کوئٹہ سریاب مل میں میرے بیٹے، بہواور نو ماہ کے نواسے کو قتل کر نے والے ملزمان کو گرفتار کیا جائے، لواحقین
نوشکی (آن لائن) بابو محمد یعقوب محمد شہی کی والدہ نے کہا ہے کہ گزشتہ دنوں سریاب مل پھاٹک کے قریب عبدالمجید بادینی اور ان کے بیٹوں محبوب عرف معشوق اور عبدالرشید اور ان کے بھتیجے عبدالغفار نے بابو محمد یعقوب محمد شہی کو دھوکے سے گھر سے باہر بلا کر ان پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں بابو محمد یعقوب، ان کی اہلیہ مسما (س)اور ان کا نو ماہ کا بیٹا شایان گولیاں لگنے سے موقع پر جاں بحق ہوگئے، جبکہ ان کا دو سالہ بیٹا محمد الیاس معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔بابو محمد یعقوب محمد شہی کی والدہ اور بھابھی نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ 14 اگست 2025 کو میرے بڑے بیٹے ملک محمد یونس محمد شہی کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔ اس واقعے کی ایف آئی آر نوشکی پولیس تھانے میں درج کرائی گئی، مگر چھ ماہ کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود قاتلوں کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی۔انہوں نے مزید کہا کہ 2 مارچ کو میرے چھوٹے بیٹے بابو محمد یعقوب کو دھوکے سے گھر سے باہر بلا کر اندھا دھند فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں بابو محمد یعقوب، ان کی اہلیہ (س) اور ان کا 9 ماہ کا بیٹا شایان محمد شہی گولیاں لگنے سے موقع پر جاں بحق ہوگئے، جبکہ ان کا دو سالہ بیٹا محمد الیاس معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔ان کی والدہ نے کہا کہ اس واقعے کی بھی ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے، لیکن تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے وزیر اعلی بلوچستان، آئی جی پولیس بلوچستان اور دیگر حکومتی اداروں سے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ملزمان کی جانب سے ہمیں قتل کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں، اس لیے حکومت سے مطالبہ ہے کہ ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے اور ملزمان کی فوری گرفتاری عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قاتل آزادانہ طور پر گھوم رہے ہیں۔پریس کانفرنس کے دوران دو سالہ بچہ محمد الیاس، جو معجزانہ طور پر محفوظ رہا، اپنی دادی کے ہمراہ موجود تھا اس موقعے پر محمد یعقوب محمد شہی کے والدہ غم سے نڈھال ہوکر آبدیدہ ہوگئیں۔


