پشتون اور بلوچ تاریخی طور پر وسطی ایشیا کے لوگ ہیں، دریائے سندھ کے اس پار اوپر سے نیچے تک بارود کا ڈھیر ہے، کیوں اپنے بچوں کو اتنا مجبور کرتے ہیں کہ وہ دوسروں سے امداد مانگیں خدانخواستہ وہ وقت آ گیا، تو نہ رہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری، محمود اچکزئی

کوئٹہ (ویب ڈیسک) تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سوشل میڈیا اکاﺅنٹ ایکس پر پوسٹ سربراہ محمود خان اچکزئی نے صحافی کے سوال کے جواب میں کہا ہے کہ ہمارے پاس وقت بہت کم ہے۔ بہت کم ہے۔ افغانستان کی مثال ہمارے سامنے ہے، وہاں لوگ جو کچھ کہہ رہے ہیں (وہ سب جانتے ہیں)۔ پشتون وطن میں تو ہر جگہ بارود (جنگ و جدل) کا کھیل شروع ہو چکا ہے۔ یہ تو پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ اب تک لوگوں نے یہ فیصلہ نہیں کیا کہ خدانخواستہ کوئی دوسرا راستہ اختیار کریں۔ اگر ایسا ہوا، تو پھر کیا ہوگا؟ دریائے سندھ کا بالائی علاقہ، جہاں پشتون اور بلوچ دونوں آباد ہیں، تاریخی طور پر یہ وسطی ایشیا کے لوگ ہیں۔ یہ دونوں وسطی ایشیا کے لوگ ہیں پشتون اور بلوچ دونوں۔ دریائے سندھ کی اس طرف پنجاب اور سندھ ہیں، اور یہ برصغیر کے لوگ ہیں۔ دریائے سندھ کے اس پار، اوپر سے نیچے تک بارود کا ڈھیر ہے۔ کوئی بھی طاقت اس صورتحال کو کسی بھی وقت اپنے فائدے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ اور وہ کیوں نہ کریں؟ اگر ہندوستان یا کوئی اور ایسا کر رہا ہے، تو کیوں نہ کرے؟ آپ کیوں اپنے بچوں کو اتنا مجبور کرتے ہیں کہ وہ جا کر دوسروں سے امداد مانگیں؟ اور اگر خدانخواستہ وہ وقت آ گیا، تو نہ رہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری۔

اپنا تبصرہ بھیجیں