بلوچستان کی قومی زبانوں کے اداروں کو سرکاری تحویل میں لینا قابلِ قبول نہیں، بلوچی اکیڈمی
کوئٹہ (پ ر) بلوچی اکیڈمی کا اڑسٹھواں ہنگامی جنرل باڈی اجلاس بلوچی اکیڈمی کمپلکس میں منعقد ہوا جس میں اکیڈمی کے ممبران نے بلوچستان کابینہ کی جانب سے منظور کردہ بلوچستان ریجنل لینگوئیجز، اکیڈمیز اینڈ لٹریری سوسائٹیز بل 2025 کی شدید مخالفت کی۔ اجلاس میں اس بل کو بلوچستان کی زبانوں، ادب اور ثقافت کو بیوروکریسی کے زیرِ انتظام لانے کی کوشش قرار دیا گیا۔اجلاس کے شرکاء نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی، صوبائی کابینہ کے وزراء اور چیف سیکریٹری بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ آزاد اور خودمختار ادبی و علمی اداروں کو محکمہ اسکول ایجوکیشن اور کلچر ڈیپارٹمنٹ کے زیرِ انتظام لانے کا فیصلہ واپس لیا جائے۔ ممبران کے مطابق یہ اقدام زبان و ادب کے فروغ کے لیے جاری آزادانہ جدوجہد اور علمی سرگرمیوں پر قدغن لگانے کے مترادف ہے، جس سے مختلف قوموں کی شناخت اور ان کے ادب و ثقافت کی ترقی و ترویج متاثر ہوگی۔ممبران نے بلوچستان حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس بل کو اسمبلی میں پیش نہ کیا جائے اور بلوچی سمیت براہوئی، پشتو اور ہزارگی زبانوں کی ترقی و ترویج کے لیے مزید مالی تعاون فراہم کیا جائے۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ بلوچی اکیڈمی بلوچستان کی قدیم، مستحکم اور زبان و ادب کے حوالے سے دنیا بھر کے بلوچوں کی نمائندہ علمی و ادبی درسگاہ ہے، جسے 1958 میں بلوچی زبان و ادب سے وابستہ ادیبوں اور دانشوروں نے قائم کیا۔ اکیڈمی اب تک ادب، تحقیق، تاریخ اور ثقافت کے موضوعات پر سات سو سے زائد کتابیں شائع کر چکی ہے۔بلوچی اکیڈمی ہر سال قومی اور بین الاقوامی سطح پر سیمینارز، کانفرنسز اور علمی ورکشاپس کا انعقاد کرتی ہے، جہاں مختلف موضوعات پر ادیب، دانشور اور محققین تبادلۂ خیال کرتے ہیں اور زبان و ادب کو درپیش مسائل کے حل اور نئے امکانات پر گفتگو کی جاتی ہے۔اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ بلوچی اکیڈمی اپنی خودمختار حیثیت برقرار رکھتے ہوئے زبان و ادب کی خدمت جاری رکھے گی اور ادارے کو کسی سرکاری محکمے کے زیرِ انتظام لانے یا بلوچی زبان و ادب کے معاملات میں بیوروکریسی کی مداخلت قبول نہیں کی جائے گی۔ممبران نے کہا کہ بلوچستان حکومت ہر سال دیگر ادبی و علمی اداروں اور شخصیات کی طرح بلوچی اکیڈمی کو بھی گرانٹ اِن ایڈ کی مد میں مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔ اس گرانٹ کا باقاعدہ آڈٹ نہ صرف اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان بلکہ آزاد چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرموں کے ذریعے بھی کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بلوچ زبان و ادب سے محبت رکھنے والی شخصیات اور دانشور بھی اکیڈمی کو عطیات فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچی اکیڈمی بلوچستان چیریٹیز اتھارٹی کے تحت ایک خودمختار ادبی ادارے کی حیثیت سے رجسٹرڈ ہے، لہٰذا اس کی خودمختاری، منصوبوں اور اہداف میں کسی قسم کی مداخلت قابل قبول نہیں ہوگی۔اجلاس کے اختتام پر ممبران نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی اور چیف سیکریٹری بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان لینگوئیجز، اکیڈمیز اینڈ لٹریری سوسائٹیز بل 2025 کو واپس لیا جائے۔ ممبران نے اراکین اسمبلی اور وزراء سے بھی اپیل کی کہ بلوچستان میں زبان و ادب کے فروغ کے لیے نیک نیتی، خلوص اور رضاکارانہ بنیادوں پر کام کرنے والے اداروں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور انہیں سرکاری تعاون فراہم کیا جائے تاکہ بلوچستان کی تمام اقوام کی زبانوں، ثقافت اور شناخت کو محفوظ اور زندہ رکھا جا سکے۔


