وفاقی آئینی عدالت سے بلوچستان کے سابق چیف سیکرٹریز کو تاحیات اضافی مراعات دینے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار
اسلام آباد (آن لائن) بلوچستان کے سابق چیف سیکرٹریز کو تاحیات اضافی مراعات دینے کا نوٹیفکیشن کالعدم قراردیدیا گیا ہے ۔وزیراعلی بلوچستان کی منظوری سے جاری کردہ اضافی مراعات کا نوٹیفکیشن خلاف قانون قرار دیا گیاہے۔وفاقی آئینی عدالت نے چیف سیکرٹری بلوچستان کی اپیل خارج کر دی ۔چار صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے تحریر کیا ۔وفاقی آئینی عدالت کے مطابق قانون کیخلاف کیا گیا ہر حکومتی اقدام بلاجواز ہوتا ہے، فیصلے میں کہاگیا ہے کہ ریٹائرڈ چیف سیکرٹریز اور انکی بیوگان کو تاحیات اضافی مراعات کی قانون میں گنجائش نہیں، ریٹائر منٹ پر پنشن اور دیگر مراعات مروجہ قانون کے مطابق ہی سکتی ہیں۔ فیصلہ کے مطابق قانون کے مطابق تنخواہ،پنشن اور مراعات کے رولز بنانے کا اختیار فنانس ڈپارٹمنٹ کو ہے، وزیرخزانہ یا چیف سیکرٹری مراعات اور پنشن کے حوالے سے کوئی اختیار نہیں رکھتے، موجودہ کیس میں وزیراعلی بلوچستان نے اضافی مراعات کی منظوری دی جو خلاف قانون ہے۔ وفاقی آئینی عدالت کے مطابق آئین میں صرف ان اقدامات کی اجازت ہے جن پر کوئی قانونی قدغن نہ ہو،بلوچستان حکومت نے سابق چیف سیکرٹریز اور انکی بیواﺅں کو تاحیات اضافی مراعات دی تھیں ۔بلوچستان ہائیکورٹ نے اضافی تاحیات مراعات خلاف قانون قرار دی تھیں ۔بلوچستان ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف صوبائی حکومت نے آئینی عدالت میں اپیل دائر کی تھی۔


