھلبلی مچ گئی ہے۔ جئے سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی نے جناح گراﺅنڈ میں 12 اپریل کو ایک جلسے کے انعقاد کا اعلان کیا ہے اگرچہ حکومت اس جلسے کی اجازت نہیں دے گی تاہم اس کے انعقاد سے سیاسی کشیدگی کو مزید ہوا ملے گی۔ ڈاکٹر قادر مگسی نے حیدرآباد میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نہایت سخت لہجہ استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سندھ کا اٹوٹ انگ ہے اس کو علیحدہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اگر ایسا کیا گیا تو کراچی سے کشمور تک ایک خونریز تحریک چلائی جائے گی۔ نئے صوبوں کا شوشہ کافی عرصہ سے شروع تھا مشرف کے دور میں لاہور کے میئر اور مقتدرہ کے گماشتہ میاں عامر محمود چاروں صوبوں جاکر نئے صوبوں کے قیام کے لئے مہم چلا چکے ہیں۔
اعلیٰ حکمرانوں نے گزشتہ ایک سال میں جب بھی کراچی کا دورہ کیا تو کراچی کے بڑے بڑے سیٹھوں نے یہی واویلا کیا کہ کراچی65 فیصد ٹیکس اکٹھا کرتا ہے اس کے باوجود یہ موہنجودڑو بن چکا ہے لہٰذا حل یہ ہے کہ کراچی کو سندھ سے الگ کر کے وفاقی علاقہ قرار دیا جائے یا پھر اسے صوبائی حیثیت دی جائے حکمران بھی اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ جب تک کراچی ان کے ہاتھ نہیں آئے گا ملکی معیشت ٹھیک نہیں ہوسکتی اسی طرح وہ پنجاب میں تین،کے پی کے اور بلوچستان کے دوحصوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں حالانکہ بلوچستان میں نئے صوبے کا قیام سردست کسی کا مطالبہ نہیں ہے حتیٰ کہ محمود خان کی جماعت بھی اس پر زور نہیں دے رہی ہے اعلیٰ حکمران چاہتے ہیں کہ کے پی کے میں ہندکو آبادی کے لئے علیحدہ صوبہ بنایا جائے حالانکہ ہزارہ ڈویژن کے علاوہ ہندکو آبادی پشاور،کوہاٹ اور صوابی میں منتشر ہے اگر یہ صوبہ بنایا گیا تو پشاور کا کیا بنے گا جس کی بنیادی آبادی ہندکو لوگوں پر مشتمل ہے۔
نئے صوبوں کے قیام یا اس کی کوشش سے ریاست میں ایک نیا پینڈورا باکس کھلے گا جس کی وجہ سے مسائل حل ہونا تو کجا ریاست تقسیم در تقسیم اور مزید عدم استحکام کا شکار ہو جائے گی اگر حاکمان اعلیٰ سنجیدہ ہیں تو سرائیکی صوبہ بنائیں جس کی ڈیمانڈ بھی ہے اور ضرورت بھی۔بلوچستان تو ڈیڑھ کروڑ آبادی کا صوبہ ہے اس کی مزید تقسیم کرنے سے کیا مقاصد حاصل ہوں گے ایسے وقت میں جبکہ ریجن میں عدم استحکام ہے تو پھونک پھونک کر چلا جائے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جس سے عدم استحکام شدید تر ہو جائے۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کئے جاتے مسائل کو گفت و شنید کے ذریعے حل کیا جاتا بعض حلقے مسلسل طاقت کے استعمال پر زور دے رہے ہیں اس صورت حال میں کے پی کے کا مسئلہ بہت نازک ہے کیونکہ جنگ و جدل سے ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف کی آبادی متاثر ہورہی ہے سونے پہ سہاگہ یہ کہ کے پی کے کی صوبائی حکومت اور مرکزی سرکار کے درمیان شدید اختلافات ہیں جنہیں سدھارنے کے بجائے وہاں کے وزیراعلیٰ کو گرفتار کرنے کی تیاری ہو رہی ہے ان پر پیکا آ رڈیننس کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اگر فرد جرم عائد ہوئی تو گرفتاری یقینی ہو جائے گی جس کے بعد وہ خودبخود عہدے سے ہٹ جائیں گے۔کے پی کے کے بعد سندھ کی صورتحال بھی خراب ہو رہی ہے ۔اگر واقعی میں28ویں ترمیم لا کر کراچی کو سندھ سے علیحدہ کیا جا رہا ہے تو اس صورت میں پیپلزپارٹی حکومت سے علیحدہ ہو جائے گی اور یہاں پر ایک نئی محاذ آرائی کا آغاز ہو جائے گا۔
زرداری نے محسن نقوی کو واضح پیغام دے کر بھیجا ہے اگر اس پیغام کو اہمیت نہیں دی گئی تو سندھ بھی سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا جس کے نتیجے میں سندھی قوم پرستوں کے لئے میدان خالی ہو جائے گا۔زرداری کے نہ چاہنے کے باوجود علی حسن زہری کو پیچھے دھکیل دیا گیا ہے ان کے خلاف سندھ حکومت پر دباﺅ ڈالا جا رہا ہے کہ کارروائی کی جائے۔ڈان کی رپورٹ کے مطابق ان پر سنگین الزامات ہیں علی حسن کے خلاف کارروائی مرکز اور سندھ کے درمیان محاذ آرائی کا نکتہ آغاز ہے سنا ہے کہ زرداری نے قدوس بزنجو کو سامنے لانے کی جو تجویز دی تھی وہ بھی سختی کے ساتھ رد کر دی گئی ہے اسی طرح سردار اختر مینگل کی خالی نشست پر امیدوار طے کرنے میں بھی زرداری کو دشواری کا سامنا ہے کیونکہ طاقتور حلقے یہ موقع کھونا نہیں چاہتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے