بلوچستان کے پشتون اور بلوچ کی ایک انچ زمین پر قبضہ نہیں ہونے دیں گے، سرکاری اسکول چلائے نہیں جا رہے اور نجی مدارس پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں، پاکستان ایک محصور مملکت کی شکل اختیار کر گیا ہے، ہم دہشت گردی کیخلاف جنگ لڑ رہے ہیں، لیکن یہاں دہشت گردی مسلسل بڑھ رہی ہے، مولانا فضل الرحمن

پشین (بلوچستان نیوز) جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ بلوچستان کے بلوچ اور پشتون عوام کے حقوق کی جنگ لڑیں گے بلوچستان کے پشتون اور بلوچ کی ایک انچ زمین پر قبضہ نہیں ہونے دیں گے سرکاری اسکول چلائے نہیں جا رہے اور نجی مدارس پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں دھاندلی زدہ اسمبلیوں کو تسلیم نہیں کرتے، بڑی اسلامی طاقتیں مل کر مضبوط بلاک بنائیں اسٹیبلشمنٹ سے اختلاف پر محبِ وطن شہریوں کو غدار کہنے کی فرسودہ سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا مدارس کو مغرب کے ایجنڈے پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، کوئی طاقت دینی مدارس کا خاتمہ نہیں کر سکتی قوم پرستوں میں جان نہیں، جمعیت علمائے اسلام نے فرقہ واریت اور لسانیت کے خلاف قوم کو متحد کرنے کی جنگ لڑی دہشت گردی کے خلاف جتنے آپریشنز کیے گئے، مرض اتنا ہی بڑھتا گیا، بارڈرز بند کر کے ملک کو معاشی طور پر تباہ کر دیا گیابیوروکریسی، اسٹیبلشمنٹ اور ناکام خارجہ پالیسی نے ملک کو محصور کیا، اسرائیل کو تسلیم کرنے کی سازشیں ناکام بنا دیںپیپلز پارٹی آئین اور اٹھارویں ترمیم کے تحفظ پر خاموش کیوں ہے؟ بھٹو کے بنائے آئین کا تحفظ جمعیت کرے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشین میں حقوقِ بلوچستان و تحفظِ مدارس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ،مولاناعبدالواسع،یونس عزیززہری،مولانا صلاح الدین ایوبی،کامران مرتضی ایڈوکیٹ،اصغر ترین،حافظ حمداللہ،ملک سکندر ایڈوکیٹ،زابدریکی،فیص محمد،عین اللہ شمس،عبدالرحمان رفیق اور دیگر مقررین نے خطاب کیامولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ میرے محترم دوستو، پشین کی تاریخ کا یہ بڑا جلسہ آپ کے اعتماد میں بہت بڑے اضافے کی علامت ہے۔ دنیا کی کوئی بھی طاقت ہمارے اس لازوال رشتے کو نہیں توڑ سکتی اور یہ رشتہ وقت کے ساتھ ساتھ مزید مضبوط ہوتا رہے گا جمعیت علمائے اسلام کا ایک ناقابلِ تسخیر قلعہ ہے اور دنیا کی کوئی بھی طاقت جمعیت علمائے اسلام کے اس قلعے کو کبھی بھی فتح نہیں کر سکے گی۔ آپ کے راستے میں طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالی گئیں، جن کا تذکرہ ابھی یہاں ہوا، لیکن کوئی بھی رکاوٹ آپ کے جذبے کے سامنے کارگر ثابت نہیں ہوئی اور اللہ تعالی نے آپ کے لیے راستے کھولے، حالات بنے اور آج ہم سب اس میدان سے پوری دنیا کو ایک بڑا اور واضح پیغام دینا چاہتے ہیںجمیعت علمائے اسلام محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک عظیم تحریک اور جہدِ مسلسل کا نام ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کا ایک قابلِ فخر ماضی اور ایک تابناک تاریخ ہے، جس کی پشت پر دو سو سال سے زیادہ کی طویل اور بے لوث قربانیاں موجود ہیں۔ ان عظیم اور لازوال قربانیوں کی بدولت ہی یہ تحریک ہمیشہ آگے بڑھتی رہے گی اور ان شا اللہ بہت جلد اپنے حقیقی مقاصد تک پہنچ کر دم لے گی تمام تر ناموافق حالات اور حکومتی رکاوٹوں کے باوجود طویل مسافتیں طے کر کے جلسہ گاہ پہنچنے والے لاکھوں کارکنوں اور عام عوام کے جوش و جذبے کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا اور تحریک کی کامیابی کے لیے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا ہے کہ آپ پاکستان کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، وہ پاکستان جو خالصتا اسلام کے نام پر بنا تھا لیکن ایک طویل عرصے تک اسے اپنا ائین نہیں مل سکا۔ جب ملک کو آئین ملا تو جمعیت علمائے اسلام نے اپنے پارلیمانی اراکین کے ساتھ مفکرِ کی ولولہ انگیز قیادت میں اس ملک کو ایک متفقہ اسلامی آئین دینے میں کلیدی اور تاریخی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس تاریخی جدوجہد کی بدولت ہی پاکستان میں اسلام کو ایک مملکتی نظام قرار دیا گیا اور ملک کے مروجہ ڈھانچے کو اس بات کا قانونی طور پر پابند بنایا گیا ملکی آئین کی رو سے پاکستان میں تمام تر قانون سازی صرف اور صرف قرآن و سنت کے احکامات کے مطابق ہی کی جائے گی اور یہاں قرآن و سنت کے منافی کوئی بھی قانون سازی ہرگز نہیں کی جا سکتی جمعیت علمائے اسلام نے ہمیشہ ملکی آئین کے اسلامی تشخص اور شعائرِ اسلام کا دفاع کیا ہے اور آئندہ بھی مدارسِ دینیہ اور اسلامی دفعات کے تحفظ کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ جمعیت کے اکابرین نے ملک کو نظریاتی اساس فراہم کی ہے اور موجودہ دور میں بھی جمعیت علمائے اسلام اسی نظریاتی اور آئینی محاذ پر پوری قوت کے ساتھ ڈٹی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے ختمِ نبوت کے حساس معاملے پر ایک غلط فیصلہ دیا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف پورے ملک میں ایک احتجاجی ہنگامہ برپا ہوا اور پھر مجھے خود سپریم کورٹ میں بلایا گیا۔ ہماری اصولی موقف کی بدولت چند گھنٹوں کے اندر اندر سپریم کورٹ کو اپنا وہ فیصلہ واپس لینا پڑا اور جس طرح ہم نے عدالت کو کہا اور جس طرح ہم نے لکھوایا، بالکل وہی فیصلہ سپریم کورٹ کی جانب سے صادر کیا گیا، جو ہماری نظریاتی فتح ہے۔ ہم نے اپنی تحریک کے تسلسل میں نظریاتی لحاظ سے کبھی بھی شکست نہیں کھائی۔ ہمارے سامنے جو بھی امتحان آیا اور جو بھی چیلنج پیش ہوا، ہم نے ہمیشہ اللہ تعالی کی ذات پر کامل بھروسہ کرتے ہوئے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور اپنے ووٹر، اپنے مخلص کارکن اور اپنی قوم کے اسلامی جذبے کو کبھی بھی شرمندہ نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے شرکا کے شدید جوش و خروش اور نعروں کی گونج میں دعوے سے کہا کہ آج جمیعت علمائے اسلام پاکستان کی سب سے بڑی عوامی، سیاسی اور نظریاتی قوت بن چکی ہے، جسے کسی بھی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے ایک طویل زمانے سے عوام کے ساتھ گہرا اور مسلسل رابطہ قائم رکھا ہوا ہے۔ جب بھی ہم نے پاکستان کے غیور عوام کو کسی مقصد کے لیے آواز دی، قوم نے ہمیشہ ہماری اس آواز پر لبیک کہا اور اس کے نتیجے میں ہم نے ہمیشہ اپنے ہی گزشتہ جلسوں کے تاریخی ریکارڈز توڑ دیے۔ عوام کیوں ہماری آواز پر اتنی بڑی تعداد میں اکٹھی ہوتی ہے اور پبلک کیوں ہر جگہ ہمارا پرجوش طریقے سے خوش آمدید کہتی ہے؟ یہ دراصل عوام کا ہماری قیادت اور جمعیت کے پاکیزہ منشور پر کامل اور اٹوٹ اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہم نے ابھی حال ہی میں روشنیوں کے شہر کراچی میں محض ایک ضلعے کا جلسہ کیا تھا، اور جمیعت کی عوامی قوت کا عالم یہ تھا کہ وہ صرف ایک ضلع کا جلسہ بھی ایک عظیم الشان ملین مارچ کا منظر پیش کر رہا تھا۔ ملک کے چاروں صوبوں کے عوام اب یہ جان چکے ہیں کہ جمیعت علمائے اسلام ہی ان کے حقوق، عقیدے اور ملکی بقا کی حقیقی ضامن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام تر منفی پروپیگنڈے اور رکاوٹوں کے باوجود جمعیت کی مقبولیت کا گراف مسلسل اوپر جا رہا ہے اور پشین کا یہ تاریخی سمندر اس سچائی پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے ایک طویل جدوجہد کے ذریعے اس ملک سے فرقہ واریت اور اس کی بنیاد پر پھیلائی جانے والی تمام نفرتوں کو بری طرح شکست دی ہے۔ اسی طرح ہم نے قومیتوں کی بنیاد پر ابھاری جانے والی منافرت کا خاتمہ کر کے دم لیا ہے صوبائیت، قومیت، لسانیت، علاقائیت اور فرقہ واریت کے نام پر کی جانے والی نفرت انگیز سیاست کو اگر ملک سے کسی نے ہمیشہ کے لیے مٹایا اور ختم کیا ہے، تو وہ صرف اور صرف جمعیت علمائے اسلام کی اس مخلص اور پاکیزہ تحریک نے کیا ہے جمیعت نے ہمیشہ چاروں صوبوں کے عوام کو ایک لڑی میں پروئے رکھا ہے اور تفریق کی سیاست کرنے والے عناصر کا راستہ روکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں پائیدار امن اور ترقی صرف اسی صورت ممکن ہے جب ہم لسانی اور علاقائی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اسلامی اخوت کو گلے لگائیں۔ جمیعت علمائے اسلام نے اپنے اسی نظریے کے تحت ملک بھر کے تمام طبقات کو ایک پرامن سیاسی پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا ہے، اور آج کا یہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا عوامی سمندر اس بات کا گواہ ہے کہ قوم نے نفرتوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے جمیعت کے اتحاد اور محبت کے پیغام کو قبول کر لیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ جو لوگ قوم پرست کہے جاتے ہیں ان میں اب اتنی جان نہیں رہی، وہ بیچارے تو بس اب نام کے ہی رہ گئے ہیں۔ الحمدللہ، ہم نے ہمیشہ پاکستان کی بقا اور سلامتی کی سیاست کی ہے۔ اگر اس ملک میں قوم کو فرقوں، لسانیت اور نفرتوں کی بنیاد پر لڑایا گیا، تو جمیعت علمائے اسلام نے ہمیشہ قوم کو متحد کرنے کی عملی جنگ لڑی ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان کی بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ یہاں کی غیور قوم کو آپس میں لڑا کر ان پر حکومت کرنے کی کوشش کی ہے، جو کہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ وہ خود جرم بھی کرتے ہیں اور اپنے تیور بھی اونچے رکھتے ہیں، اور ساتھ میں یہ دھمکی بھی دیتے ہیں کہ ہمارے اوپر کسی قسم کی تنقید نہ کرو۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ بھائی، اگر تم پاک ہو گے تو ہم تم کو پاک کہیں گے، ورنہ غلط پالیسیوں پر آواز اٹھائی جاتی رہے گی۔ جمعیت علمائے اسلام نے ہمیشہ ملکی مفاد اور عوامی حقوق کی پاسداری کی ہے اور بیوروکریسی یا اسٹیبلشمنٹ کے ایسے کسی بھی دبا کو کبھی تسلیم نہیں کیا جو عوام کی فلاح اور ملکی یکجہتی کے خلاف ہو۔انہوں نے کہا ہے کہ ہمارے پالیسی ساز کیا پالیسیاں بنا رہے ہیں؟ یہ کون سی عقل ہے اور کیا یہ پاکستان کا مفاد ہے کہ ہندوستان کا بارڈر مکمل بند، افغانستان کا بارڈر مکمل بند، گویا آپ مغرب اور مشرق دونوں طرف تجارت اور کاروبار نہیں کر سکتے۔ ایران جن حالات میں ہے، وہ آپ کے نہ اچھے کا ہے نہ برے کا، جبکہ چین کا ایک چھوٹا سا کاروبار ہے، اسے بھی آپ نے بند کر رکھا ہے اور اس پر کوئی فعالی نظر نہیں آ رہی۔ آپ نے ہر طرف سے پاکستان کو غیر محفوظ بنا کر محصور کر دیا ہے، یہ کون سی عقل کی پالیسی ہے کہ آج پاکستان ایک محصور مملکت کی شکل اختیار کر گیا ہے؟ یہ کون سی سیاست اور کون سی پالیسی ہے؟ دعوی کر رہے ہیں کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہاں دہشت گردی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ آپ دہشت گردی کے خلاف پچھلی تین چار دہائیوں سے لڑ رہے ہیں، آپ نے سوات سے لے کر پورے خیبر پختونخوا میں کتنے ہی فوجی آپریشنز کیے اور ہر آپریشن کے نتیجے میں یہی کہا گیا کہ آپ ملک کے لیے لڑ رہے ہیں، لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، اور ملک کو مسلسل نقصان پہنچتا رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان ناکام پالیسیوں کی وجہ سے عوام میں شدید مایوسی پھیل چکی ہے اور ملکی معیشت و سیکورٹی دونوں تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں، جس کے لیے پالیسی سازوں کو اپنی روش بدلنا ہو گی۔انہوں نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر جمہوریت کا یہ حال ہو گیا ہے جس طرح ٹرمپ کا حال ہے، مغربی دنیا سرمایہ دارانہ نظام کو دوبارہ مستحکم کر رہی ہے جس سے جمہوریت کو دفن کیا جا رہا ہے یہاں پاکستان اور افغانستان کے علاقوں میں ایسی تنظیمیں موجود ہیں جن کی باگ ڈور مغرب سے ہل رہی ہے اور وہ جمہوریت کے خاتمے کے لیے فتوے لگا رہی ہیں، یہ نام نہاد مذہب وہاں سے آ رہا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں ہوئیں اور مختلف لابیوں نے اس پر کام شروع کیا، لیکن جمعیت علمائے اسلام نے کراچی میں پہلا ملین مارچ کیا اور پھر ملک بھر میں تحریک چلا کر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی تمام سازشوں کو پاکستان میں شکست دے دی، یہ ہے جمیعت کی اصل سیاست۔ جمیعت علمائے اسلام کا منشور ایک اسلامی بلاک کی بات کرتا ہے اور اسلامی دنیا کو اب ایک مضبوط بلاک بننا پڑے گا۔ جب سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدہ ہوا تو ہم نے اسے اسلامی بلاک کی طرف ایک بڑا قدم قرار دے کر اس کی بھرپور حمایت کی تھی، تاہم اسرائیل کے ناپاک وجود کو ختم کرنے کے لیے پوری اسلامی دنیا کو ایک ہونا ہوگا پاکستان میں یہ صلاحیت موجود ہے، اصل مسئلہ حکمرانوں کے عزم اور ان کی قوتِ ارادی کا ہے جو کہ انتہائی کمزور ہے؛ ہمارے حکمران کمزور ہیں لیکن پاکستان کمزور نہیں۔ ان حکمرانوں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اسلامی دنیا کے اتحاد کے لیے آگے بڑھیں گے، عالمی استعمار کے خلاف آواز بنیں گے یا مغرب کے جبر کے خلاف لڑیں گے، بالکل فضول ہے کیونکہ ان سے ہمیں کوئی توقع نہیں ہے۔ اب جمیعت علمائے اسلام کو آگے آنا ہوگا اور ہم ہی اس غیور قوم کی حقیقی نمائندگی کریں گے۔انہوں نے کہا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکی، ایران، انڈونیشیا اور ملائیشیا جیسے بڑے اور اہم اسلامی ممالک آگے بڑھیں اور مل کر ایک مضبوط "اسلامی دنیا کا بلاک” تشکیل دیں۔ ہم تو شروع سے ہی ایشیائی ممالک کے اتحاد کے بھی علمبردار رہے ہیں؛ حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ اور ان کے بعد مولانا عبید اللہ سندھی رحمہ اللہ نے "ایشیاتک فیڈریشن” کا شاندار تصور پیش کیا تھا، لیکن بدقسمتی سے ہم یہاں اپنے علاقائی تنازعات میں اس طرح گر جاتے ہیں کہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بھی ایک پرامن ماحول بنانے میں ناکام رہتے ہیں۔ ہمیں اسلامی دنیا کے ساتھ مضبوط معاشی و دفاعی معاہدے کرنے ہوں گے اور اس کے لیے اپنی مجموعی سوچ کی تبدیلی کی سخت ضرورت ہے۔یہاں تو ایک طاقتور ذہن بن چکا ہے جو کہتا ہے کہ جو کچھ ہم کہتے ہیں، بس وہی پاکستان کی وفاداری ہے؛ میں معذرت کے ساتھ ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ اب یہ تاریخ گزر چکی ہے اور یہ دراصل انگریز کا چھوڑا ہوا فرسودہ ورثہ ہے۔ برصغیر میں جو انگریز کا مخالف تھا، وہ چاہے ہزار مرتبہ ہندوستان کا کتنا ہی بڑا وفادار کیوں نہ ہو، انگریز اسے ہمیشہ غدار ہی کہتا تھا، جبکہ انگریز کی خوشامد کرنے والے اور ان کے ٹکڑوں پر پلنے والوں کو جاگیریں عطا کی جاتی تھیں اور وہ بڑے وفادار کہلاتے تھے۔ آج پاکستان میں بھی وہی روایات چلی آ رہی ہیں کہ کوئی شخص پاکستان کا کتنا ہی بڑا وفادار کیوں نہ بن جائے، لیکن اگر اس نے اسٹیبلشمنٹ کی رائے سے ذرا سا بھی اختلاف کیا تو اسے فورا غدار قرار دے دیا جاتا ہے۔ ہمیں اس فرسودہ فکر، سوچ اور ترجیحات کو ہر صورت تبدیل کرنا ہوگا۔ انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ اگر ہم نے ملک سے فرقہ واریت، قادیانی لابی، اسرائیلی لابی اور قوموں کے درمیان نفرت پھیلانے والی سیاست کو شکست دی ہے، تو ان شا اللہ ہم اس ذہنیت کو بھی شکست دیں گے کہ اسٹیبلشمنٹ سے اختلافِ رائے رکھنے پر پاکستان کے سچے وفاداروں کو غدار کیوں کہا جاتا ہے۔ ہم سب پاکستانی ہیں، ملکی معاملات کو ٹھیک کرو اور اس قوم کے افراد کو مطمئن کرو۔ یہ کس قسم کا الیکشن تھا جہاں بدترین دھاندلی کر کے اپنی من پسند اسمبلیاں بنا دی گئیں؟ سندھ کی اسمبلی جس طرح بنائی گئی اور پنجاب کی اسمبلی جس طرح وجود میں آئی، یہ سارے کے سارے وہ سنجیدہ سوالات ہیں جو ہمارے ملک کے پورے سیاسی نظام کے اوپر ایک بڑا داغ ہیں۔ جمیعت علمائے اسلام نے اس ناانصافی کے خلاف اور حقیقی جمہوریت کی بحالی کے لیے ایک طویل جنگ لڑنی ہے اور اس محاذ پر پوری غیور قوم ہمارے ساتھ ایک پیج پر کھڑی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے ملک و قوم کی بقا کے لیے ایک طویل جنگ لڑنی ہے اور ان شا اللہ پوری قوم کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنا ہے تاکہ ہم پاکستان کو حقیقی معنوں میں یکجا کر سکیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ آج اگر پاکستان متحد ہے اور یہاں کے عوام ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، تو یہ صرف اور صرف جمیعت علمائے اسلام کے مثبت اور مخلصانہ کردار کی وجہ سے ہے۔ دوسری طرف مقتدر قوتوں نے ہمیشہ یہاں نفرتیں پیدا کیں اور قوموں کو آپس میں لڑانے کی سازشیں کیں۔ وہ انسانی حقوق کے نام پر دعوے کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسانی حقوق کا اصل محافظ صرف اللہ تعالی کا عطا کردہ ضابطہ اور قانون ہے، جسے مٹانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ہم بلوچستان میں صوبے کے غیور عوام کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔ اگر ریاستی قوتوں نے پشتون بیلٹ کی زمینوں پر قبضہ کیا ہے یا بلوچوں کی زمینوں اور ان کے پہاڑوں پر قبضہ جمایا ہے، تو میں انہیں واضح طور پر بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہم بلوچستان کے چاہے پشتون عوام ہوں یا بلوچ عوام، ان کی ایک انچ زمین بھی کسی صورت آپ کے حوالے نہیں ہونے دیں گے۔ جمعیت یہاں کے چپے چپے اور مقامی آبادی کے حقوق کی محافظ ہے اور کسی بھی غیر آئینی قبضے کے خلاف عوام کے ساتھ فرنٹ لائن پر کھڑی رہے گی۔ ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پاکستان کا متفقہ آئین بنا تھا، جس پر میرے والد محترم(مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ)نے دستخط کیے تھے۔ میں تو اج بھی اس تاریخی آئین کو تحفظ دینے کا پختہ عزم کر رہا ہوں، لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج آپ کی آنکھوں کے سامنے اگر اس آئین کو مسخ کیا جا رہا ہے، صوبوں کے حقوق تباہ و برباد کیے جا رہے ہیں اور صوبوں کا باہمی اعتماد خراب کیا جا رہا ہے، تو آپ بتائیں کہ کیا آپ واقعی ذوالفقار علی بھٹو کے راستے پر چل رہے ہیں؟ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں مارشل لائ نے آئین کو جتنا خراب اور گندا کر دیا تھا، اسے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صاف کیا گیا۔ اس وقت آپ کی حکومت تھی اور ہم سب مل کر نو مہینے تک ایک کمیٹی میں بیٹھے، پورے آئین کو صاف کیا اور متفقہ طور پر ایوان سے پاس کرایا۔ آج جب ہم اس اٹھارویں ترمیم اور صوبائی خودمختاری کے تحفظ کی بات کرتے ہیں تو پیپلز پارٹی کیوں خاموش ہے اور کس بات کی کمزوری دکھا رہی ہے؟ ہم تو صوبوں کے حقوق کے لیے آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، پھر آپ کیوں پیچھے ہٹ رہے ہیں اور سودے بازی کر رہے ہیں؟ جمیعت اس آئین کی حفاظت آخری دم تک کرے گی۔انہوں نے کہا ہے کہ یہاں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور یہ بات کرتے ہیں دینی مدارس کے طلبا کی؛ عجیب بات یہ ہے کہ آج سرکاری کالجز اور اسکولوں کو پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ حکومت اپنی نااہلی کی وجہ سے سرکاری تعلیمی اداروں کی حیثیت ختم کر کے انہیں نجی شعبے کو دے رہی ہے۔ جو اسکول تمہارے اپنے انتظام میں چل رہے ہیں، وہ تم سے چلائے نہیں جا رہے اور دوسری طرف دینی مدارس جو مکمل طور پر پرائیویٹ سیکٹر میں اپنے بلبوتے پر بہترین کام کر رہے ہیں، تم انہیں زبردستی سرکاری تحویل میں لانا چاہتے ہو۔ حکومت مدارس کی طرف دیکھنے سے پہلے اسکولوں، کالجوں اور وہاں سے فارغ تحصیل بے روزگار نوجوانوں کے حوالے سے اپنی عبرت ناک ناکامیاں تو چھپائے۔ ہم سے کہا جاتا ہے کہ مدارس والے فارم پر کریں تاکہ کوئی دہشت گرد مدرسے میں نہ آ جائے۔ کیا دہشت گرد یونیورسٹیوں کے ہاسٹلز، کالجوں اور اسکولوں سے نہیں پکڑے گئے؟ جب یونیورسٹیوں سے دہشت گرد پکڑے گئے اور وہاں سے لاشیں نکلیں، تب تو تم نے وہاں کے نظام میں کوئی تبدیلی نہیں کی، لیکن سارا دبا صرف اور صرف دینی مدارس پر ڈالا جا رہا ہے۔ میں آج اس تاریخی پلیٹ فارم سے دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ تم دینی مدارس کی خیر خواہی میں یہ اقدامات نہیں کر رہے، بلکہ تم امریکہ اور مغرب کی اندھی پیروی میں یہ سب کچھ کر رہے ہو۔ انہوں نے پشین کے لاکھوں کے مجمعے کے سامنے کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ آج اس جلسے کے ذریعے ہم پوری دنیا کو یہ صاف پیغام دینا چاہتے ہیں کہ تمہارا باپ بھی دینی مدارس کو ختم نہیں کر سکے گا۔انہوں نے تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان حکمرانوں کو پتہ ہی نہیں ہے کہ دینی علم کس کو کہتے ہیں۔ برصغیر میں دینی علم اور مدرسے کا خاتمہ انگریز نے کیا تھا، جب اس نے اپنے لائے ہوئے نصاب سے قرآن و حدیث کو نکال باہر کیا تھا، اس وقت ہمارے اسلاف اور علما کرام نے اس علم کو سنبھالا اور آج ایک بار پھر تمہارے ہاتھوں قرآن و حدیث کے علوم خطرے میں ہیں۔ تم آج بھی اسی مذموم سازش میں مصروف ہو کہ مدارس اور علما کو آپس میں لڑا دیا جائے؛ پتا نہیں کہاں کہاں کس کونے سے ایسے لوگوں کو نکال لیتے ہو اور غیراہم لوگوں کو اٹھا کر جمعیت کے مقابلے میں کھڑا کرنے کی کوشش کرتے ہو، لیکن ہم جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور اپنی بساط کے مطابق اللہ کی مدد اور خالص نیت کے ساتھ میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کارکنوں کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہماری نیت اللہ کے دین کی سربلندی ہے تو یہی حقیقی جہاد ہے اور اس کے علاوہ کوئی جہاد نہیں ہوتا۔ مدارس کے تمام مہتمم اور علما ہمارے لیے قابلِ احترام ہیں اور جمیعت آخری دم تک ان کے تحفظ کی جنگ لڑتی رہے گی۔انہوں نے کہا ہے کہ جمیعت علمائے اسلام کے غیور کارکن اور علما ہمیشہ سر اٹھا کر چلنے کے لیے ہیں، سر جھکا کر چلنے کے لیے نہیں، اور ان شا اللہ ہمارا یہ نظریاتی سفر پوری آب و تاب کے ساتھ جاری رہے گا جہاں دینی مدارس کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے، وہی عوام کے حقوق کی جنگ بھی ہماری تحریک کا بنیادی حصہ ہے۔ بلوچستان کے حقوق ہوں، بلوچوں کے حقوق ہوں یا پشتونوں کے حقوق ہوں، جمیعت علمائے اسلام ان تمام مظلوم طبقات کے حقوق کی جنگ پوری قوت کے ساتھ لڑ رہی ہے اور ہم اسی پلیٹ فارم سے پورے ملک کو اتحاد، یکجہتی اور محبت کا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ پشین کے اس تاریخی معرکے کے بعد اب یہ تحریک پورے ملک میں پھیلائی جائے گی اور اس سلسلے میں آنے والی 18 جون کو چارسدہ میں ایک بہت بڑا اور تاریخی جلسہِ عام منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جمیعت علمائے اسلام دراصل ایک جہدِ مسلسل کا نام ہے، یہ اپنے ماضی کی روشن قربانیوں کی روشنی میں اپنے شاندار مستقبل کی طرف گامزن ہے اور ان شا اللہ اس حق کے راستے پر چلتے چلتے ہم اپنی جانیں بھی اللہ کے سپرد کر دیں گے اگر عزم بلند رہے اور نیت صاف ہو تو دنیا کی کوئی بھی طاقت آپ کا راستہ نہیں روک سکتی اور کامیابی ان شا اللہ آپ ہی کا مقدر بنے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں